مشکوک ہوتی جا رہی ہے وزیر اعظم کی تعلیمی لیاقت

Modi-Kejriwal

۱۹۷۸ میں نریندر مودی نے نہیں ”نریندر مہاویر مودی“ نے لی تھی دہلی یونیورسٹی سے ڈگری: کیجریوال

نئی دہلی، ۸ مئی (حنیف علیمی):  وزیر اعظم نریندر مودی اپنی تعلیمی لیاقت کی وجہ سے لگاتار گھرتے چلے جارہے ہیں۔ دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کئی دنوں سے مودی کی تعلیمی لیاقت کو لیکر سوالات اٹھا رہے ہیں۔

اب اپنے دعووں کو مزید تقویت دیتے ہوئے عام آدمی پارٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس ایسی دستاویز ہیں، جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے دہلی یونیورسٹی سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کرنے کے بارے میں جھوٹی خبر دی ہے اور اخبارات میں شائع ڈگری فرضی ہے۔ انھوں نے ڈگری حاصل کرنےکی جو تاریخ بتائی تھی اس دن کسی نریندر مہاویر مودی نے ڈگری لی تھی۔

وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے جمعرات کو دہلی یونیورسٹی کو خط لکھ کر یہ سفارش کی تھی کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی ڈگری کو ویب سائٹ پر عام کرکے یہ ثبوت دیا جائے کہ ہمارے وزیر اعظم کی ساری دستاویز محفوظ ہیں۔ عام آدمی پارٹی کا کہنا ہے کہ اس نے وزیر اعظم کی طرف سے بتائی گئی گریجویشن کی تاریخ والے دن ”نریندر مہاویر مودی“ کے گریجوئیٹ ہونے کی معلومات حاصل کی ہیں۔ یہ نریندر مہاویر مودی الور، راجستھان کے ہیں جبکہ پارٹی نے اسکول سرٹیفیکٹ میں وزیر اعظم کو گجرات کے وڈ نگر کا رہنے والا بتایا ہے۔

پی ایم او نے ان الزامات پر کوئی صفائی نہیں دی

پی ایم او نے عام آدمی پارٹی اور اروند کیجریوال کے اس الزام پر کسی طرح کی کوئی صفائی نہیں دی ہے۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ ۲۰۱۴ کے عام انتخابات سے قبل مودی نے اپنے حلف نامہ میں ۱۹۷۸ میں ڈی یو سے گریجوشن اور ۱۹۸۳ میں گجرات یونیورسٹی سے پوسٹ گریجویشن کی سند کے بارے میں معلومات فراہم کرائی تھیں۔ ویسے اپنے ایک انٹرویو میں وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ میں ۱۷ سال کی عمر میں گھر بار چھوڑ کر آرایس ایس میں شامل ہو گیا تھا اور اپنے ایک رہنما کی ترغیب کے بعد ڈگری حاصل کی تھی۔

آر ٹی آئی کے ذریعہ کیجریوال کی طرف سے مانگی گئی معلومات کے جواب میں مرکزی انفارمیشن کمیشن نے پچھلے ہفتے دہلی یونیورسٹی اورگجرات یونیورسٹی کو معلومات فراہم کرنے کا حکم دیا تھا، جس کے جواب میں گجرات یونیورسٹی نے یہ کہا کہ وزیراعظم نے اپنی ماسٹر ڈگری ۳امتیازی نمبرات سے حاصل کی تھی، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اس تعلق سے ابھی تک کوئی بیان نہیں دیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *