نسلی امتیاز اور اس کے خلاف قانون کے مطالبہ پر یک روزہ کانفرنس

racism2

نئی دہلی، ۱۹ مارچ (پریس ریلیز): ہر سال ۲۱ مارچ کو نسلی امتیاز ختم کرنے کا بین الاقوامی دن منایا جاتا ہے۔ ہمارے ملک ہندوستان میں بھی روزانہ نسل کی بنیاد پر تعصب کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ مرکزی وزارتِ داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق، دہلی شہر میں نارتھ ایسٹ (شمال مشرقی ہندوستان) کے لوگوں کے ساتھ نسلی امتیاز کے واقعات میں سال ۲۰۱۴ میں ۲۲۵ فیصد کا اضافہ ہوا۔ سال ۲۰۱۴ میں بیز بروا کمیٹی کے ذریعہ پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق، نارتھ ایسٹ کے مہاجرین میں سے ۸۶ فیصد نے نسلی بنیاد پر امتیاز اور ہراساں کیے جانے والے واقعات کا سامنا کیا، جن کا ان کی زندگی پر گہرا نفسیاتی و جسمانی اثر ہوا۔ اس قسم کے واقعات کو روکنے کے لیے فوراً کوئی طریقہ ڈھونڈا جانا چاہیے۔

اسی مسئلہ پر کنٹرول آرمس فاؤنڈیشن آف انڈیا کی جانب سے دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سنٹر میں (آئی آئی سی) میں ۲۱ مارچ بروز پیر کو ایک کانفرنس منعقد کی جائے گی۔ کانفرنس کا عنوان ہے ’’ہندوستان میں تکثیریت اور جمہوریت کی گہری ہوتی جڑیں: نسلی امتیاز کو ختم کرنے کی پہل اور نسل پرستی مخالف قانون کا مطالبہ‘‘۔ کانفرنس کو منعقد کرنے میں ملٹی پل ایکشن ریسرچ گروپ، نارتھ ایسٹ انڈیا ویمن اِنی شئیٹو فار پیس اور این ای آئی ایف اے آر کا تعاون بھی شامل ہے۔ کانفرنس میں بڑے پیمانے پر اس موضوع کے ماہرین، اکیڈمیشینز اور عوامی نمائندوں کے شریک ہونے کی امید ہے۔

ہندوستان نے سال ۱۹۶۷ میں اقوام متحدہ کے ایک معاہدہ پر دستخط کرکے ملک سے نسلی امتیاز کی تمام شکلوں کو ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس قرارداد کو سال ۱۹۶۵ میں اختیار کیا تھا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ملک میں نسلی امتیاز کو ختم کرنے کے لیے ایک سخت قانون بنایا جائے۔ کانفرنس میں انھیں تمام باتوں پر غور و فکر کیا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *