مسجد کے معاملے میں مسلمانوں کے خدشات دور کرنے کا مطالبہ

نئی دہلی: پاپولر فرنٹ آف انڈیا کی مرکزی سکریٹریٹ کے کالیکٹ میں منعقدہ اجلاس نے سپریم کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے پر سخت اعتراض جتایا ہے، جس میں کورٹ نے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے 1994 کے اس فیصلے کو برقرار رکھا ہے کہ مسجد اسلام کا لازمی جزؤ نہیں ہے اور نماز کہیں اور بھی ادا کی جا سکتی ہے۔ اجلاس نے اس مقدمے کو آئینی بنچ کے حوالے کرنے سے سپریم کورٹ کے انکار کو بدنصیبی سے تعبیر کیا ہے۔
ایسا لگتا ہے جیسے عدالت عظمیٰ نے اس فیصلے کے دور رس نتائج پر کوئی توجہ ہی نہیں دی ہے۔ اسلام میں مسجد کی اہمیت اس حقیقت سے بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ مسلمانوں کو دن میں پانچ وقت اور جمعہ کے روز نمازِ جمعہ کی مسجد میں باجماعت ادائیگی کا حکم دیا گیا ہے۔ اجلاس نے کہا کہ اسلام، عیسائیت یا ہندو مت کسی بھی مذہب میں عبادتگاہ کی اہمیت پر کوئی رائے ظاہر کرنا یا فیصلہ صادر کرنا ہندوستان کے سیکولر عدالتی نظام کے دائرہئ کار میں داخل نہیں ہے۔
اس ضمن میں مزید وضاحت کی ضرورت ہے کہ اس فیصلے سے بابری مسجد مقدمے پر کوئی اثر نہیں ہوگا کیونکہ اس پر دی گئی درخواست اوّلاً بابری مسجد سے ہی متعلق ہے اور اس معاملے میں الٰہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بطورِ نظیر استعمال کا امکان اب بھی باقی ہے۔ مزید برآں، سپریم کورٹ کو چیلنج کرکے رام مندر کی تعمیر کا اعلان کرنے والی ہندوتوا طاقتوں نے پہلے ہی اس فیصلے کو اپنی جیت کے طور پر منانا شروع کر دیا ہے۔ کورٹ نے اپنے زیر غور ایک قومی اہمیت کے حامل معاملے کے سیاسی استعمال سے ان طاقتوں کو روکنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے۔ اس لیے پاپولر فرنٹ عدالت عظمیٰ سے اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنے اور اس معاملے میں مسلمانوں کے خدشات کو دور کرنے کی اپیل کرتی ہے۔
اجلاس نے آدھار کو منظوری دینے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کو پریشان کن بتایا ہے۔ پاپولر فرنٹ کا ماننا ہے کہ آدھار حکومت کا انتہائی پیمانہ ہے جو کہ شہریوں کی آزادی اور پرائیویسی کے لیے مضر ہے۔ البتہ اجلاس نے آدھار ایکٹ کی شق 57 کو ختم کرنے اور پرائیویٹ کمپنیوں اور بینکوں کو اپنی خدمات دینے کے لیے آدھار کو ضروری قرار دینے سے منع کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ لیکن کورٹ یہ نہیں سمجھ پائی کہ کس طرح سے شہریوں کے حقوق اور حکومتی فلاحی اسکیموں اور خدمات کو ایک کارڈ سے جوڑنا شہریوں کے خلاف حکومت کے ہاتھوں میں ایک دودھاری تلوار بن جاتا ہے۔
مرکزی سکریٹریٹ کا یہ بھی کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے ذریعہ زنا کو جائز قرار دیے جانے سے ایک طرف جہاں شادی کے تقدس کو چوٹ پہنچے گی وہیں دوسری طرف خاندانی اقدار بھی کمزور ہو جائیں گی۔ یہ بڑے دکھ کی بات ہے کہ فیصلے میں اس بات کا خیال نہیں کیا گیا کہ زناکار افراد اپنے شریک اور اپنے بچوں کے لیے مصیبت کا سامان بن سکتے ہیں۔
چیئرمین ای ابوبکر نے اجلاس کی صدارت کی، جس میں او ایم اے سلام، ای ایم عبدالرحمن، کے ایم شریف اور عبدالواحد سیٹھ شریک رہے۔
Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *