مسلمانوں کو رزرویشن کب دیں گے ملائم

محمد اقرار، جواہرلعل نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی
محمد اقرار، جواہرلعل نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی

اترپردیش میں جب ۲۰۱۲ اسمبلی انتخابات کی مہم چل رہی تھی، تو سماجوادی پارٹی کے صدر ملائم سنگھ یادو نے پوری ریاست میں گھوم گھوم کر مسلمانوں کو وہ سبز باغات دکھائے تھے، جن سے کچھ مسلمان اب تک نادیدہ ہریالی اور ناخوردہ پھلوں کی امّید لگائے ہوئے ہیں: ’’کبھی تو ہوگی اس چمن پہ بھی بہار کی نظر‘‘۔

۲۰۱۲ میں جب سماجوادی پارٹی بر سر اقتدار ہوئی تو اس سے بڑی امّیدیں تھیں۔ انتخابات کے نتائج کا اعلان ہو تے ہی مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور امّیدوں کا سمندر جوش مارنے لگا۔ سب سے زیادہ جو خوشی تھی، وہ نو جوان مسلمانوں میں ۱۸ فیصد رزرویشن کو لیکر تھی۔ ان امّیدوں میں تب اور اضافہ ہوا جب اعلان کیا گیا کہ اکھلیش یادو کو وزیر اعلیٰ بنایا جائے گا۔ سب کو لگا کہ نوجوانی کے نئے جذبے اور نئی سوچ کے دم پر اکھلیش کچھ نیا کریں گے، اور ہوا بھی۔ وزیر اعلیٰ نے اپنے انتخابی منشور کو بہت تیزی کے ساتھ پورا کرنا شروع کر دیا۔ دنادن لیپ ٹاپ بانٹے گئے، طلبہ کو وظائف دیے جانے لگے، بے روزگاروں کو بے روزگاری بھتّہ دیا گیا، تو مسلمانوں کو لگا کہ وزیر اعلیٰ مسلمانوں سے کیا ہوا اپنا ۱۸ فیصد رزرویشن کا وعدہ بھی جلد ہی پورا کریں گے۔ پھر کیا تھا ”سیفئی مہوتسو“ دھوم دھام سے منایاجانے لگا، مادھوری کے ٹھمکے لگے، نیتا جی کے یوم پیدائش پر ۷۵ فٹ اونچا کیک کاٹا گیا، امریکی ٹور سے لے کر بھینسوں کی برآمدگی تک، سب کچھ ہوا مگر مسلمانوں کو رزرویشن نہیں ملا۔

ملائم سنگھ یادو کیوں وعدہ خلافی کر رہے ہیں؟ ملک میں کتنی جگہوں پر رزرویشن کی مانگیں پوری کی جا رہی ہیں۔ ہریانہ میں مانگ پوری ہوئی تو گجرات میں بھی ۱۰ فیصد رزرویشن کا اعلان کیا جا چکا ہے اور جو مانگ کرنے والے لوگ تھے، وہ اعلی طبقوں سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ مسلمانوں کی حالت تو آج دلتوں سے بھی بدتر ہے۔ سچر کمیٹی اور رنگناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ میں پہلے ہی مسلمانوں کے لئے رزرویشن کی سفارش کی جا چکی ہے۔ پھر بھی ملائم اسے نظر انداز کر رہے ہیں۔ کہیں ملائم سنگھ یہ تو نہیں چاہتے کہ مسلمان بھی ریل کی پٹری اکھاڑیں، سرکاری دفتروں اور گاڑیوں کو آگ کے حوالے کردیں، سڑکیں جام کریں اور پورے ملک میں بدامنی پھیلا ئیں، جس کو لیکر انہیں نشانہ بنایا جائے، نوجوانوں کو جیل کی کال کوٹھریوں میں قید کر دیا جائے اور سماجوادی پارٹی پھر وہی نو جوانوں کی رہائی کے نام پر مسلمانوں کو ’رسگلّہ‘ دکھا کر ’گلگلّہ‘ کھلادے۔

اگر ملائم سنگھ یہ غلط فہمی پالے ہوئے ہیں، تو انہیں اس غلط فہمی سے باہر آنا چاہئے، کیونکہ مسلمان ایسا کچھ بھی نہیں کرنے والے۔ ہاں، اگر رزرویشن نہین دیا گیا تو آنے والے ۲۰۱۷ کے انتخابات میں ہاتھ ملتے رہ جائیں گے اور سماجوادی پارٹی کو اتنی بڑی قیمت چکانی پڑے گی، جس کی بھرپائی کبھی نہیں ہو پائے گی اور جس طرح آج مسلمان ۱۸ فیصد رزرویشن کا انتطار کر رہے ہیں، اسی طرح سماجوادی پارٹی کو مسلمانوں کے ووٹ کا انتظار کرنا پڑے گا، اور وہ پارٹی جو مسلمانوں کے دم پر اقتدار میں آتی ہے، مسلمانوں کے ووٹ کو ترس جائے گی۔

پل بھر کی بات میں برسوں کے یارانے گئے

چلو اچّھا ہی ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *