مودی سے پریشان کشمیری پنڈت، بازآبادکاری میں ہو رہی دیر

Modi in Kashmir

ریاستی حکومت زمین کی نشاندہی کرے تو منصوبہ پر کام شروع ہوگا: وزارت داخلہ

نئی دہلی، ۴ مئی (نامہ نگار): لوک سبھا انتخابات سے قبل نریندر مودی نے ملک بھر کے مختلف مقامات پر مہاجرت کی زندگی بسر کر رہے کشمیری پنڈتوں سے وعدہ کیا تھا کہ مرکز میں بی جے پی کی حکومت بننے پر وہ ان پنڈتوں کو کشمیر میں دوبارہ بسانے کا کام کریں گے۔ لیکن ان کی حکومت کے دو سال گزر جانے کے بعد بھی، یہ وعدہ ابھی تک وفا نہیں ہو سکا ہے، جس کی وجہ سے کشمیری پنڈت وزیر اعظم مودی سے ناراض چل رہے ہیں۔ مہاجر کشمیری پنڈتوں کےلیے وادیٔ کشمیر میں علیحدہ بستی قائم کرنے کا منصوبہ اب بھی زیر غور ہونے کا اشارہ دیتے ہوئے مرکزی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ کشمیری پنڈتوں کےلیے”کمپوزٹ ٹاﺅن شپ“ کے قیام کی خاطر ریاستی سرکار سے اراضی کی نشاندہی کرنے کی درخواست کی گئی ہے اور زمین کی نشاندہی ہونے کے بعد اس منصوبے پر عمل شروع کر دیا جائے گا۔

لوک سبھا رکن راجن وچارے نے ایک تحریری سوال کے ذریعہ حکومت سے یہ جاننے کی کوشش کی تھی کہ آیا کشمیری پنڈتوں کی وادی میں واپسی اوربازآبادکاری کے کسی منصوبے پر غور کیا جارہا ہے؟ سوال کے جواب میں امور داخلہ کے مرکزی وزیر مملکت ہری بھائی پراٹھی بھائی چودھری نے کہا کہ مہاجر کشمیری پنڈتوں کےلیے وادی میں کمپوزٹ ٹاﺅن شپ قائم کرنے کے لیے ریاستی حکومت کو مناسب اراضی کی نشاندہی کرنے کےلیے کہا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایک بار زمین کی نشاندہی ہوجائے تو اس منصوبے پر مزید کارروائی شروع کی جائے گی۔ قابل ذکر ہے کہ حکومت کے پاس کشمیری مہاجرین کے ۶۲ ہزار کنبے رجسٹرڈ ہیں، جن میں سے ۴۰ ہزار ۶۶۸ کنبے جموں، ۱۹ ہزار ۳۳۸ کنبے دہلی اور دو ہزار کنبے ملک کے دیگر حصوں میں رہائش پذیر ہیں۔

Kashmiri Pandits

ہری بھائی پراٹھی بھائی چودھری نے ایوان کو یہ بھی بتایا کہ مہاجرین کی مالی امداد کے حوالے سے گزشتہ برسوں کے دوران متعدد اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ اس ضمن میں انہوں نے بتایا کہ سال ۲۰۰۴ میں وزیر اعظم کے خصوصی پیکیج کے تحت جموں میں چار مختلف مقامات پر دو کمروں والے پانچ ہزار سے زائد رہائشی کوارٹر تعمیر کرکے مہاجرین کے درمیان تقسیم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سال ۲۰۰۸ میں حکومت نے کشمیری مہاجرین کی وادی واپسی اور بازآبادکاری کےلیے ۱۶۱۸  کروڑ ۴۰ لاکھ روپے کے ایک پیکیج کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت مہاجرین کو نقد امداد کی فراہمی کے علاوہ مکانوں کی تعمیر یا مرمت، زرعی سرگرمیوں، وضائف اور خود روزگار کمانے کےلیے بھی مالی معاونت کرنا مقصود تھا۔ انہوں نے کہا کہ پیکیج کے تحت سینکڑوں مہاجر نوجوانوں کو نوکری فراہم کی گئی۔

امور داخلہ کے مرکزی وزیر مملکت نے مزید کہا کہ ۱۸ نومبر ۲۰۱۵ کو حکومت ہند نے مہاجر کشمیری پنڈتوں کی باز آبادکاری کے لیے دو ہزار کروڑ روپے کے ایک پیکیج کو منظوری دی تھی، جس کے تحت کشمیری پندٹوں کو تین ہزار نوکریاں اور نوکریاں حاصل کرنے والوں کے لیے ۶ ہزار رہائشی کوارٹر تعمیر کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ پیکیج پر مؤثر اور فوری عمل آوری کو یقینی بنانے کے اقدامات اٹھائے۔ انہوں نے اس بات کی وضاحت بھی کی کہ کشمیری مہاجرین کی امداد اور بازآبادکاری پر ریاستی حکومت جو رقومات صرف کرتی ہیں، وہ حکومت ہند کی طرف سے سیکورٹی سے جڑے خرچہ جات کی مد پر فراہم کی جاتی ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ کچھ عرصہ قبل جب وادی میں کشمیری پنڈتوں کےلیے علیحدہ ژون کے قیام کا منصوبہ زیر غور ہونے کا اعلان کیا گیا تھا، تو وادی بھر میں زوردار احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ کئی ہفتوں تک جاری رہا، جس کے بعد اس بارے میں خاموشی اختیار کر لی گئی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *