میڈیا کو جنگ کا ماحول بنانے سے بچنا چاہیے: جماعت اسلامی

جماعت اسلامی ہند نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے خاتمے پر اطمینان کا اظہار کیا
نئی دہلی : امیر جماعت اسلامی ہند نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے کہ گزشتہ چند روز سے ہمارے ملک ہندوستان اور پڑوسی ملک پاکستان میں مختلف سطحوں پر جو انتہائی جذباتی اور سخت کشیدگی کا ماحول بن گیا تھا، اس میں کچھ بہتر و خوش آئند تبدیلی محسوس ہو رہی ہے اور دونوں ہی ممالک بات چیت اور گفت و شنید سے مسائل کو حل کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ خدا کرے کہ اس سلسلے میں عملی اقدامات کیے جا سکیں اور دونوں ہی ملکوں میں امن و آشتی کی فضا قائم ہو سکے۔ امیر جماعت نے کہا کہ 14   فروری کو پلوامہ میں سی آر پی ایف پر جو حملہ ہوا، جس میں 40 سے زائد فوجی ہلاک ہوئے، جماعت اسلامی ہند اس کی شدید مذمت کرتی ہے۔ جماعت اسلامی ہند کا یہ بھی احساس ہے کہ پلوامہ کے افسوسناک حملے اور اس کے بعد کی کارروائیوں کو جس طرح سیاسی مفادات کے حصول اور انتخابی ہتھیار بنانے کی کوشش کی گئی وہ انتہائی ناپسندیدہ ہے۔ پلوامہ حملہ میں سیکورٹی کی سطح پر جو کمزوریاں اور بے ضابطگیاں ہوئیں ان کی اعلیٰ سطح پر جانچ ہونی چاہیے اور ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔ اب بھی وقت ہے کہ اس سلسلے میں جو کمزوریاں رہی ہیں ان کی تلافی کی جائے۔ محترم امیر جماعت نے کہا کہ جماعت اسلامی کا احساس ہے کہ ہمارے میڈیا کا بڑا حصہ بالخصوص الیکٹرانک میڈیا کا کردار انتہائی تشویشناک اور غیر ذمہ دارانہ ہے۔ میڈیا نے ملک میں تقریباََ جنگ کا سا ماحول بنا دیا تھا۔ میڈیا کے مباحثے ، مکالمے، خبریں اور نشریے ہیجان انگیز پروپیگنڈا بن گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ہند توقع کرتی ہے کہ ملک کی سلامتی اور دیگر حساس معاملوں میں میڈیا ذمہ دارانہ کردار ادا کرے گا اور امن کا ماحول پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔ مولانا عمری نے کہا کہ جماعت اسلامی ہند کا احساس ہے کہ جماعت اسلامی جموں و کشمیر پر حال میں عائد کردہ پابندی اور اس کے قائدین اور کارکنان کی گرفتاری ایک غلط اور غیردانشمندانہ اقدام ہے۔ جماعت اسلامی جموں و  کشمیر تعلیمی، سماجی اور فلاحی خدمات انجام دے رہی ہے۔ اس کے اس کردار کی روشنی میں ہمیں توقع ہے کہ حکومت اپنے اس اقدام کو واپس لے کر کشمیری عوام کو ایک مثبت اور واضح پیغام دے گی۔
کانفرنس کی ابتدا میں مئمیڈ کو بریف کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری جنرل محمد سلیم انجینئر نے کہا کہ ناسک اسپیشل ٹاڈا کورٹ کے فیصلے کے ذریعے 11 مسلم افراد کی 25 سال بعد رہائی پر جماعت اسلامی ہند اطمینان کا اظہار کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان افراد کو پورے ملک سے 25 سال پہلے حراست میں لیا گیا تھا اور ٹاڈا کے تحت چارج شیٹ داخل کی گئی تھی۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے بابری مسجد کی شہادت کا بدلہ لینے کے لیے سازش رچی اور دہشت گردی کی ٹریننگ حاصل کی۔ اس فیصلے سے اور اس سے پہلے بھی کئی ایسے فیصلے ہوئے جن کے ذریعے مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کے الزام سے کئی سال بعد بری کیا جاتا ہے، جماعت اسلامی ہند کے نزدیک اس سے یہ صاف طور پر ثابت ہوتا ہے کہ مسلمان نوجوانوں کو بے بنیاد الزامات لگا کر قید کیا جاتا ہے۔ یہ ان دشمنان وطن کی گہری سازش کا نتیجہ ہے جس کے تحت مسلمانوں کی ہمت پست کرنا، مسلمان قوم کے لیے ملک میں نفرت پیدا کرنا اور حقیقی دہشت گردوں کو بچانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ جماعت کا مطالبہ ہے کہ وہ تمام بے بنیاد الزاموں کو واپس لے جو مسلم نوجوانوں کے خلاف لگائے گئے ہیں اور ان لوگوں کو رہا کیا جائے جنہیں محض شک کی بنیاد پر قید کیا گیا ہے۔ جماعت مطالبہ کرتی ہے کہ جن افسران نے ان پر غلط اور جھوٹے الزامات لگائے تھے، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ بریفنگ کے دوران سکریٹری جنرل نے آسام میں 120 چائے مزدور اور اس سے پہلے یو پی اور اتراکھنڈ میں 100 سے زائد افراد کی زہریلی شراب سے اموات پر تشویش کا اظہار کیا۔
Facebook Comments
Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply