مسلم پرسنل لاء کےخلاف سازشوں کو ناکام بنانا ملت اسلامیہ کا فریضہ

حکیم نازش احتشام اعظمی
حکیم نازش احتشام اعظمی

شریعت اسلامی کے وہ قوانین جو خاندان کی تشکیل اور خاندانی امور سے متعلق ہیں، جو انسانی معاشرہ سے تعلق رکھتے ہیں، جو سماجی تعلقات کے آداب و اصول بتاتے ہیں، جو خاندان سے وابستہ مختلف افراد کی ذمہ داریاں اور ان کے حقوق طے کرتے ہیں۔ مثلاً نکاح، طلاق، خلع، نان و نفقہ، مہر، میراث وغیرہ۔ قانون کے اسی حصہ کو اردو میں’عائلی قانون‘ عرب ممالک میں ’الاحوال الشخصیہ‘ اور انگریزی میں پرسنل لا (Personal Law )یا فیملی لا (Family Law ) کہتے ہیں۔ مسلمان عالم کےلئے مذکورہ بالا امور منصوص فرامین کا حصہ ہیں۔ اسے وہ کسی بھی قیمت پر اپنی زندگی سے بے دخل کردینے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں سکتے۔ اپنی شریعت اور عقیدہ سے جان سے بھی زیادہ عزیز رکھنے کے جذبہ کو دیکھتے ہوئے انگریزی حکومتوں نے بھی مسلمانوں کے عائلی قانون میں مداخلت کی جرأت کھلے طور پر کبھی نہیں کی ۔

برطانوی تسلط سے نجات اور وطن عزیز کی آزادی کے بعد ملک میںجو سیکولر آئین مرتب کیا گیا اس میں بھی ہندوستان میں رہنے بسنے والی مذہبی اقلیتوں کویہ آزادی فراہم کی گئی وہ اپنی داخلی زندگی میں پیش آ نے والے تنازعات اور جھگڑوں کا نپٹارہ اپنے اپنے مذاہب میں دی گئی ہدایات کے مطابق ہی کریں گے۔ اگر کبھی ان معاملات کے حل کیلئے عدالتوں سے چارہ جوئی کی نوبت پیش آتی ہے تو عدالتیں بھی اقلیتوں کے عائلی تنازعات کے تصفیہ کےلئے مذاہب کے شرعی ماہرین سے رجوع کریں گی۔ مگر ہماری بدقسمتی سے قانون کی اس شق میں یکساں سول کوڈ کا ایک لاحقہ بھی جوڑ دیاگیا۔ یکساں سول کوڈ نامی اسی لاحقہ کو ۱۹۵۶ کے بعد دشمنان اسلام اور فرقہ پرست قوتوں کے ذریعہ ملک کے مسلمانوں کو ان عاعلی قوانین سے محروم کر دینے کیلئے ملک گیر سطح پر اسلحہ کی شکل میں استعما ل کیا جانے لگا۔ اللہ کروٹ کروٹ چین نصیب فرما ئے ہمارے ان مخلص اکابرین ملت کو جنہوں نے ملی قیادت کی ذمہ داری نبھانے میں کبھی بھی ذاتی منفعت یا وقتی فائدے کو کوئی اہمیت نہیں دی اور طاغوتی لشکر کی سازش کا بڑی شدت ادراک کر لیا اور اسی سازش کے قلع قمع کےلئے پرمسلم سنل لاء کے قیام کی جرأت مندا نہ مہم شروع کی۔ ہمیں ماضی کی جانب رخ کرکے دیکھنے کی ضرورت ہے کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے قیام کی وجوہات اور اس کا مقصد کیا تھا اور کیا اس نے اپنا یہ مقصد پورا کیا؟

چنانچہ اپریل ۱۹۷۳ کے پہلے ہفتے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی تشکیل عمل میں آئی اور اس کے بنیادی مقاصد میں نہ صرف مسلمانوں کے معاشی و اقتصادی معاملات و مسائل کے تعلق سے کوئی ذمہ داری لی گئی تھی اور نہ مسلمانوں کی اعلیٰ تعلیم وغیرہ اس کے ایجنڈے میں شامل رکھے گئے تھے۔ اس نے اپنی خدمات کے لیے صرف دو محاذ چنے تھے۔ ایک محاذ دفاعی تھا کہ جس کے تحت ملک میں کی جانے والی ان سازشوں کے سد باب کیلئے قوت فراہم کرانا تھاجو مسلمانوں کے شرعی و عائلی معاملات میں دینی احکام کے خلاف شریعت دشمنوں کے ذریعہ برچی جاتی تھیں اور ہیں۔ پھر یہ شریعت دشمن کسی مسلم نام کے ساتھ سامنے رہتے تھے یا غیرمسلم نام سے۔ خصوصاً یکساں سول کوڈ کے مکھوٹے کے ساتھ۔ دوسرا محاذ آگاہی ہے جس کے تحت آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ مسلمانوں کو ان کے جملہ شرعی و عائلی معاملات کا اسلام میں جو حل موجود ہے وہ احکامِ الٰہی و احکامِ رسول کی روشنی میں بتلایا جائے اور ان کی اس جانب آگاہی و تربیت کی جائے۔ نیز بین المسالک و بین المکاتب اتحاد و اتفاق کا قیام کیا جائے۔ اس کے لیے وہ کانفرنسیں، جلسے اور سمینار وغیرہ منعقد کرتے آئے ہیں۔

یہی وہ اہم امور ہیں جس کے بعد آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ سے دیگر تمام توقعات (چھوٹی یا بڑی) وابستہ کرنا یا دوسری کسی ذمہ داری کو مسلم پرسنل لاء بورڈ قبول کرتا ہے نہ اس میں شریک ہوتا ہے تو بورڈ کو کٹہرے میں کھڑا کرنے میں ہمیں کوئی جھجھک بھی نہیں ہو نی چاہئے۔

رہی بات نوجوان مسلمانوں کی اپنے بزرگوں سے شکایت تو ان نوجوانوں سے اتنا ہی کہا جائے گا کہ میں آپ بھی اسی جنریشن کے مسلمان ہیں۔ آپ کی طرح تمام مسلمانان ہند کے غم اور صدمے مشترک ہیں۔ مگر ان غموں اور صدموں کے لیے نہ قصوروار AIMPLB  ہے اور نہ اس کے مداوے کا ذمہ دار ہے، یہ تو ایک نمائندہ جماعت ہے جس کے قیام میں اپنے وقت کے سنجیدہ اور مخلص بزرگوں اور مسلمانوں کے مختلف مسالک و عقیدے کے جید افراد شامل رہے ہیں۔ پوری امتِ مسلمہ کو تاریخ میں ایک نادر پلیٹ فارم مہیا ہوا ہے۔ بزرگوں نے اپنے فرائضِ منصبی بھی ادا کیے اور بدلتی ہوئی مرکزی و صوبائی حکومتوں سے لوہا بھی لیا۔ چوطرفہ تنقیدیں بھی برداشت کیں اور کبھی اشتعال میں بھی نہیں آئے بلکہ مشتعل ہونے والے مسلمانوں کو ہر بار سنبھالا بھی ہے۔ مگرسوئے اتفاق کہ ملک میں فسطائی قوتوں کے برسر اقتدار آنے اور ہماری جانب سے متعدد عائلی مقدمات کو عدالت میں لے جانے کے نتیجے میں ایک بار پھر مسلمانوں کے عائلی قانون پر شب خون مارنے اور یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی باطل مہم شروع کردی گئی ہے۔ حالاں کہ یہ ناقابل تردید تحریر ی قانون آئین ہند میں شامل ہے، جس کے تحت مملکت کا کوئی مذہب نہیں رکھا گیا ہے، لیکن ہر مذہب کے ماننے والے کو ضمیر اور عقیدہ کی بھر پور آزادی دی گئی۔ اس کے بنیادی حقوق کے زمرے میں دفعہ ۲۵ اور دفعہ ۲۹ بھی ہے جس میں تمام شہریوں خاص طور پر اقلیتوں کو آزادی ضمیر اور آزادی مذہب کا حق دیا گیا ہے۔ اسی طرح تمام شہریوں کو جس کی اپنی الگ زبان، رسم الخط یا ثقافت ہو، اسے محفوظ رکھنے کا حق دیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ ان امور نے تمام اقلیتوں کی قانونی پوزیشن کو مستحکم کیا اور مسلمانوں کا یہ حق کہ عائلی معاملات میں قوانین شریعت کے مطابق فیصلے کئے جائیں، مزید مستحکم ہوا اور مذہبی آزادی کے حق کی وجہ سے مسلم پرسنل لاء کے تحفظ کی گارنٹی ملی۔ لیکن مذکورہ دفعات کے ساتھ رہنما اصولوں میں ایک دفعہ ۴۴ بھی ہے، جس میں یکساں سول کوڈ کی بات کہی گئی ہے۔ کچھ بدنیت افراد نے یکساں سول کوڈ کا سہارا لیکر ہمیشہ مسلم پرسنل لاء کو مخدوش کرنے اور اس کی عمارت میں سیندھ مارنے کی کوشش کی ہے، گویا کہ یکساں سول کوڈ کی تلوار ہمیشہ مسلم پرسنل لاء پر مسلط رہتی ہے۔ دوسری طرف وقفے وقفے سے مختلف عدالتوں سے ایسے فیصلے صادر ہوتے رہتے ہیں جو مسلم پرسنل لاء کے بالکل برعکس ہوتے ہیں اور ان کے ذریعہ شریعت میں کھلے عام مداخلت کی راہ ہموار ہوتی ہے، اس سے مسلمانوں کی مذہبی آزادی کی برملا خلاف ورزی ہوتی ہے۔ ضرورت ہے آئین ہند میں دیے گئے اپنے حقوق خاص طور پر مسلم پرسنل لاء کے سلسلہ میں بیداری پیدا کی جائے اور مسلم پرسنل لاء کے تحفظ اور اس کے دفاع کے لئے ۱۹۷۲ میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے نام سے جو نمائندہ ادارہ قائم کیا گیا تھا اور جو مستقل پرسنل لاء کے تحفظ کے لئے مستعد ہے ان کے ہاتھ کو مضبوط کیا جائے، اور اس کے ذریعہ چلائے جا رہے آئینی حقوق بچاؤ تحریک کو تعاون دے کر کامیاب بنایا جائے اور بھر پور تحریک کے ذریعہ پرسنل لاء سے متعلق قوانین کو کوڈی فائی کروایا جائے۔ اللہ کا لاکھ شکر ہے کہ موجودہ نامساعد حالات میں مسلم پرسنل لاء بورڈ سینہ سپر ہے اور جذبات کو قابو میں رکھ کر اپنے عائلی قانوں کے تحفظ کیلئے سرگرم کوشش کررہا ہے۔ خوشی کی بات ہے کہ گزشتہ ۱۶ اپریل ۲۰۱۶ کو لکھنؤ میں منعقدہ مجلس عاملہ کی میٹنگ میں اتفاق رائے سے مولانا سید ولی رحمانی کو آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا جنرل سکریٹری اور مولانا فضل الرحمن مجددی کو سکریٹری منتخب کرلیا گیا، ہمیں خوف تھا منفعت پسندی کے سنگین دور میں کہیں کو ئی موقع پرست اکابرین کی اس مخلصا نہ کاوش کو گزند پہنچانے کی مکروہ سازش نہ کرے؟

مگر الحمدللہ ایسا نہیں ہوا اور بڑے اطمینان بخش ماحول میں انتخاب کا یہ عمل انجام پذیر ہوگیا۔ جنرل سکریٹری اور سکریٹری کے نام کااعلان بورڈ کے صدر حضرت مولانا سید رابع حسنی ندوی نے کیا۔ اس موقع پر بورڈ کی مجلس عاملہ نے مسلم پرسنل لاء میں عدالتی مداخلت کے پس منظر میں وکلاء کی ایک بڑی ٹیم کے ساتھ سپریم کورٹ میں کیس لڑنے اورپوری قوت کے ساتھ عدالت میں مسلم پرسنل لاء کو واضح کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی حفاظت کا اظہارِ عزم کیا، نیز خواتین کے تعلق سے پھیلائی جارہی غلط فہمیوں کے ازالہ کیلئے مسلم خواتین کے درمیان ورکشاپ اورتعلیم یافتہ خواتین کے ذریعہ ان کی ذہن سازی کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ ساتھ ہی بورڈ کی جاری دین بچاؤ دستور بچاؤ تحریک کو مزید مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھانے نیز بورڈ کے مزاج اور مسلکی ہم آہنگی کی توسیع جیسے اہم امور پر تبادلہ خیال ہوا۔ واضح رہے مولانا محمد ولی رحمانی عرصہ سے ہی بورڈ کے سکریٹری ہیں۔ ان کی ہمہ جہت سرگرمی کو دیکھتے ہوئے گذشتہ میٹنگ میں سابق جنرل سکریٹری امیرشریعت مولانا سید نظام الدین نے اپنی وفات سے چند ماہ قبل مولانا ولی رحمانی کو کار گذار جنرل سکریٹری بنایا تھا۔ بورڈ کے ذمہ داران نے حضرت مولانا سید نظام الدین کی وفات کے بعد جنرل سکریٹری جیسے اہم عہدے کیلئے ان کے نام کو اتفاق رائے سے منظوری دے دی۔ مولانا ولی رحمانی کی ذات سے قوی امید ہے کہ وہ مسلمانوں کے عائلی قوانین کو مٹانے کیلئے سازش رچنے والوں کے ناپاک ارادے کو ناکارہ بنانے میں پیش پیش رہیں گے اوراپنے کارواں کے ساتھ قائدانہ رول ادا کریں گے اور مسلم پرسنل لاء کے خلاف کسی بھی سازش کو انشاء اللہ بورڈ کامیاب نہیں ہونے دے گا۔

موبائل: 09891651477

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *