نشتر امروہوی کے ’انکائونٹر‘ نے مچائی دھوم

غالب اکیڈمی میں شعری مجموعہ کی رونمائی کے موقع پرمنعقدہ مشاعرے میں خوب چلے ادبی تیر ونشتر

نئی دہلی (نامہ نگار): بستی حضرت نظام الدین میں واقع غالب اکیڈمی میں طنز ومزاح کے معروف شاعر ڈاکٹر نشتر امروہوی کے مجموعۂ کلام ’انکاؤنٹر‘ کا جمعہ کو رات میں اجرا کیا گیا۔ اس موقع پر ایک مشاعرہ بھی منعقد ہوا جس میں ملک و بیرون ملک کے شعراء نے شرکت کی۔ بزم فراز ادب دہلی کے ذریعے ایکتا سدھار کمیٹی کے بینر تلے اوراردو اکیڈمی دہلی کے تعاون سے منعقد ہ اس بین الاقوامی مشاعرے کی صدارت معروف سماجی خدمتگار معین اختر انصاری نے کی،جبکہ نظامت کے فرائض بزم کے چیئر مین سرفراز احمد فرازؔ دہلوی اور دانش ایوبی نے مشترکہ طورپر انجام دی ۔مہمان خصوصی کے طور پر اشفاق احمد عارفی (سکریٹری،حج کمیٹی دہلی) ، ڈاکٹر نفیس احمد صدیقی ، عبدالقیوم، ڈاکٹر عقیل اور ڈاکٹر رضیؔامروہوی نے شرکت کی۔مشاعرہ کے روح رواں ڈاکٹر نشترؔ امروہوی نے مہمانان کا استقبال کیا جبکہ مشاعرہ کا افتتاح مہمانوں نے شمع روشن کر کے کیا ۔اس موقع پرمہمان اعزازی امریکہ سے تشریف لائے جو ن کارڈول اورافروز تاج نے کہاکہ اردو زبان کے شائقین پوری دنیا میں موجود ہیں ۔جون کارڈول نے اس بات کو سرے سے خارج کیا کہ اردو زبان ختم ہورہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ اردو زبان ایک تہذیب کا نام ہے اور اس کو مذہب کی زبان نہیں سمجھنا چاہیے ۔لہذاہندوستان میں بولی جا نے والی زبان جس کو ہم ہندی سمجھتے ہیںاصل میں وہ اردو زبان ہے ، ہر مقام پر اور ہر محکمے میں اردو پھل پھول رہی ہے ، بالخصوص بالی ووڈ اور الیکٹرانک وپرنٹ میڈیاسمیت دیگر شعبوںمیں اردو زبان فروغ پارہی ہے۔ انہوں نے کہا: میں مانتا ہوں کہ اردو کبھی مر نہیں سکتی ہے ۔ دبئی سے تشریف لائے افروز عالم نے کہاکہ ایسے پروگرام کا انعقاد وقت کی اشد ضرورت ہے، جہاں پر ہندوستان اور دوسرے ملکوں کے اردو زبان چاہنے والے لوگ ایک چھت کے نیچے بیٹھ کراردوکا جشن مناتے ہیں۔

معین اختر انصاری نے نشتر امروہوی کے شعری مجموچہ کی ستائش کرتے ہوئے کہاکہ موصوف نے بہت کم عرصے میں عالمی شہرت حاصل کرلی ،حالانکہ ہر کسی شاعر کے اندر یہ خصوصیت وصلاحیت نہیں ہوتی ہیں،مگران کے کلام کو پڑھ کراور سن کر ساغرخیامی اور دلاور فگار کی یادآجاتی ہے ،نیزمسدس میں میر انیس کا انداز جھلکتا ہے ۔ مہمان ذی وقار گوالیر سے محترمہ رعنا زیبا، بھوپال سے انجم بارہ بنکوی ،علی گڑھ سے ڈاکٹر رضی امروہوی نے اپنے مخصوص کلام پیش کر کے سامعین کو محظوظ کیااور دادوتحسین حاصل کی ۔ دیر رات گئے مشاعرہ اختتام پذیر ہوا ۔شعرا کے ذریعے پیش کیے گئے اہم شعر باذوق قارئین کی نذر ہیں۔

ایک کاغذ پہ مرا نام پتہ بھی لکھ لو
جانے کس موڑ پہ پڑجائے ضرورت میری
ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی

جن کے جتنے تاج ہیں اتنے ہی وہ محتاج ہیں
اس شہنشاہی پہ کیا مجبور ہونا چاہیے
افروز تاج, امریکہ

یہ دور بظاہر تو روشن ہے درخشاں ہے
مزدور کے بس میں تو بس ریڑھ کی ہڈی ہے
افروز عالم دبئی

عافیت امن و اماں اس کی نگہبانی میں ہے
جس نے بیوی سے لیا پنگا پریشانی میںہے
ڈاکٹر رضی ؔامروہوی

جائیں گی بلبلیں یہ کہاں اس چمن کے بعد
کیا اور بھی وطن ہے کوئی اس وطن کے بعد
ڈاکٹر احمد علی برقی ؔ اعظمی

رات ہم نے ایسی کاٹی بے کلی سے ہجر میں
رات بھر بیٹھے رہے پلکوں پہ لے کررات کو
آدیش ؔتیاگی

آرزوؤں کو زیباؔ زباں مل گئی
پھر ہوا یوں کہ ہمراز تم بن گئے
رعنا زیباؔ

ہوا نے اس کی زلفوں کو چھوا تھا
فضاؤں میں نشہ چھانے لگا ہے
سرفراز احمد فرازؔدہلوی

میڈیا کون سے ٹاپک کواچھالے نشترؔ
آج یہ فیصلہ کچھ لوگ کیا کرتے ہیں
یہ جو اخبار ہیں یہ چھپ کے بکا کرتے تھے
ہاں مگر آج تو یہ بک کے چھپا کرتے ہیں
ڈاکٹرنشترؔ امروہوی

ذرا سی تیز ہوا بھی اگر گزر جائے
نشہ چراغ کا جتنا بھی ہو اتر جائے
ارشد ندیمؔ

تاج کو مردہ عمارت مت کہو
عشق نے تو آرزو تعمیر کی
دلدار دہلوی

کبھی خود کو نہ تم ناشاد رکھیو
دعاؤ ں میں ہمیں بھی یاد رکھیو
پیمبر نقوی

چاند میں داغ ڈھونڈنے والے
تین میں ہی رہے نہ تیرہ میں
خمار دہلوی

پھول سے نازک کہا جاتاہے بیٹی کو مگر
ہم غریبوں کے لیے پتھر سے بھی بھاری ہوئی
دانش ایوبی

بظاہر بھیڑ ہے دنیا میں لیکن
اکیلا پھر بھی ہر اک آدمی ہے
صائمہ پروین

میرے جلووں سے کیوں ڈرا جائے
آدمی ہوں میں کوہ طور نہیں
ریکھا جیکب

سفر کی دھوپ نے مجھ سے کہا راہی اکیلا چل
کسی کو ہاتھ تیرا تھامنے کی ہے کہاں فرصت
پنڈت پریم بریلوی

Facebook Comments
Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply