ملک زادہ منظور اور جوگندرپال کے انتقال پر اظہارِ تعزیت

غالب انسٹی ٹیوٹ میں غالب ایوارڈ قبول کرتے ہوئے ملک زادہ منظور احمد کی ایک یادگار تصویر
غالب انسٹی ٹیوٹ میں غالب ایوارڈ قبول کرتے ہوئے ملک زادہ منظور احمد کی ایک یادگار تصویر

نئی دہلی، ۲۵ اپریل (پریس ریلیز): ممتاز شاعر و دانشور پروفیسر ملک زادہ منظور احمد اور نامور فکشن نگار جوگندر پال کے انتقال پر غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی اور ڈائرکٹر ڈاکٹر رضاحیدر نے اپنے تعزیتی پیغام میں دلی رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر ملک زادہ منظور احمد نے اپنی علمی صلاحیتوں سے پورے عہد کومتاثر کیا۔ آپ کو مشاعرے کی دنیا میں ایک حوالے کے طورپر جانا جاتا تھا اور ہندستان کے علاوہ دنیا کے کئی ممالک کے مشاعروں میں آپ نے اپنے فن نظامت کے ذریعے اردوزبان و ادب کے فروغ میں جونمایاں کردار ادا کیا، اُسے ہماری تہذیبی تاریخ میں ہمیشہ یاد کیا جائے گا۔ لکھنؤ کے شعبۂ اردو میں پروفیسرکی حیثیت سے بھی آپ طویل عرصے تک وابستہ رہے اورآپ کے متعدد شاگرد آج بھی اردو زبان وادب کے فروغ میں ہمہ تن سرگرم ہیں۔ یہ غالب انسٹی ٹیوٹ کے لیے اعزاز کی بات ہے کہ گزشتہ سال ادارے نے اپنے اہم ترین ایوارڈ ”برائے مجموعی ادبی خدمات“ سے آپ کوسرفرازکیا۔ آپ نے ایوارڈکے جلسہ میں شرکت کرکے نہ صرف یہ کہ ایوارڈ کو اعتبار بخشا، بلکہ آپ نے عالمی مشاعرے کی صدارت بھی کی۔

جناب جوگندر پال کابھی ہمارے درمیان سے رخصت ہوجانا ہم سب کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے۔ جوگندرپال صاحب اپنی عمدہ تخلیقات کی وجہ سے علمی حلقوں میں ہمیشہ مقبول رہے۔ آپ کی اہم تصانیف ”دھرتی کا کال“، ”میں کیوں سوچوں“، ”رسائی“‘، ”بے محاورہ، بے ارادہ“ کو اردو دنیا میں عزت و احترام کی نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ نے ۱۹۸۹ میں آپ کو غالب انعام سے بھی سرفراز کیا۔

موت برحق ہے اور ہرشخص کو اُس کی گرفت میں آنا ہے، مگر پروفیسر ملک زادہ منظور احمد اور جوگندرپال کی رحلت سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دانشوری کے ایک اہم باب کا خاتمہ ہوگیا۔ ہماری دعاہے کہ پرورد گار عالم اُن کے دوستوں اور عزیزوں کو صبر عطا کرے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *