نتیش کمار نے بتائی شراب بندی کی اصل وجہ

پٹنہ: بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے اتوار کو ایک بار پھر زور دے کر کہا کہ ریاست میں شراب بندی جاری رہے گی. انہوں نے یہاں ادھیویشن بھون میں ایک پروگرام کے دوران بہار میں شراب بندی کی وجہ اور اس کے پیچھے کی کہانی بتائی. اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ شراب بندی سماجی اصلاح کے کاموں کا ایک حصہ ہے، اور وہ اس سے سمجھوتہ نہیں کرنے والے ہیں.

نتیش کمار، حکومت بہار

وزیر اعلی نتیش کمار نے کہا: گاندھی جی کا ماننا تھا کہ ہم سب ٹرسٹی ہیں. میرا بھی یہی ماننا ہے کہ حکومت میں ہم خزانے کے ٹرسٹی ہیں، مالک نہیں۔ ہم ریاست کے عوام کے لیے وسائل کا بہتر استعمال کر رہے ہیں. انہوں نے کہا کہ 26  نومبر 2011  سے ہم لوگوں نے یوم انسداد شراب منانا شروع کیا. جو گاؤں شراب سے پاک ہوتا تھا، اس کو ایوارڈ دیا جاتا تھا. پینٹنگ بنانے والے بچوں، نعرے لکھنے والے بچوں کو نوازا جاتا تھا. شراب بندی کے لیے ریاستی حکومت کی طرف سے مہم چلائی جاتی رہی ہے۔ اس کے باوجود شراب کی کھپت کم نہیں ہو رہی تھی.

وزیر اعلی نے کہا کہ شراب کے منفی اثرات کو طالب علمی کی زندگی سے ہی جانتا تھا. جب کرپوری ٹھاکر کی حکومت نے شراب بندی کا فیصلہ کیا تھا تو مجھے کافی خوشی ہوئی تھی لیکن ان کی حکومت جانے کے بعد دوبارہ شراب بندی کا اثر ختم ہو گیا. نتیش کمار نے کہا: شری کرشن میموریل ہال میں 9 جولائی 2015  کو خواتین کے ایک پروگرام میں کچھ خواتین نے شراب بندی کا مطالبہ کیا. میں نے ان سے کہا کہ اگلی بار حکومت میں آتے ہی ریاست میں شراب بندی لاگو کریں گے. حکومت بننے کے بعد مرحلہ وار طریقے سے 1 اپریل 2016  سے ریاست میں شراب بندی لاگو کی گئی لیکن عوامی حمایت کو دیکھتے ہوئے 5  اپریل 2016  سے ریاست میں مکمل شراب بندی نافذ کر دی گئی.  21 جنوری 2017  کو شراب بندی کے حق میں  4  کروڑ لوگوں نے انسانی زنجیر بنا کر اپنی حمایت کا اظہار کیا. اب بھی چند لوگ ہیں جو شراب پینے کو اپنا حق سمجھتے ہیں لیکن شراب پینا اور اس کا دھندہ کرنا بنیادی حق نہیں ہے. شراب بندی سماجی اصلاح کی سمت میں ایک اہم قدم ہے. سماجی اصلاح کے کام میں ہم لگے ہیں، اس میں ہم کسی بھی قیمت پر سمجھوتہ کرنے والے نہیں ہیں.

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *