میں بھی تمہارا مجرم ہوں

قلم گوید
اسفرفریدی
ملک میں ان دنوں مسلم بیٹیوں، بہنوں اور بیویوں کو ان کے حقوق دینے اور دلانے کی بحث بڑی شدومد کے ساتھ جاری ہے۔ اس کا نتیجہ کیا نکلے گا، نہیں معلوم لیکن بحث کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ خاص طور سے اس لیے بھی کہ اس مباحثے میں وطن عزیز کا پردھان سیوک بھی شامل ہوگیا ہے۔ انہوں نے ۲۴؍ اکتوبر کو اترپردیش کے بندیل کھنڈ علاقے میں واقع مہوبا میں ’مہا پریورتن ریلی‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہا:’مادہ جنین کا قتل ایک گناہ ہے۔ کیا ہوا گناہگار ایک ہندو ہے۔ میری حکومت نے اس معاملے میں کئی اقدامات کیے ہیں۔ بیٹیوں ،ماؤوں اور بہنوں کی حفاظت ہونی چاہیے۔ اس میں مذہب کو درمیان میں نہیں لانا چاہیے۔ ماؤوں اور بہنوں کا احترام ہونا چاہیے۔ ہم نے ان مسائل کو مضبوطی کے ساتھ اٹھا یا ہے۔ ‘ انہوں نے مزید کہا:’اب تین طلاق کا مسئلہ سامنے آیا ہے۔ جیسے مادہ جنین کو مارنے والے ایک ہندو کو جیل جانا ہی ہے، ٹھیک اسی طرح ہماری مسلم بہنوں کا کیا قصور ہے کہ کوئی فون پر اس کو طلاقکہتا ہے اور اس کی زندگی برباد ہوجاتی ہے۔جمہوریت میں بحث ہونی چاہیے۔ حکومت نے اپنا موقف ظاہر کردیا ہے۔ ملک میںتین طلاق کے ذریعہ مسلم خواتین کی زندگی برباد کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ‘
وطن عزیز ہندوستان کے پردھان سیوک کے منھ سے یہ باتیں بہت اچھی لگتی ہیں۔ آخر وہ ہمارے وزیر اعظم ہیں۔ اب تک ان پر الزام لگتا رہا تھا کہ وہ مسلم عورتوں کے قاتلوں کی حمایت کرتے ہیں۔ لیکن راقم نے کبھی مسلم قاتلوں کی حمایت کے حق میں ان کا اعلانیہ بیان نہ پڑھا اور نہ سنا۔ البتہ انہوں نے مسلم خواتین کو تحفظ فراہم کرانے کے عزم کا اظہار بھری مجلس میں کیا۔ اس کے لیے انہیں داد دینی چاہیے۔ ہاں اس کے ساتھ ہی ان سے ایک چھوٹا سا سوال بھی کرنا چاہیے، جناب والا ہندوستان کی مسلم خواتین کی زندگی کیا صرف تین طلاق ہی سے برباد ہورہی ہے؟ اس کے کوئی دوسرے اسباب وعوامل نہیں ہیں؟ بیوی بننے سے پہلے وہ بیٹی ہوتی ہے۔ اسی عمر میں زندگی کو سنوارنے کی بنیاد پڑتی ہے۔ کہتے ہیں بچپن کا کھایا پیا ہی بعد میں کام آتا ہے۔ اسی دوران صحت بھی بنتی اور بگڑتی ہے۔اسکول ، کالج اور یونیورسٹیوں میں باضابطہ تعلیم حاصل کرنے کا بھی عام طور سے یہی وقت ہوتا ہے۔ وزیر اعظم صاحب!زندگی کے بننے بگڑنے کا عمل وہیں سے شروع ہوتا ہے۔ اس کے بعد دوسرا مرحلہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ جوانی کے زینے پر چڑھنا شروع کرتی ہیں۔ اس وقت ان کی زندگی کو برباد کرنے والے بہت ہوتے ہیں۔ آپ جانتے ہونگے، ایسے لوگوں میں تین طلاق کہنے والے نہیں ہوتے۔ دوسرے لوگ ہوتے ہیں۔ ملک میں صرف مسلم بیٹیوں اور بہنوں کی زندگی کے تحفظ ہی سے کام نہیں چلے گا۔ ان کے بارے میں بھی سوچنے کی ضرورت ہے جنہیں طلاق دی ہی نہیں جاتی ۔ آپ سے بہتر بھلا اور کون جان سکتا ہے۔ ان کی زندگی بھی صرف شادی کے بعد ہی شروع نہیں ہوتی۔ ان کا بھی بچپن ہوتا ہے، لڑکپن ہوتاہے، جوانی ہوتی ہے اور بڑھاپا آتا ہے۔ لیکن نہ ان کے کھیل کود کا کہیں کوئی بندوبست ہے، نہ ان کی تعلیم وتربیت کے لیے مناسب اسکول اور ادارے ہیں ۔ جہاں تک ان کی صحت کا مسئلہ ہے ، اس کے بارے میں تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ آ ج بھی اس کو مسئلہ نہیں سمجھا جاتا۔ اس کا اندازہ مرکزسے لے کر ریاستی حکومتوں کے بجٹ سے لگایا جاسکتا ہے۔ مالی سال ۲۰۱۷۔۲۰۱۶کے لیے ۳۳؍ہزار کروڑروپے شعبۂ صحت کے لیے مختص کیے گئے۔ یہ رقم کم وبیش ملک کی کل ناخالص آمدنی (جی ڈی پی) کا ۱ایک اعشاریہ چار فیصد کے قریب ہے۔ بارہویں پنج سالہ منصوبہ کے تحت صحت کے شعبہ میں جی ڈی پی کادو اعشاریہ پانچ فیصد حصہ خرچ کرنے کا ارادہ کیا گیا تھا۔ لیکن حکومت کے دوسرے وعدوں اور ارادوں کی طرح وہ بھی بس ارادہ ہی رہا۔ حالت یہ ہے صحت عامہ کے معاملے میں نیپال جیسے ممالک بھی ہم سے زیادہ حساس ہیں اور زیادہ خرچ کرتے ہیں۔ یہی حال تعلیم کا ہے۔ تعلیم اور صحت جیسے اہم معاملوں میں حکومتوں کے مایوس کن رویوں سے صرف مسلم لڑکیوں اور عورتوںہی کی حق تلفی نہیں ہوتی۔ ملک کی سبھی بیٹیوں پر اس کا منفی اثر پڑتا ہے۔ گجرات میں بھی اس کا اثر دیکھا جاسکتا ہے۔ ایسے میں کیا وطن عزیز میں صرف مسلم عورتوں کی زندگی کو برباد ہونے سے بچانے کے طور طریقوں پر بحث ہونی چاہیے ، یا پورے ملک کی بیٹیوں کے جملہ مسائل کو اٹھانے کے ساتھ ہی ان کے حل کے لیے مثبت اور مؤثر اقدام بھی کرنے کی ضرورت ہے۔ اور ہاں، ملک میں صرف مسلم عورتوں کی زندگی ہی نہیں برباد ہوتی ہے، مردوں اور خاص طور سے نوجوانوں کی بھی زندگی برباد ہوتی ہے، اور برباد نہیں ہوتی بلکہ کی جاتی ہے۔ اس صورت حال سے وزیر اعظم اور ان کے قریبی افراد بھی واقف ہونگے۔
سچ تو یہ ہے کہ ہندوستان میں عورتوں اور مردوں کا اصل مسئلہ تین طلاق یا یکساں سول کوڈ نہیں بلکہ انہیں بچپن سے لے کر ایام جوانی تک بنیادی سہولتوں سے محروم رکھنے کا چلن سنگین مسئلہ ہے۔ وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں تین طلاق کے مسئلہ پر ہندواور مسلمان کو بانٹنے سے بھی منع کیا۔ اس کے لیے انہوں نے خاص طور سے میڈیا سے اپیل کی۔ لیکن یہاں بھی وہ صرف طلاق ہی کے مسئلہپر ہندواور مسلمان کو بانٹنے کی مخالفت کرتے ہیںجبکہ ملک کے بیشتر مسائل میں دونوں کو بانٹا جاتا ہے اور بانٹنے والوں میں ان کی جماعت کے لوگ زیادہ پیش پیش رہے ہیں۔ ان کی طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ا س سلسلے میں ایک نامعلوم شخص کا وہ خط وزیر اعظم کے ساتھ ہی ہندوستان کی بیٹیوں کے حضور پیش کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ اس نے ایک بیٹی کو لکھا تھا:
مجھے معلوم ہے ، میں نے تمہاری پرورش میں بہت سی کوتاہیاں کی ہیں۔ عام طور پر مجھ جیسے فرد سے ایسی کوتاہیوں کا سرزد ہوجانا کوئی بڑی بات بھی نہیں لگتی ۔ لیکن آج میں اقبال جرم کرنا چاہتا ہوں۔ تم جانتی ہو کہ تمہیں پڑھانے  لکھانے سے لے کر تمہاری صحت تک کے معاملے میں مجھ سے جو کوتاہی اور کمی ہوئی ان سب کے لیے میں اپنی مالی حالت کو ذمہ دار قرار دیتا تھا۔ لیکن آج محسوس کرتا ہوں، اور یہ احساس پورے اعتماد کے ساتھ ہے کہ اس کی وجہ  مالی کمی سے زیادہ احساس ذمہ داری کی کمی تھی ۔ اب مجھے لگتا ہے کہ تم جب چھوٹی تھی، اس وقت اگر تمہیں کسی اسکول میں داخل کرانے کی صلاحیت نہیں تھی تو کم سے کم خود سے تو پڑھا ہی سکتا تھا۔ وہ میں نے نہیں کیا۔ میں دن بھر کام کرنے کے بعد بچے ہوئے وقت کو خوش گپیوں میں اڑا دیتا تھا۔ تمہاری صحت کے معاملے میں بھی ہمارا یہی رویہ رہا۔ تم باربار اپنی تکالیف بتاتی رہتی، لیکن میں پیسے کی کمی کے سبب کسی ڈاکٹر کے پاس نہیں لے جاتا۔ اس دوران یہ بھول جاتا کہ ہماری دسترس میں  ایسی بھی جگہیں ہیں جہاں علاج کے لیے پیسے یا تو نہیں لگتے ہیں یا بہت کم لگتے ہیں۔ میںوہ بھی نہیں کرسکا۔ تمہاری شادی کے دن آئے۔ میں نے اس وقت بھی تمہارے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ ایک بار بھی تم سے نہیں پوچھا کہ شادی کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے اور جس سے تمہارا رشتہ باندھا جارہا ہے ، اس کے بارے میں تم کیا سوچتی ہو۔ ہمارے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ بیٹیوں اور بہنوں کے احترام وتحفظ کے معاملے میں مذہب کو درمیان میں نہیں لانا چاہیے۔ میں نے ان کی بات کا احترام کیا ہے۔ ملک کی باگ ڈور ان کے ہاتھ میں ہے ۔ ان سے امید ہے کہ وہ مسلم عورتوں کے ساتھ ہی ملک کی دوسری عورتوں کی زندگی کو بھی برباد ہونے سےبچانے کے لیے مؤثر اقدام کریں گے ۔ اس سے ذکیہ جعفری بھی بچ جائے گی۔ عورتیں بچ گئیں تو مردویسے ہی محفوظ ہوجائیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *