مودی حکومت کے خلاف کانگریس کی ’جمہوریت بچاؤ‘ ریلی

Poster

نئی دہلی، ۶ مئی (نامہ نگار): سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ، سونیا اور راہل گاندھی سمیت کانگریس کے تمام بڑے لیڈروں نے آج مودی حکومت کے خلاف دہلی کے جنتر منتر سے پارلیمنٹ اسٹریٹ تک ’جمہوریت بچاؤ ریلی‘ نکالی۔ اس کے مد نظر دہلی پولس نے پارلیمنٹ کے ارد گرد کے علاقے میں دفعہ ۱۴۴ لگا دی تھی، جس کی خلاف ورزی کرنے پر کانگریس کے ان تمام سینئر لیڈروں کو تھوڑی دیر کے لیے حراست میں بھی لیا گیا، لیکن جلد ہی رہا بھی کر دیا گیا۔

ریلی کی سب سے خاص بات یہ رہی کہ پہلی بار کانگریس کے پوسٹر پر سونیا اور راہل کے ساتھ ہی رابرٹ واڈرا کی بھی تصویر لگائی گئی تھی۔ قابل ذکر ہے کہ مودی حکومت جب سے مرکز میں آئی ہے، تب سے سونیا کے دامان رابرٹ واڈرا کو لگاتار نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

Congress Rally (6)

جنتر منتر پر اپنی تقریر کے دوران سونیا گاندھی نے مودی حکومت کو زبردست تنقید کا نشانہ بنایا اور اس پر الزام لگایا کہ وہ ملک سے جمہوریت کو ختم کرنا چاہتی ہے، لیکن کانگریس اسے ایسا نہیں کرنے دے گی۔

کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی نے جنتر منتر پر جمہوریت بچاؤ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’آج ہم سب ایک پیغام دینے کے لیے جمع ہوئے ہیں، جسے صرف رائے سینا میں بیٹھے لوگ ہی نہیں، بلکہ ناگپور میں بیٹھے لوگ بھی یہ سنیں، جن کے اشارے پر یہ حکومت چل رہی ہے۔ میں یہ صاف کہنا چاہتی ہوں کہ جمہوریت کو برباد کرنے کی یہ جتنی بھی کوشش کرلیں، ہم جیتے جی یہ کامیاب نہیں ہونے دیں۔‘‘

سونیا نے کہا کہ ’’ہمیں ڈرانے کی، بدنام کرنے کی کوشش جتنی بھی یہ لوگ کر لیں ہم ڈرنے والے نہیں ہیں۔ ہم نے زندگی میں چنوتیوں کا سامنا کرنا سیکھا ہے۔ انھیں پتہ نہیں ہے کہ ہم کس مٹی کے بنے ہیں۔ ملک مخالف طاقتوں سے لڑنا ہمارے لیے نئی بات نہیں ہے۔ ہم یہ لڑائی لڑنا جانتے ہیں۔ ہم نے انسانیت کے لیے خون بہایا ہے، اپنی جان دی ہے۔ ہم ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔‘‘ سونیا نے یہ بھی کہا کہ مہنگائی کی وجہ سے پورا ملک آج پریشان ہے۔

Congress Rally (7)

کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے اپنی تقریر میں کہا کہ ملک میں قحط پڑا ہوا ہے، ہر دن ۵۰ کسان خود کشی کر رہے ہیں، لیکن مودی جی کچھ نہیں کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم پر حملہ بولتے ہوئے راہل نے کہا کہ انھوں نے ملک کے نوجوانوں کو روزگار دینے کا وعدہ کیا تھا، لیکن ’میک اِن انڈیا‘ جیسے پروگرام کا بڑے پیمانے پر پرچار کرنے کے بعد بھی وہ نوجوانوں کو روزگار دلانے میں ناکام ہوئے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ آج کل جو بھی مودی حکومت کے خلاف بولنے کی کوشش کرتا ہے، اس کے خلاف جھوٹے الزامات لگا دیے جاتے ہیں۔ راہل نے کہا کہ ملک میں صرف دو ہی لوگوں کی چلتی ہے، مودی کی اور موہن بھاگوت کی۔

 

سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کہا کہ ۱۸۸۵ سے لے کر اب تک بہت سے لوگوں نے کانگریس کو ختم کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب اس لیے نہیں ہو سکے کہ کانگریس ہی اس ملک کی روح ہے۔ انھوں نے اتراکھنڈ اور اروناچل پردیش میں کانگریس حکومت گرانے کا الزام بی جے پی پر لگاتے ہوئے کہا کہ موجودہ بی جے پی حکومت جمہوریت کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ منمو ہن سنگھ نے یہ بھی کہا کہ مودی کے دور میں یونیورسٹیوں اور عدالتوں پر حملہ ہو رہا ہے، لیکن کانگریس جمہوریت کو بچانے کی پوری کوشش کرے گی اور بی جے پی کے جمہوریت مخالف منصوبوں کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *