مسلمانوں کے حکمراں

ترکی کے صدر رجب طیب اردگان

ممتاز میر
وہی ہوا جس کا ڈر تھا، نئی اطلاعات بتاتی ہیں کہ ترکی کی سعودی قونصلیٹ میں داخل ہونے کے بعد جمال خشوگی کو صفحہً ہستی سے مٹا دیا جائے گا، یہ بات امریکہ اور برطانیہ کو ہی نہیں ترکی کو بھی معلوم تھی، بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر ایک مضمون ایسا بھی نظر سے گزرا جس میں بتایا گیا تھا کہ جس طرح امریکہ نے صدام حسین کے غبارے میں ہوا بھر بھر کر اسے کویت پر حملہ کرنے کے لیے مجبور کیا تھا بالکل اسی طرح امریکہ اور برطانیہ نے سعودی احمق شہزادے کو چابی بھر کر دماغ میں بٹھایا کہ اپنا ہی راج ہے۔ جمال خشوگی کے ٹکڑے ٹکڑے کردو اور جس طرح اسامہ بن لادن کی بات احمق شہزادے کے بزرگوں کی سمجھ میں نہ آئی تھی بالکل اسی طرح امریکہ اور برطانیہ کا بچھایا ہوا جال عقل سے عاری عاقبت نا اندیش شہزادے کی بھی سمجھ میں نہ آیا۔ غرور عقل کو کھا جاتا ہے ۔بیوقوف یہ سمجھتا رہا کہ جنہوں نے اسے تخت پر بٹھایا ہے وہ اس کا تختہ کیسے کر سکتے ہیں۔ جب انسان خدا کا باغی بنتا ہے تو وہ معمولی معمولی اشیاء کے حصول کی خاطر بے شرمی اور ذلالت کے ریکارڈ توڑتا ہے۔ ممکن ہے شاہی خاندان میں امریکہ اور برطانیہ کو اس سے بھی بڑا کوئی لالچی میسر آگیا ہو جو اس سے بھی زیادہ ایمان فروشی کا مظاہرہ کرنے کو تیار ہو۔ اس کے علاوہ ۲؍ اکتوبر سے پہلے والی ٹرمپ اور محمد بن سلمان کی جملے بازی بھی قارئین کو یاد رکھنی چاہیے۔ اب معلوم نہیں خادم الحرمین شریفین کو ’ہفتے‘ کے ساتھ ساتھ ٹرمپ کی اور کیا کیا خدمت کرنی پڑتی ہے۔
خیر، امریکہ اور برطانیہ سے ہمیں کوئی شکایت نہیں۔ فی الوقت ہمارا مسئلہ رجب طیب اردگان ہیں جو اگر یہ کہا جائے کہ ’امیرالمومنین‘ بنے ہوئے ہیں، تو غلط نہ ہوگا۔ ان کے ساتھ ایسا کیا ہوگیا کہ انہوں نے امریکی پاسٹر (یا دہشت گرد) اینڈریو برونسن کو بلا شرط رہا کر دیا۔ چلیے یہ کوئی اسٹریٹجک معاملہ ہو سکتا ہے۔ برا تو لگتا ہے مگر اس پر کوئی تنقید نہیں کی جا سکتی۔ البتہ، ایک زندہ انسان کے ٹکڑے ٹکڑے کروانے میں امیر المومنین کی حمایت؟ اگر سچ مچ ایسا ہوا ہے تو یہ ایسا داغ ہے جو تا عمر جناب اردگان کو اور خود ترک قوم کو رسوا کرتا رہے گا۔ ایسا لگتا ہے کہ کوئی فقیر ہی اسلامی اخلاق و کردار کا مظاہرہ کر سکتا ہے، مال والے تو دین و ایمان کو ٹھوکر مار کر مال بچانے کی خاطر ہر قسم کا کمپرومائز ہر کسی سے کرنے کو تیار رہتے ہیں۔
نئی اطلاعات یہ بھی بتاتی ہیں کہ چند دنوں پہلے سعودی سے چند ماہرین ترکی تشریف لائے تھے تاکہ  سفارت خانے میں پھیلے قتل کے ثبوتوں کو مٹایا جا سکے۔ ظاہر ہے یہ بھی ترکی کی اجازت کے بغیر تو ممکن نہیں۔ ترکی نے یقیناً اس کور اپ کی ویڈیو بھی بنائی ہوگی تاکہ بوقت ضرورت کام آئے۔

آخرترکی اور سعودی عرب کا مسئلہ کیا ہے؟
ادھر پانچ نومبر سے اقوام متحدہ میں ایک کانفرنس شروع ہوئی ہے جسے یونیورسل پالیٹیکل ریویو کہا جاتا ہے۔ یہ کانفرنس ہر چار سال بعد ہوتی ہے جس میں تمام کے تمام ۱۹۳ ممبر ممالک کو ہیومن رائٹس کے تعلق سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس بار سعودی عرب کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی جانچ کی بنا پر اکثر ممالک سے تنقید کا سامنا ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب حکومت لبرلزم کے چیمپئن کے ہاتھوں میں ہے۔کئی ملکوں نے لمبے لمبے سوال نامے اقوام متحدہ میں جمع کرائے ہیں جن کے جوابات سعودی حکمرانوں کو دینے ہیں۔ دوسری طرف کل ہی مرحوم صحافی کے لڑکوں صلاح اور عبداللہ خشوگی نے سعودی حکومت سے صحافی کی لاش کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ وہ سعودی عرب آکر اپنے مرحوم والد کی تدفین کر سکیں۔ ان بچوں نے کہا ہے کہ وہ تدفین کیے بغیر والد کے تعلق سے ہونے والے صدمے سے باہر بھی نہیں آسکتے۔
دوسری طرف سعودی باپ بیٹے دنیا کو یہ لالی پاپ دینے میں بری طرح ناکام ہیں کہ قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ اقوام متحدہ میں سعودی وفد کے سربراہ تمام ممالک کو شاہ کا یہ پیغام دے رہے ہیں کہ انہوں نے استغاثہ سے کہا ہے کہ جلد سے جلد تمام مجرمین انصاف کی دہلیز تک پہنچائے جائیں۔ کیا دنیا اس پر یقین کرے گی؟ آج کل یہ ممکن نہیں۔ مارچ ۱۹۷۵ میں شاہ فیصل شہید کو خود ان کے بھتیجے نے جو ان کا ہم نام بھی تھا، شہید کر دیا تھا۔ ابتداً قاتل کو ذہنی معذور ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی مگر بعد میں تین ماہ کے اندر اندر ایک بھیڑ کے سامنے قاتل کا سر قلم کر دیا گیا۔ موجودہ شاہ سلمان انہی کے بھائی ہیں مگر، جس امریکہ سے ٹکرانے کے نتیجے میں شاہ فیصل کی شہادت واقع ہوئی یہ اسی کے ہاتھوں کا کھلونا بنے ہوئے ہیں۔ اگر امریکہ چاہے گا تو ایم بی ایس کا سر بھی قلم ہوگا ورنہ وہ اسی طرح شاہ سلمان کے سر پر ناچتا رہے گا، بلکہ عوام اور حریفوں کے سر پر بھی۔ ابھی تک تو شاہ سے اتنا بھی نہ ہو سکا کہ اسے کاروبار مملکت سے علیحدہ کر دیتے جو کہ غیر جانبدارانہ تحقیق و تفتیش کے لیے از حد ضروری ہے۔
ترکی اور سعودی عرب کے جھگڑے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایک مغربی اخبار کا کہنا ہے کہ یہ عالم اسلام کی قیادت کا جھگڑا ہے۔ ہمیں نہیں لگتا کہ رجب طیب اردگان جو کہ ایک منجھے ہوئے سیاستداں اور سعودی شاہوں سے کہیں زیادہ دیندار ہیں کل کے چھوکرے سے جسے اپنے ملک کا اقتدار سنبھالے ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن بھی نہیں ہوئے ڈر گئے ہوں۔ اور اس اوچھی حرکت کا باعث یہ خوف ہو۔ ہم پھر یہی کہیں گے کہ یہ سب کسی گریٹ گیم کا حصہ ہے اور اردگان شاید فاقہ زدہ ’لیرا‘ کو ڈالر کے سامنے پہلوان بنا کر کھڑا کرنے کے لیے اس میں شامل ہوئے ہوں۔ اس محل پر ہمیں حضور ﷺ اور شعب ابی طالب یاد آتے ہیں جس میں آپ ﷺ کے ساتھ خاندان کے بالغ ہی نہیں بچے بھی بھوک پیاس سے تڑپا کرتے تھے۔ ترک تو وہ قوم ہیں جس نے ٹینک اور توپوں کے رخ پھیر دیے تھے۔ جو بھی ہو مسلمانوں کا تو اللہ ہی حامی و ناصر ہے۔
برسوں سے ہمارا خیال ہے کہ صد فی صد غیر مقلد ہونا ممکن نہیں۔ آپ یا تو مقلد ہو سکتے ہیں یا مجتہد۔کیا غیر مقلدوں کا ہر شخص مجتہد ہے؟ عام طور پر اہل حدیث اپنے آپ کو غیر مقلد کہتے ہیں اور وہ مختلف ائمہ کرام کے مسالک پر عمل کرنے والوں کو مقلد کہتے ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ اہل حدیث کا ہر شخص مجتہد ہو۔ یعنی ان کے عام لوگ بہر حال اپنے علمائے کرام کے فتاویٰ پر عمل کرتے ہوں گے۔بات یہاں تک ہوتی تو غنیمت تھا۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ہم پر یہ تکلیف دہ انکشاف ہوا کہ یہ حضرات اپنے ائمہ کی نہیں شاہوں کی تقلید کرتے ہیں اور شاید اسی لیے اپنے آپ کو غیر مقلد کہتے ہیں۔قریب دو ہفتے پہلے خشوگی پر ہمارا پہلا مضمون سب سے پہلے دہلی کے کسی اخبار میں شائع ہوا۔ اس دن، دن بھر کوئی صاحب ہمیں فون کرکر کے گالیاں دیتے رہے۔ اس لیے کہ ہم نے سعودی شاہوں کے خلاف لکھا تھا۔ سوال یہ ہے کہ جس قوم کا یہ حال ہو اللہ اس پر رحم کیسے کرے گا۔ اسی لیے ہم کہتے کہ بر صغیر کیا ایشیا میں کہیں امت مسلمہ کا وجود نہیں۔ اب اسلام کی نشاۃالثانیہ مغرب سے ہوگی۔

Facebook Comments
Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply