نادر و نایاب کتابوں کی اشاعت کو ترجیح دی جائے گی: ارتضیٰ کریم

DSC_0043_1

نئی دہلی، ۲۸ اپریل (پریس ریلیز): قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، ایسی نادر و نایاب اور نصابی کتابوں کو اپنی اشاعتی اسکیم میں ترجیحی طور پر شامل کرے گی جو لائبریری اور کتب فروشوں کے یہاں دستیاب نہیں ہیں۔

یہ باتیں کونسل کے صدر دفتر میں منعقدہ اردو ادب پینل کی میٹنگ میں کونسل کے ڈائرکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کہیں۔ انھوں نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ جو میٹنگ لمبے وقفے کے بعد منعقد کی جاتی تھی، اب چھ ماہ کے اندر دوبارہ منعقد کی گئی ہے۔ یہ کونسل کے لیے خوش آئند بات ہے اور اس سے کونسل کی فعالیت کا ثبوت ملتا ہے۔

اس میٹنگ کی صدارت پروفیسر اعجاز علی ارشد نے کی۔ انھوں نے کہا کہ وہ ادب جو سماج اور طلبہ کی ضروریات کی تکمیل نہیں کر پاتا ہے ایسی کتابوں کی اشاعت بے سود ہے۔ ہمیں ایسی کتابوں کی اشاعت پر زور دینے کی ضرورت ہے جن کی ادبی، عصری معنویت ہو۔ انھوں نے مزید کہا کہ ملازمت، تجارت یا پیشہ سے جوڑ کر دیکھنے کے بجائے اردو کو اپنی ثقافتی وراثت کے طور پر فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر پینل کے رکن پروفیسر وہاج الدین علوی نے کہا کہ میری نظر میں ایسی دو نایاب کتابیں ہیں جن کی دوبارہ اشاعت کی اشد ضرورت ہے۔ عطر سخن، انتخاب زریں۔ پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کہا کہ اگر آپ مسودہ دستیاب کرادیں تو کونسل اس جانب مثبت قدم بڑھائے گی۔ انھوں نے تین ایسی نادر و نایاب کتابوں کا نسخہ پینل کے سامنے پیش کیا جسے اتفاق رائے سے تمام ممبران نے دوبارہ اشاعت کی منظوری دے دی۔ دنیائے افسانہ ۔ ۱۹۲۷،عبد القادر سروری، کردار اور افسانہ۔ ۱۹۲۹ عبد القادر سروری، اصول افسانہ نگاری۔ اویس احمد ادیب۔

میٹنگ میں پروفیسر اعجاز علی ارشد، پروفیسر وہاج الدین علوی، ڈاکٹر نریش، جناب مشتاق احمد نوری، پروفیسر سلیمہ بی کولور، محترمہ مہ جبیں کے علاوہ کونسل کے پرنسپل پبلی کیشن آفیسر ڈاکٹر شمس اقبال، اسسٹنٹ ڈائرکٹر (اکیڈمک) ڈاکٹر شمع کوثر یزدانی، اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر فیروز عالم، ریسرچ اسسٹنٹ محمد انصر اور ٹکنیکل اسسٹنٹ محترمہ آبگینہ نے بھی شرکت کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *