منتخب التواریخ جلد اول پر ڈاکٹر سید احمد قادری کا تبصرہ

منتخب التواریخ (جلد اوّل)

مؤ لف :ملا عبدالقادر بدایونی، مترجم: علیم اشرف خاں
صفحات: 409، قیمت: 160 روپے، سنہ اشاعت: 2017
ناشر : قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی
مبصر : ڈاکٹر سیّد احمد  قادری، 7 نیو کریم گنج، گیا (بہار)
ملاعبدالقادر بدایونی کی مشہور تاریخ ہند پرمبنی کتاب ’منتخب التواریخ‘ بہ زبان فارسی کی اہمیت اور افادیت ہر عہد میں تسلیم کی گئی ہے۔ لیکن اب جبکہ فارسی زبان تقریباً حاشیہ پر چلی گئی ہے، ایسے میں اس کتاب کی اہمیت کے پیش نظر قومی اردو کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی نے دہلی یونیورسٹی دہلی کے فارسی کے استاد علیم اشرف خاں سے فارسی سے اردو زبان میں ترجمہ کراکر نہایت اہتمام کے ساتھ 2008  میں پہلی بار شائع کیا تھا۔ جس کے تیسرے ایڈیشن کی اشاعت 2017  میں ہوئی اور یہی کتاب اس وقت میرے زیر مطالعہ ہے۔
اس تاریخی کتاب کی تصنیف کی تاریخ کے سلسلے میں اختلاف رائے ہے۔ مثلاً ’عرض مترجم ‘ کے تحت علیم اشرف خاں نے عبدالقادر بدایونی کی لکھی گئی کتاب کے اردوترجمہ میں اس طرح پیش کیا ہے۔
’’اس منتخب کا جامع 961 ہجری /1553-54 عیسوی میں 12 سال کی عمر میں اپنے والد کے ہمراہ تحصیل علم کے لیے سنبھل گیا تھا۔‘‘ لیکن اس جملے کے بعد دوسرے ہی پیراگراف میں علیم اشرف خاں لکھتے ہیں کہ ’’جلال خاں قورچی اور حکیم عین الملک کی سفارش پر ملا عبدالقادر بدایونی کو 981 ہجری میں بادشاہ وقت جلال الدین محمد اکبر کے دربار میں جگہ ملی اور بقول اکبر ’’یہ بدایونی عالم حاجی ابراہیم سرہندی کی خوب سرکوبی کرے گا۔‘‘ کے مصداق دربار میں مامور ہوئے۔‘‘ (صفحہ: xx)
اس طرح تاریخ تصنیف 961ھ اور دربار اکبری میں جگہ پانے میں 981ھ  میں نمایاں فرق ہے۔ اگر اس تحقیق طلب نمایاں فرق پر تحقیقی کوشش کی جاتی تو ممکن تھا کہ صحیح تاریخ کاعلم ہوجاتا۔
بہرحال ’منتخب التواریخ‘ تین جلدوں پر مشتمل ہے۔ زیر نظر پہلی جلد میں غزنوی عہد حکومت سے لے کر مغل بادشاہ ہمایوں کی وفات تک پر ہے۔
کتاب کے مشمولات پر نظر ڈالتے ہیں تو اندراہ ہوتا ہے کہ مترجم علیم اشرف خاں نے بلاشبہ بہت ہی سادہ اور رواں دواں لب و لہجہ میں ملا عبدالقادر بدایونی کی فارسی زبان میں تصنیف کردہ منتخب التواریخ کا اردو ترجمہ پیش کیا ہے۔ جو تواریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے اہمیت کی حامل ہے۔ مترجم نے بعض ضروری وضاحت کے لیے ہر باب کے اختتام پر حواشی بحوالہ بھی دیا ہے، جس سے بہت ساری ایسی باتیں، جوتجسس پیدا کرتی ہیں، وہ حواشی کے مطالعے سے دور ہوجاتی ہیں۔ مثلاً صفحہ 15 پر عبدالقادر بدایونی (ترجمہ) لکھتا ہے کہ ….
’’ /401ھ /1010ء میں سلطان محمود نے پھر غزنی سے ملتان کا قصد کیا اور اس علاقہ کے باقی ماندہ حصے پر بھی قابض ہوگیا۔ اس نے یہاں کے بہت سے قرامطہ اور ملاحدہ کو بھی موت کے گھاٹ اتارا…..‘‘ اب یہاں پر قرامطہ اور ملاحدہ کے سلسلے میں معنی و مطلب قاری جاننا چاہتا ہے تو اس مسئلہ کو مترجم نے بڑی خوبصورتی سے حواشی میں حوالے کے ساتھ اس طرح بیان کیا ہے، وہ لکھتے ہیں…..
’’ قرامطہ، ملحد مسلمانوں کا ایک فرقہ، جس کا بانی ایک شخص قرامطہ تھا، اس نے 278ھ  میں اس کی بنیاد ڈالی تھی۔ ان کاعقیدہ یہ تھا کہ جبر و تشدد سے ہر قسم کا مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ 319ھ میں اس کے ایک معتقد ابوطاہر کی قیادت میں مکہ معظمہ میں خونریز جنگ ہوئی تھی۔ جس میں بے شمار آدمی قتل ہوئے تھے اور بڑی لوٹ مار مچی تھی۔ قرامطہ خانہ کعبہ سے حجر اسود بھی اٹھا کر لے گئے تھے جوبیس سال تک انہی کے پاس رہا بحوالہ :کتاب الملل والنحل، ص 147، سیاست نامہ، نظام الملک طوسی‘‘ (صفحہ: 70)
ملا عبدالقادر بدایونی کی تصنیف کے مطالعے سے بہت ساری معلومات میں اضافہ ہوتا ہے۔ ایک طرف جہاں اس کتاب میں بادشاہوں کے ظلم و جبر، قتل و غارت گری کے فسانے بھرے پڑے ہیں وہیں کسی کسی بادشاہ کی رواداری، عدل و انصاف کے واقعات توجہ مرکوز کراتے ہیں۔ ملا عبدالقادر بدایونی کا سلطان ناصرالدین محمود بن شمس الدین التمش کے بارے میں یہ انکشاف حیرت انگیز اور درس عبرت ہے کہ ایک بادشاہ اپنے گھریلو اخراجات کے لیے اپنے بیت المال سے رقم نہیں لیتا تھا بلکہ وہ اپنے ذاتی اخراجات، کلام پاک کی کتابت کی آمدنی سے پورا کیا کرتا تھا یہاں تک کہ اس بادشاہ کی بیوی کو کھانا بنانے میں تعاون کے لیے کوئی کنیز تک نہیں تھی۔
ہم لوگ اکثر و بیشتر ایک ضرب المثل بیان کرتے ہیں ’’ہنوز دلی دور است ‘‘، اس کے سیاق و سباق کو عبدالقادر بدایونی نے ایک واقعہ کے ساتھ اس طرح بیان کیا ہے:
’’یہ واقعہ 725ھ /1325ء میں پیش آیا۔ غیاث الدین نے کل چار سال اور کچھ ماہ تک حکومت کی۔ ہندوستان کے عوام میں یہ مشہور ہے کہ غیاث الدین کو حضرت شیخ نظام الدین اولیاء سے رنجش تھی۔ اس نے لکھنوتی سے دہلی آتے ہوئے شیخ کے پاس پیغام بھیجا تھا کہ ’’اب کی بار دہلی میں یا میں رہوں گا یا نظام الدین‘‘ اس کے جواب میں شیخ کی زبان سے نکلا ’ہنوز دلی دور است‘ اسی دن سے یہ قول ضرب المثل بن گیا۔‘‘ (صفحہ۔155)
زیر نظر اس تصنیف میں قدیم کتابوں کا کئی جگہ ذکر بطور خاص ملتا ہے جو یقیناً علم میں اضافے کی حیثیت رکھتا ہے۔
’سوری خاندان‘ کے تحت عبدالقادر نے شیر خاں کے سلسلے میں بھی بہت دلچسپ واقعات بیان کیے ہیں۔ شیر خاں کے انتقال کے بعد سوری خاندان کا بکھراؤ ہوا اور ہمایوں کی دوبارہ واپسی ہوتی ہے، ہمایوں کے بہت سارے واقعات کے ساتھ ساتھ اس کے کتب بینی کے شوق کا بھی تفصیل سے ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ہمایوں علم دوست بادشاہ تھا اور اس نے شیر شاہی قلعے میں شیر منڈل کی سہ منزلہ عمارت کی آخری منزل پر اپنا کتب خانہ قائم کیا تھا۔ اسے کتب بینی کا اس قدر شوق تھا کہ میدان جنگ میں بھی اس کے ساتھ چھوٹا سا سفری  کتب خانہ بھی رہتا۔ بادشاہ ہمایوں کے عہد کے بہت سارے شعرا اور عالم و فاضل اور جامع کمالات شخصیات کا بھی ذکر دلچسپی سے خالی نہیں۔
’منتخب التواریخ‘ بلاشبہ ملا عبدالقادر بدایونی کی ایک شاہکار تصنیف ہے، جسے مترجم علیم اشرف خاں نے اپنی بھرپور صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے عام فہم زبان میں فارسی سے اردو میں ترجمہ کرکے، عہد جدید میں اس کی اہمیت اور افادیت میں اضافہ کیا ہے جس کے لیے وہ قابل تحسین اور مبارکباد کے مستحق ہیں۔ اس کتاب کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2008 میں اسے قومی کونسل نے پہلی بار شائع کیا تھا اور 2017 میں اس کا تیسرا ایڈیشن سامنے آیا۔ اس تاریخی کتاب کی پیشکش عمدہ اور قیمت ضخامت کے لحاظ سے بے حد کم ہے۔

شعبۂ فروخت: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، ویسٹ بلاک8، وِنگ7، آرکے پورم، نئی دہلی ۔ 66
فون: 011-26109746
E-mail.:sales@ncpul.in

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *