مسلمان ملک کا وفادار ہے پجاری نہیں:عبد الرحمن شاکر پٹنی

abdul-rehman-patni-shakir-

ممبئی، ۱۷ مارچ: اپنے عقیدے کے خلاف ہم کوئی بھی نعرہ نہیں لگا سکتے ۔ ہمیں حب الوطنی کا درس نہ دیں۔ مسلمان ملک کا وفادار ہے، پجاری نہیں۔ وہ ملک سے محبت کرتا ہے اس کی پوجا نہیں کرسکتا۔ محض چند نعرے لگا کر نہ تو کوئی محب وطن ہو سکتا ہے اور نہ ہی اس سے انکار کرنے والے کو ملک کا غدار قرار دیا جاسکتا ہے۔ لیکن ملک عزیز کی بد قسمتی ہے کہ آج محض چند نعروں کی بنیاد پر ہمیں ملک مخالف قرار دیاجارہا ہے۔

یہ باتیں آج یہاں اپنے ایک اخباری بیان میں مجلس اتحاد المسلمین ممبئی کے صدر عبد الرحمن شاکر پٹنی نے کہیں۔ انہوں نے آگے بتایا کہ چونکہ ہم مسلمان ہیں اور ایک اللہ کے علاوہ ہم اور کسی کی بھی عبادت نہیں کرسکتے۔ بھارت ماتا کی جئے جیسے الفاظ بھی وطن کی پوجا کرنے یا اس کو سب سے اونچا مرتبہ دینے جیسا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان محب وطن ہے، لیکن وہ کسی بھی طرح وطن کو قابل پرستش نہیں سمجھتا۔ عبدالرحمن شاکر پٹنی نے مجلس اتحادالمسلمین کے بائیکلہ سے ایم ایل اے ایڈووکیٹ وارث پٹھان کو اسمبلی سے معطل کئے جانے کے فیصلے کو جلد بازی میں اٹھایا گیا قدم بتایا اور کہا کہ یہ جمہوریت، ایوان اور عوامی مینڈیٹ کی تذلیل و توہین ہے۔

عبد الرحمن شاکر پٹنی نے کہا کہ یہ لوگ جو مسلمانوں سے بار بار ایسے احمقانہ مطالبات کرتے ہیں، ہمیں ان کی تاریخ خوب پتہ ہے۔ تاریخ کبھی بدلی نہیں جاسکتی خواہ اس پر جھوٹ کی کتنی ہی تہیں جمانے کی کوشش کی جائے۔ ہمارے ایمان کا مسئلہ ہے، ہم محب وطن ہونے کے ساتھ ہی مسلمان بھی ہیں۔ ہمیں دستور ہند نے بھی اپنے عقیدے پر قائم رہنے کی آزادی دی ہے۔ اس لئے کوئی جبراً ایسے نعروں کو تھوپنے کی اگر کوشش کرے گا، تو وہ دستور کے خلاف کام کررہا ہے۔ اور ایسے بیہودہ مطالبات کرنے والے دستور ہند کے باغی ہیں ان سے اسی ڈھنگ سے نپٹاجانا چاہئے۔

مسٹر پٹنی نے کہا کہ ان قوتوں کے اندر اچانک در آنے والی وطن پرستی کا جوش ایک خاص مقصد کے لئے ہے اور وہ مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ ترقی کے جن نعروں کے ساتھ موجودہ حکومت آئی تھی وہ وعدے پورے ہوتے نظر نہیں آتے اس لئے وطن پرستی کی مدہوشی میں عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصل حب الوطنی یہ ہے کہ ملک کی ترقی اور اس کی سلامتی کی فکر کی جائے جس کی اس وقت وطن عزیز کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ محض نعروں اور جذباتی باتوں سے ملک ترقی نہیں کرسکتا، بلکہ اس سے ملک کی ترقی کی رفتار سست پڑ جائے گی جو پہلے سے ہی کافی سست ہے۔ اور اس کی وجہ یہی مسلسل مسلم مخالف ماحول ہے جس نے ملک کی ترقی روک رکھی ہے۔ اس لئے بہتر ہوگا کہ ملک کے وسیع تر مفاد میں محض جذباتی نعروں اور بیانوں سے پرہیز کرتے ہوئے ملک میں امن و سلامتی اور قانون کی صورتحال کو بہتر بنانے کی کوشش کی جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *