ملک بچانے کے لیے کرنا ہوگا یہ چھوٹا کام

ملک کے موجودہ حالات  میں پسماندہ، دلت اور مسلم اتحاد کی سخت ضرورت: مولانا محمد شبلی القاسمی

بام سیف کی طرف سے منعقد جائزہ میٹنگ میں قائم مقام ناظم امار ت شرعیہ کا پر مغز خطاب

                پھلواری شریف:

ملک میں جو حالات چل رہے  ہیں اور جس طریقہ سے نفرت کی فضا پورے ملک میں بنائی جا رہی ہے ، ملک کے لوگوں کو مذہب اور ذات کی بنیاد پر بانٹ کر منووادی نظریہ کو نافذ کرنے کی منظم کوشش کی جا رہی ہے، آئین اور دستو ر پر حملہ کیا جا رہا ہے اور ملک کو فاشزم کی طرف لے جانے کی سازش ہو رہی ہے، ایسی حالت میں ماضی کے مقابلہ میں زیادہ ضروری ہوگیا ہے کہ دلت، مسلم، اوبی سی، ایس سی ایس ٹی اور دیگر پسماندہ طبقات کا ایک مضبوط اتحاد قائم کیا جائے اور سب مل کر ملک کو بانٹنے او ر بابا صاحب کے لکھے ہوئے سنویدھان کو ختم کرنے کی منو وادی سوچ کو شکست دیں۔ ان خیالات کا اظہار امارت شرعیہ کے قائم مقام ناظم مولانا محمد شبلی قاسمی نے بام سیف کی جانب سے پٹنہ میں منعقد جائزہ میٹنگ میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ آپ حضرات بہار کے کونے کونے اور ہر ضلع سے تشریف لائے ہیں ، آپ سماج کو اور ملک کی نازک صورتحال کو خوب سجھتے ہیں اور یہ جانتے ہیں کہ ملک کا ایک خاص طبقہ کس طر ح مسلمانوں کو اور آپ کو آپس میں الجھا کر ملک پر حکومت کر رہا ہے ، آپ غو ر کریں کہ آپ کی اور ہماری تعداد کے مقابلہ میں ان لوگوں کی کتنی مٹھی بھر تعداد ہے، ابھی این آر سی، این پی آر اور سی اے اے کا کالا قانون ملک پر نافذ کیا جا رہا ہے، اس قانون کا نقصان سب سے زیادہ ہمارے دلت اور پسماندہ بھائیوں کو ہوگا، این آر سی صرف مسلمانوں پر نہیں بلکہ ملک کے تمام باشندوں کے لیے ہو گا، ہم اپنے اپنے گاؤں اور علاقے میں واپس جا کر لوگوں کو بتائیں کہ اس کا نقصان مسلمانوں کی طرح ہمیں بھی ہو گا۔ ہم مل جل کر اس قانو ن کو واپس لینے کے لیے  تحریک چلائیں۔ ہم سب کے مخدوم مولانا سید محمد ولی رحمانی امیر شریعت بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ، حضرت مولانا محمد سجاد نعمانی اور شری وامن مشرام جیسے دور اندیش قائدین نے اب فیصلہ کر لیا ہے کہ ہم لوگ اس اتحاد کو ہر قربانی دے کر مضبوط اور دیر پا بنائیں گے۔

میٹگ کی صدارت کر رہے بی ایل ماتنگ نے کہا کہ مظلوموں کا ساتھ دینا اسلام کی تعلیم اور ہدایت ہے، میں چاہتا ہوں کہ امار ت شرعیہ ملک کے تمام مظلوموں کو متحد کرنے اور ظلم سے نجات دلانے میں بام سیف کا پورا تعاون کرے اور ضرورت ہے کہ ہمارے ساتھ ہو کر ریاست اور ملک کے دوسرے حصوں کا دورہ کرے اور پسماندہ و مظلوم طبقات  کے ساتھ مسلمانوں کا اتحاد قائم کرنے میں اہم رول ادا کرے۔ اس اہم کام کے لیے ہم نے کئی اہم پروگرام بنا رکھا ہے۔ ہم مسلمانوں کے تعاون سے اس پروگرام کو زمین پر اتاریں گے اور اپنے بھائیوں کو سمجھائیں گے کہ مسلمان ہی ہمارے بھائی ہیں، نوے سال سے ہم کو مسلمانوں سے لڑانے کےلیے زبردستی ہندو بنایا جا رہا ہے، اب ہم لوگ فرقہ پرستوں کو ان کے ارادے میں ہرگز کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

واضح ہو کہ ملک کی مشہور دلت تنظیم بہوجن کرانتی مورچہ (بام سیف) کی جانب سے سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف 29 جنوری کو ہونے والے بھارت بند کے جائزہ اور آئندہ کے لیے لائحہ عمل ترتیب دینے کے لیے ایک جائزہ میٹنگ پٹنہ میں بام سیف کے نیشنل کو آرڈینیٹر بی ایل ماتنگ کی صدارت میں منعقد ہوئی، جس میں ریاستی صدر رام لگن مانجھی کے علاوہ ہر ضلع کے ذمہ داران اور فعال کارکنان سیکڑوں کی تعداد میں شریک ہوئے۔ امار ت شرعیہ کے قائم مقام ناظم مولانا محمد شبلی قاسمی نے مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی۔ اس میٹنگ میں 29 جنوری کو ہونے والے بھارت بند کا جائزہ لیا گیا اور بام سیف کی اعلیٰ قیادت کی طرف سے اعتراف کیا گیا کہ اس بند کو کامیاب بنانے میں امارت شرعیہ سمیت مختلف سیاسی پارٹیوں اور تنظیموں کا بہت ہی اہم رول رہا۔ سبھی ضلعوں سے حاصل رپورٹ کا خلاصہ یہ تھا کہ اس بند کے لیے بارہ ہزار پوائنٹ بنائے گئے تھے، جس میں بڑی تعداد میں مسلم سماج کے لوگ، دلت، مہادلت، ایس سی، ایس ٹی، او بی سی اور دیگر پسماندہ طبقات کے لوگوں نے حصہ لیا ، خاص طور سے مسلم سماج کے لوگوں کی بڑی حصہ داری رہی۔ امارت شرعیہ نے اس بند میں بہت ہی سرگرم رول ادا کیا اور امارت شرعیہ کی اپیل پر بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ کے علاوہ ملک کے دیگر حصو ں میں کثیر تعداد میں لوگ سڑکوں پر اترے ۔اس میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ جلد ہی سبھی طبقوں کے اشتراک سے ایک بار پھر بڑے پیمانے پرسیاہ قانون کے خلاف پورے بھارت کو بند کیا جائے گا اور اس بند کو کامیاب کرنے کے لیے اس بار پورے ملک میں ایک لاکھ پوائنٹ بنائے جائیں گے جہاں لوگ سڑکوں پر اتریں گے اور چکا جام کریں گے۔ اس کے علاوہ ہر ضلع  ہیڈ کوارٹر میں مختلف طبقوں کے لوگوں کو ساتھ لے کر ریلی کی جائے گی پھر ایک تاریخ متعین کر کے گاندھی میدان میں بڑا اجلاس بلایا جائے گا۔ امارت شرعیہ سے اس میٹنگ میں مولانا  نصیرالدین مظاہری بھی شریک ہوئے۔

Facebook Comments
Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply