مسلم مکت پارلیمنٹ کی جانب پیش قدمی

ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی
ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی

راجیہ سبھا کی ۵۷ سیٹوں کے لیے ۱۱ جون کو انتخابات عمل میں آ نے والے ہیں۔ یہ انتخابات اترپردیش، بہار، مغربی بنگال، تلنگانہ، آندھراپردیش، کرناٹک، تمل ناڈو اور راجستھا ن وغیرہ ریاستوں میں ہوں گے۔ یہ انتخاب ہر دوسال میں ۶سالہ مدت کے لیے ہوتے ہیں۔ جن ریاستوں میں انتخابات ہورہے ہیں ان میں سے اکثر میں مسلمانوں کی بڑی تعداد رہتی ہے۔ مثلاً اکیلے اترپردیش، بہار، بنگال اور آسام میں ہندوستانی مسلمانوں کی کل تعداد کا ۲۵ فیصد آباد ہیں۔ اسی طرح تلنگانہ، راجستھان اور مہاراشٹر وغیرہ میں بھی مسلمانوں کی تعداد ۱۰ فیصد سے زیادہ ہے۔ ریٹائر ہونے والے ۵۷ اراکین راجیہ سبھا میں سے ۴ مسلمان ہیں جن کے ریٹائرمنٹ کے بعد اب راجیہ سبھا میں مسلم ممبران پارلیمنٹ کی تعداد محض ۴ رہ جائے گی۔ خبروں سے اندازہ یہ ہورہاہے کہ نئے چنے جانے والے اراکین راجیہ سبھا میں بی جے پی کے سوا کسی بھی سیاسی جماعت نے کسی مسلمان کو امیدوار نہیں بنایا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ راجیہ سبھا میں مسلم اراکین کی تعداد آزادی کے بعد سب سے کم ہوگی اور یہ بھی ممکن ہے کہ آئندہ ۲ سال بعد ہونے والے راجیہ سبھا کے انتخاب میں بھی اگر کسی طرح مسلم اراکین کو امیدوار نہیں بنایا گیا تو یہ تعداد محض ایک رہ جائے گی۔ یہ امر تکلیف دہ ہے کہ مسلمانوں کے دم پر حکومت کرنے والے اورمسلمانوں کے ووٹوں کی سب سے بڑی دعویدار اورسیکولرزم کا دم بھرنے والی سیاسی جماعتوں نے بھی نہایت دیدہ دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلمانوں کو نظر انداز کر دیا۔ انتہا یہ ہے کہ اترپردیش کی سماجوادی پارٹی جس کے لیڈر کو رفیق ملت اور مولانا ملائم کا لقب دیا گیا ہو، ا س نے بھی مطالبہ کے باوجود اور اپنی پارٹی کے بانیوں میں سے ایک اور مسلم چہرے اعظم خان کی جانب سے اظہار ناراضگی کے باوجود مسلم نمائندگی کو یکسر مسترد کردینے کی جرأت دکھائی ہے اوروہ بھی ان حالات میں جب کہ اترپردیش کے اسمبلی انتخابات میں اب محض چند مہینے باقی رہ گئے ہیں۔ ان حالات میں مسلم قیادت کو خود سے کچھ سوالات کرنے چاہئیں۔ گزشتہ مضامین میں بھی میں ان سوالات اوران کے جوابات کی جانب نشاندہی کرتارہاہوں۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیا ہوا کہ اب سے ایک دہائی قبل تک مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دینے والی سیاسی جماعتیں مسلمانوں کی جانب سے اس قدر لاپروا، بے نیاز اور بے خوف ہوگئی ہیں۔ جن پارٹیوں پر مسلمانوں کی منہ بھرائی کا ہمیشہ الزام لگتا رہا، وہ پارٹیاں بھی عین الیکشن کے موقع پر مسلمانوں کو ناراض کردینے کا جو کھم اٹھانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتیں۔ دوسراسوال یہ ہے کہ کیا مسلمانوں کے پاس ایسی کوئی قوت ہے کہ وہ ان پارٹیوں کو اپنی نمائندگی یقینی بنانے پر مجبور کرسکیں؟ تیسراسوال یہ ہے کہ اگر بہت مطالبات اور دباؤ بناکر بھیک کی طرح ایک سیٹ کسی پارٹی نے دے بھی دی تو کیااس کا کوئی فائدہ مسلمانوں کو ہوگا؟

انگلش الیکٹرانک میڈیا کے ایک صحافی نے حال ہی میں مجھ سے یہ سوال کیا تھا کہ آخر سیکولر کہی جانے والی جماعتیں مسلمانوں کو کیوں نظر انداز کر رہی ہیں؟ میراجواب یہ تھا کہ ملک کی سیاست ایک واضح کروٹ بدل چکی ہے۔ بی جے پی کی انتخابی حکمت عملی بار بار کامیابی سے ہم کنار ہو رہی ہے اوراس کی حکمت عملی محض انتخاب جیتنا نہیں ہے، بلکہ پورے ملک میں مسلمانوں کے ووٹ کو بے اثر کرنا بھی ہے۔ ساٹھ سال تک خود کو بادشاہ گر سمجھنے والے مسلمان آج بے یار و مددگار کنارے پر کھڑے رہ جائیں۔ پالیسی ساز اداروں میں ان کی آواز ختم کردی جائے، بادشاہ گر کو بھکاری بنانا ان کا مقصود نظر ہے۔ اس غرض سے مسلم ووٹ کو یکہ و تنہا چھوڑ کر دیگر طبقات کے ووٹوں کو اکھٹا کردینا ہی ان کی پالیسی رہی ہے جس کے مظاہر حال ہی میں آسام انتخابات میں دیکھنے کو ملے ہیں۔ اس سے قبل بھی دہلی اسمبلی انتخابات ۲۰۱۳ کے موقع پر عام آدمی پارٹی کو کھڑا کرکے کانگریس کا ساراووٹ ادھر منتقل کر دیا گیا اور کانگریس کی جھولی میں جان بوجھ کر مسلمانوں کو تنہا چھوڑ دیا گیا جس کے نتیجے میں اسمبلی کے اندر مسلمانوں کی تعداد بھی کم ہوگئی اور کانگریس بھی عزت بچانے میں ناکام رہی ۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ ۲۰۱۴ کے دہلی اسمبلی انتخابات میں چار و ناچار مسلمان بھی اسی بھیڑ میں شامل ہوگیا۔ اسی طرح وہ ریاستیں جن میں علاقائی سیاسی پارٹیوں کا دبدبہ ہے اوروہ خود کو سیکولر بھی کہتی ہیں، وہاں بھی بھیڑ چال چلتے ہوئے مسلمان ان کی جھولی میں جاگرے اور ان پارٹیوں نے مسلم قیادت اور عوام کو کوئی اہمیت بھی نہ دی۔ وہ چاہے بہار ہو یا تلنگانہ یا مہاراشٹر۔ یہ حالات ثابت کر رہے ہیں کہ ملک میں نظریاتی سیاست دم توڑ چکی ہے اور انتخابی ریاضی کا کھیل جلوہ نما ہو رہا ہے۔ ان حالات میں سیکولر کہلائی جانے والی جماعتیں مسلمانوں کا ووٹ حاصل کرنے کی شدید خواہش کے باوجود ان سے خوف زدہ ہیں مبادا انھوں نے مسلمانوں کے ووٹ لینے کا اعلان کیا تو ہندو ووٹ اسی طرح ان کے کشکول سے نکل جائے گا، جس طرح دہلی میں کانگریس سے بے زار ہوا تھا۔ چنانچہ بہار میں نتیش کمار اور لالو پرساد یادو نے خط لکھ کر مسلم تنظیموں کے ذمہ داران سے یہ فرمائش کی کہ ہمیں ووٹ دینے کی کوئی برملا اپیل نہ کی جائے بلکہ خاموشی سے ووٹ دلوا دیا جائے۔ یہی عمل اروند کیجریوال نے بھی انجام دیا تھا جب دہلی کی شاہی جامع مسجد کے امام سید احمد بخاری نے مسلمانوں کو عام آدمی پارٹی کو ووٹ دینے کی اپیل کی تھی۔ کیجریوال جانتے تھے کہ مسلمانوں کا ووٹ ان کی اپیل کے بغیر بھی یکمشت انھیں کو ملے گا لیکن مولانا کے اعلان سے انھیں یہ خطرہ تھا کہ کچھ غیر مسلم ووٹ ان سے بدک نہ جائیں۔ اب صورت حال یہ ہے کہ ظالم مارے بھی اوررونے بھی نہ دے۔ تمام سیکولر پارٹیاں بلاشرط اور بنا کچھ دیے مجبور محض اور لقمہ تر سمجھتے ہوئے بی جے پی کو ہرانے کے نام پر مسلمانوں کا ووٹ غصب کر لینا چاہتی ہیں اوریہ اچھی طرح سمجھتی ہیں کہ فسطائی قوتوں کو ہرانے کا ٹھیکہ مسلمانوں نے بزعم خود اپنے نام چھڑا لیا ہے اور زندگی بھر اس سیاسی دام فریب سے باہر نہیں نکل سکتے۔ اس لیے چار و ناچار انھیں جیتنے والی کسی سیاسی پارٹی کو ووٹ دینے پر مجبور ہوناہی پڑے گا۔ اب مختلف ریاستوں میں مختلف قوتیں اقتدار کی دعویدار ہیں جنھوں نے اپنے چہروں پر سیکولرزم کا نقاب اوڑھ رکھا ہے اور مسلمان چاہ کر بھی اس نقاب کو نوچ کر پھینکنے کی جرأت نہیں کرسکتا۔ تو پھر کسی کو نمائندگی دینے کی کیا ضرورت ہے۔ یہاں یہ امر بھی قابل غور ہے کہ اگر یہ پارٹیاں مسلمانوں کو نمائندگی دے بھی دیں تو کیاان پارٹیوں سے وابستہ یہ مسلمان قرار واقعی طور پر مسلمانوں کی نمائندگی کرتے ہیں؟ ہمارا ماننا یہ ہے کہ ایک بھی مسلم رکن اسمبلی یا پارلیمنٹ ایوان میں نہ ہو تب بھی مسلمانوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا اور اگر سارے ارکان بھی مسلمان ہوجائیں تب بھی صورت حال جوں کی تو ں رہے گی۔ اس لیے کہ یہ مسلمان اپنی پارٹی کے وفادار ہیں امت کے نہیں۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت اترپردیش کی اسمبلی ہے جہاں چار سو میں سے ساٹھ مسلمان اراکین ہیں لیکن اس کے باوجود اترپردیش میں مسلمانوں پر ہونے والے کسی بھی ظلم پر اعظم خاں سمیت ان میں سے کسی کے منہ سے اف تک نہیں نکلتی۔ مظفر نگر کے بھیانک فسادکے باوجود یہ اراکین حکومت کی تعریف میں رطب اللسان بھی رہے اور لوک سبھا الیکشن کے موقع پر مسلمانوں کو اپنی پارٹی کی جانب راغب کرنے کے جھوٹے سچے تمام ہتھکنڈے بھی استعمال کرتے رہے۔ اس کی ایک دوسری بڑی مثال یہ ہے کہ راجیہ سبھا جب خواتین ریزرویشن بل بحث ہوئی تو ایک آزاد مسلم رکن راجیہ سبھا نے اس بل کی مخالفت میں لمبی چوڑی تقریر کی لیکن جب ووٹنگ کا نمبر آیا تو انھوں نے بل کی حمایت میں ہی ووٹ کیا۔ حالانکہ آزاد رکن کی حیثیت سے ان پر کسی وہپ کا اطلاق نہیں ہوتا تھا، لیکن پھر بھی وہ کانگریس کی حمایت سے چن کر راجیہ سبھا میں آئے تھے تو انھوں نے امت کے مفاد پر کانگریس کے مفاد کو ترجیح دی۔ ان حالات میں یہ صاف ظاہر ہے کہ مسلم اراکین ملی مفاد کے اوپر اپنی پارٹی کو ترجیح دیتے ہوئے خود اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی فکر میں غلطاں رہتے ہیں۔ اس لیے یہ واقعہ تکلیف دہ تو ضرور ہے کہ سیکولر پارٹیاں مسلمانوں کو راجیہ سبھا سے محروم کررہی ہیں لیکن اگر وہ اپنے کسی فرمانبردار مسلمان کو راجیہ سبھا بھیج بھی دیں تو مسلمانوں کو کتنی رکعت کا ثواب ملنے والاہے۔

یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ مسلمانوں کے پاس اپنا کوئی ایسا سیاسی پریشر گروپ نہیں ہے کہ جو ان سیکولرسیاسی جماعت کا مواخذہ کرنے کی حالت میں ہو۔ درجن بھر سے زائد مسلم تنظیموں کے ذمہ داران اورسربراہان اسی بات سے بہت خوش ہو جاتے ہیں کہ ان کی ملاقات کسی وزیراعلیٰ یا پارٹی صدرسے ہوگئی۔ کچھ دیگر لوگ غصہ اوردباؤ بناکر اپنے ذاتی منفعت کی سودے بازی کرنے پر ہی اکتفا کر لیتے ہیں اوراپنے رشتے کنبے داروں کے لیے کسی حلقے کا ایک ٹکٹ یا ایک ایم ایل سی کی سیٹ کا سودا کرکے ہی مطمئن ہو جاتے ہیں اورمان لیتے ہیں کہ امت کو نمائندگی حاصل ہو گئی۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ان ساری تنظیمیں اوران کے رہنما ملک کر بھی ملک کے مسلمانوں کا کوئی ایک مسئلہ بھی حل نہیں کرا سکے۔ مثلاً دہشت گردی کے الزام کے سینکڑوں نوجوان گرفتار ہیں، مگر دہشت گردی کے جھوٹے الزامات میں پھنسائے جانے کے عمل کو اپنے سیاسی آقاؤں کے ذریعے رکوانے میں یہ رہنما ناکام رہے۔ اسی طرح مسلم سیاسی پارٹیاں بھی اگر کہیں طاقت میں ہیں تو انھیں پارٹیوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی فیملی کے لیے اقتدار حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں اورمسلمانوں کا جذباتی استحصال کرکے کسی نظریاتی سیاست سے بے بہرہ اپنی قوت کو اپنی ذات کی حد تک استعمال کرنے پر محدود ہیں۔ نظریاتی سیاسی جماعت ہونے کا دعویٰ کرنے والی کچھ سیاسی پارٹیاں ابھی حال ہی میں وجود میں آئی ہیں۔ ان پارٹیوں نے بھی ابھی تک کوئی ایسی سیاسی حکمت عملی اختیار نہیں کی کہ وہ کوئی عوامی اثر پیدا کرسکے اور یاستی انتخابات میں درجنوں حلقوں میں انتخاب لڑنے کے باوجود وہ چند ہزار ووٹ لینے سے زیادہ کامیاب نہیں ہوپاتے۔ ایسے میں کسی بھی سیاسی پارٹی کے اوپر مسلمانوں کا ایسا کوئی دباؤ نہیں ہے کہ وہ ان کی بات سننے پر مجبور ہوجائیں۔ اس کا نتیجہ مسلمانوں کو مجبور محض بناکے رکھ دیتا ہے اور امت ایک شکوہ کناں ویران مزار کی حیثیت میں کھڑی کی کھڑی رہ جاتی ہے۔ کسی شاعر نے خوب کہا تھا

سہمی سہمی سی فضاؤں میں یہ ویران مرقد  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   کتنا خاموش ہے فریاد کناں ہوجیسے

مسلم قیادت سیاست کے اس بدلے ہوئے منظر نامے کو سمجھنے کی جانب اگر مائل نہ ہوئی تو مستقبل قریب میں بھی صورت حال کے بدلنے کا کوئی امکان نہیں ہوگا۔ اترپردیش اسمبلی انتخابات سامنے ہیں۔ ان انتخابات میں بی جے پی کی حکمت عملی کوئی خفیہ نہیں رہی۔ مسلمانوں کے ووٹوں کو سیکولرزم کا فریب دے کر ایک بار پھر کمزور سیاسی جماعتوں کی جھولی میں ڈھکیلنے کی کوشش کی جائے گی۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بی جے پی اترپردیش میں حکومت سازی کی خاطر ایساکرے گی لیکن یہ خام خیالی ہے۔ ملائم سنگھ یادوکے تیور صاف بتارہے ہیں کہ وہ کچھ دیگر ذاتوں کا ووٹ اپنے حق میں کرنے کی کوشش کرتے ہوئے مسلمانوں کے ووٹوں پر کم سے کم تکیہ کرنے کی بات سوچ رہے ہیں۔ ایک بار پھر اسمبلی انتخابات میں یہ کھیل کھیلاجائے گا کہ ریاستی اسمبلی میں مسلمانوں کی تعداد بھی کم ہوجائے اورجس پارٹی کو مسلمان ووٹ دیں وہ حکومت سازی سے بھی دور ہوجائے۔ یہ سب کچھ صرف اس لیے کیا جا رہا ہے کہ مقننہ میں مسلمانوں کی کوئی مضبوط آواز باقی نہ رہے۔ جس طرح کہ راجیہ سبھا میں مسلمانوں کی نمائندگی صفر ہونے جارہی ہے اورلوک سبھا میں بھی گھٹ کر محض ۲۲ رہ گئی ہے۔ اس طرح ریاستی اسمبلیوں سے بھی مسلمانوں کو کھدیڑنے کی سازش پر عمل کیا جائے گا۔ یہ بات اب واضح ہونے لگی ہے کہ جہاں بی جے پی ایک کانگریس مکت بھارت بنانا چاہتی ہے اوراس کے لیے اعلانیہ ہر حربے استعمال کررہی ہے۔ اسی طرح وہ بغیر اعلان کیے مسلم مکت اسمبلیاں اورپارلیمنٹ بھی چاہتی ہے۔ اسی لیے مذکورہ انتخابی حکمت عملی پر عمل کیا جا رہا ہے۔ مسلمانوں نے اگر اس حکمت عملی کو ابھی سے سمجھ لیا تو اس کا تدارک بھی کرسکتے ہیں لیکن اگر وہ فسطائی قوتوں کو ہرانے کی اپنی پرانی پالیسی پر ہی کاربند رہے تو وہ اس مسموم حکمت عملی کا مقابلہ کبھی نہیں کرسکیں گے۔

(مضمون نگار مسلم پولیٹیکل کونسل کے صدر ہیں )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *