مہاراشٹر والے اب بیف کھا سکتے ہیں

Cow

ممبئی، ۶ مئی (ایجنسیاں): بامبے ہائی کورٹ نے آج فروری میں لائے گئے گئو کشی قانون کے کچھ حصوں کو منسوخ کرتے ہوئے کچھ شرطوں کے ساتھ بیف کھانے کی اجازت دے دی۔ عدالت نے صوبہ بھر میں گئوکشی پر پابندی کو تو جاری رکھا ہے، لیکن دوسرے صوبوں سے گائے، بیل، بھینس جیسے بڑے جانوروں کے گوشت منگوانے، اسے اپنے پاس رکھنے اور کھانے پر لگائی گئی پابندی کو ہٹا لیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ گئوکشی پر پابندی لگانے سے سماج کے بہت سے حصے مہاراشٹر حکومت سے کافی ناراض تھے۔ مسلمانوں کے علاوہ ہندوؤں اور عیسائیوں کی بھی ایک بڑی آبادی بیف کھاتی ہے۔ لہٰذا وہ حکومت کے ذریعہ لگائی گئی اس قسم کی پابندی کو اپنی نجی زندگی میں دخل قرار دے رہے تھے اور اس کی مخالفت کر رہے تھے۔ اسی دوران ممبئی کے ایک باشندہ عارف کپاڑیا اور مشہور و معروف وکیل ہریش جگتیانی نے اس قانون کی اس شق کو عدالت میں چیلنج کیا تھا، جس کے تحت اپنے پاس بیف رکھنا بھی جرم تھا۔

آپ کو یاد ہوگا کہ چند ہندو انتہا پسندوں نے دہلی سے چند کلومیٹر کی دور پر واقع اترپردیش کے دادری گاؤں میں اخلاق نامی شخص کو اپنے گھر کی فریج میں بیف رکھنے کی افواہ پر ہی قتل کر دیا تھا۔ حالانکہ بعد میں پتہ چلا تھا کہ وہ گوشت بیف نہیں، بلکہ بکرے کا تھا۔

آج جمعہ کو ہوئی سماعت میں بامبے ہائی کورٹ نے مہاراشٹر مویشی تحفظ (ترمیمی) قانون کو قائم رکھتے ہوئے اس کی کچھ شقوں کو خارج کر دیا۔ عدالت کے اس فیصلہ کے بعد اب مہاراشٹر میں بیف رکھنا اور کھانا جرم نہیں مانا جائے گا۔ عدالت کے حکم کے مطابق، دیگر صوبوں میں ذبح کیے گئے گائے کے گوشت کی خرید و فروخت اب مہاراشٹر میں کی جا سکتی ہے۔

پچھلے سال فروری میں صدرِ جمہوریہ پرنب مکھرجی کی مہر کے بعد مہاراشٹر مویشی تحفظ (ترمیمی) قانون کو پورے صوبہ میں نافذ کر دیا گیا تھا۔ سال ۱۹۷۶ میں بنائے گئے بنیادی قانون میں گئو کشی پر پابندی تھی، لیکن اس میں ترمیم کے بعد بیل اور بچھڑے کو بھی اس میں شامل کر لیا گیا تھا۔ یہی نہیں، ان جانوروں کا گوشت کھانے اور اسے اپنے پاس رکھنے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو پانچ سال قید اور ۱۰ ہزار روپے کا جرمانہ ہو سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *