نوشتہ دیوار پڑھ لیں مسلمان

ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی
ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی

۱۹ مئی ۲۰۱۶ کو پانچ ریاستی اسمبلیوں کے انتخابی نتائج سامنے آگئے۔ نتائج اندازے کے مطابق ہی آئے ہیں۔ مغربی بنگال اورتمل ناڈومیں بالترتیب ممتابنرجی اورجے للتا کی پارٹیوں کو پھر سے کامیابی ملی ہے۔ کیرل میں حسب سابق سرکار بد ل گئی ہے اورکانگریس کی جگہ لیفٹ فرنٹ سرکار قائم ہوگئی ہے۔ البتہ آسام میں بی جے پی بازی مار لے گئی۔ دوسری ریاستوں کے نتائج حیران کن نہیں ہیں اورکم وبیش یہی اندازے تھے۔ لیکن آسام کا نتیجہ بہت سے لوگوں کے لیے تعجب خیز ہوسکتاہے۔ حالانکہ بہت سے سیاسی پنڈتوں کی یہ رائے تھی کہ اس مرتبہ بی جے پی کو ریاست میں سرکار بنانے کا موقع مل جائے گا لیکن مسلمانوں کا ایک بڑاطبقہ اس رائے سے مطمئن نظر نہیں آتا تھا۔ راقم الحروف کو الیکشن سے قبل اورالیکشن کے بعد آسام کے سفر کا موقع ملااورپہلے ہی دورے میں یہ بات واضح ہوگئی تھی کہ بی جے پی حکومت سازی کے بہت قریب پہنچے گی۔ حالانکہ اس وقت بھی آسام کے بہت سے لوگ یہ کہہ رہے تھے کہ فضامیں تبدیلی واقع ہورہی ہے اورکانگریس پھر سے سرکار بنالے گی لیکن، مجھے اس امکان نہیں لگ رہاتھا اوراس کی وجوہات بہت واضح تھیں۔ ایک تو آسام کے وزیراعلیٰ تروون گگوئی کسی قیمت پر بھی کسی سیاسی مفاہمت کی جانب مائل نہیں تھے۔ دوسرے، بی جے پی نے ریاست کی دو دیگر اہم جماعتوں کے ساتھ کامیابی کے ساتھ مفاہمت کرلی تھی۔ تیسرے، بنگلہ دیشی تارکین وطن کے موقف پر خود بنگالی ہندو ووٹ بھی بی جے پی کی جانب کھسکتا محسوس ہو رہا تھا۔ اسی بنیاد پر یہ محسوس ہو رہا تھا کہ نتیجہ بدل جائے گا۔ ان وجوہات کے علاوہ تیسری سب سے اہم وجہ اس تجزیے کی یہ تھی کہ کانگریس کا ایک بہت بڑا لیڈر، جو ترون گگوئی کے بعد وہاں وزیراعلیٰ بننے کا سب سے بڑا دعویدار تھا، یعنی ہمینت وسواس شرما، وہ عین وقت پر کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہوگیا اور اس کے ساتھ دیگر ۹ کانگریس ایم ایل اے بھی بی جے پی میں شریک ہوگئے،  جس نے یہ واضح کر دیا کہ آسام کی سیاست کے مطلع پر کنول کھل جائے گا۔ نتائج آنے سے قبل اور الیکشن ہو جانے کے بعد میں ایک بار پھر آسام گیا۔ وہاں کی تنظیموں کے ذمہ داران کے ساتھ ملاقاتیں ہوئیں تب تک بھی وہاں کے مسلمان اسی خوش فہمی کا شکار تھے کہ کانگریس سرکار بنالے گی اوریو ڈی ایف کی سیٹوں میں اضافہ ہوجائے گا، لیکن ان کی رائے کے برخلاف میں نے اعلانیہ یہ کہا تھا کہ نتائج آپ کی خواہش کے خلاف آنے جا رہے ہیں اور بی جے پی کی سرکار آسامی مسلمانوں کے مسائل بڑھانے والی ہے۔ اس کی تیاری آج ہی سے شروع کر دینی چاہیے۔ چنانچہ آسام کے انتخابی نتائج انھیں خطوط پر برآمد ہوئے، حالانکہ ان پانچ ریاستوں میں ہونے والے اس چناؤ میں بی جے پی کی کہیں کوئی حیثیت نہیں تھی اورہر ریاست میں اس کا ووٹ بہت مختصر تھا۔ اس لیے اگر بی جے پی کو کہیں کچھ بھی نہ ملتا تو بھی بی جے پی کے لیے یہ کوئی بڑا مرحلہ نہ ہوتا، لیکن جہاں کچھ نہیں تھا وہاں ایک ریاست میں اپنی سرکار بنا لینا اور دیگر تمام ریاستوں میں اپنا ووٹ بڑھا لینا بھی کوئی کم بات نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ نتائج کو ہر پارٹی اور ہر طبقہ اپنی اپنی نظر سے دیکھے اوراپنے مفاد کے مطابق تجزیہ کرے گا۔ کہنے کو یہ کہاجاسکتاہے کہ کانگریس کو مجموعی طور پر بی جے پی سے زیادہ سیٹیں ملی ہیں اور ووٹ بھی زیادہ ملے ہیں لیکن اس حقیقت سے بھی کیسے انکار کیا جا سکتا ہے کہ کم سیٹیں اور کم ووٹ ہونے کے باوجود پچھلے الیکشن کے مقابلے بی جے پی نے کافی توانائی حاصل کی ہے اور کانگریس زیادہ ووٹ اور زیادہ سیٹیں لینے کے باوجود دو ریاستوں میں اقتدار سے ہاتھ دھو بیٹھی اوراپنی توانائی گم کردی۔ کانگریس کے لیڈران ایک طرف یہ دلیلیں دے رہے ہیں کہ ہماراووٹ برقرار ہے دوسری جانب یہی لیڈر ان نتائج کے بعد کانگریس قیادت پر تنقیدیں بھی کررہے ہیں، تبدہلی کی بات کررہے ہیں اورپارٹی میں جراحت کا ذکر بھی کیا جا رہا ہے۔ ان دونوں مختلف بیانوں سے صورت حال کا تجزیہ کیا جا سکتا ہے۔

Muslims

آسام کے انتخاب کو اگر ماڈل کی حیثیت سے لے لیں تو یہ تجزیہ تمام ریاستوں پر صادق آسکتا ہے۔ آسام کے ۱۲۶ سیٹوں میں سے بی جے پی کو ۶۰ سیٹیں حاصل ہوئی ہیں جب کہ اسے 29.5 فیصد ووٹ ملے ہیں۔ کل ووٹ (4992185) ملے ہیں۔ جب کہ کانگریس کو کل ۲۶ سیٹیں ملی ہیں اوراس کا ووٹ بی جے پی سے ڈیڑھ فیصد زیادہ یعنی ۳۱ فیصد ہے کل ووٹ 5238655 ہے۔ تجزیہ کرنے کی اصل بات یہی ہے کہ ایسا کس طرح ہوتا ہے کہ کسی پارٹی کو ووٹ تو خوب ملے لیکن سیٹیں ہار جائے۔ جب کہ امر واقعہ یہ ہے کہ ۲۰۱۱ کے آسام اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو محض ۱۱ فیصد ووٹ ملے تھے اور۵ سیٹیں جیتی تھی جب کہ کانگریس کو ۳۹ فیصد ووٹ پر ۷۸ سیٹیں حاصل ہوئی تھیں۔ گویا ۸ فیصد ووٹوں کے نقصان پر ۵۲ سیٹیں گنوانی پڑیں۔ اسی طرح اے جی پی کو پچھلے انتخاب میں ۱۶ فیصد ووٹ پر ۱۰ سیٹیں ملی تھیں۔ اس مرتبہ اس پارٹی کو محض ۸ فیصد ووٹ پر ۱۴ سیٹیں ملی ہیں، یعنی آدھا ووٹ گنوا دینے کے باوجود اس کی ۴ سیٹوں میں اضافہ ہوگیا۔ ظاہر ہے کہ اس کو بی جے پی ووٹ کا فائدہ ملا۔ اسی طرح یو ڈی ایف کے ووٹ میں آدھا فیصد اضافہ ہوجانے کے باوجود اسے پچھلے انتخاب کے مقابلے ۵ سیٹوں سے ہاتھ دھونا پڑا۔ یہی حال بوڈو پیپلز فرنٹ کا بھی ہے، جسے پچھلے انتخاب میں ۶ فیصد ووٹ پر ۱۲ سیٹیں ملی تھیں جب کہ اس مرتبہ ۴ فیصد ووٹ پر بھی اسے ۱۲ ہی سیٹیں ملی ہیں۔ یہ انتخابی حساب کتاب صاف بتاتا ہے کہ ووٹوں کی جمع و تفریق کی حکمت عملی ہی کسی پارٹی کو اقتدار کے قریب لانے میں مدد کرتی ہے۔ یہ تجربہ ۲۰۱۳ کے ریاستی اسمبلی انتخابات سے اب تک مسلسل جاری ہے کہ بی جے پی کم ووٹ حاصل کرکے بھی زیادہ سیٹیں جیت لیتی ہے اوراقتدار کے قریب پہنچ جاتی ہے جب کہ دوسری پارٹیاں زیادہ ووٹ لے کر بھی اپنی سیٹیں ہار جاتی ہیں۔

انتخابی جمہوریت کا قاعدہ یہ ہے کہ جس کو زیادہ ووٹ ملے وہ اقتدار میں پہنچے، لیکن یہاں معاملہ برعکس ہے کہ کم ووٹ والا اقتدار میں جارہاہے اورزیادہ ووٹ والااقتدار سے بے دخل ہورہاہے۔یہ نئی قسم کی حکمت عملی ہے جسے سمجھے جانے کی سخت ضرورت ہے۔ آسام کی بیشتر سیٹوں پہ کانگریس اوربی جے پی کے درمیان براہ راست مقابلہ ہوا اورکانگریس بہت تھوڑے سے ووٹوں کے فرق سے ہار گئی اوراکثر جگہوں پر ووٹوں کی تقسیم اس کی ہار کا سبب بنی۔ چنانچہ جہاں کانگریس نے کامیابی حاصل کی وہاں اس کی جیت کا فرق زیادہ ہے اورجہاں ووٹوں کی تقسیم کی وجہ سے ہاری وہاں اس کی ہار میں ووٹوں کا فرق بہت کم ہے جس کی وجہ سے کانگریس کا ووٹ بڑھ گیا مگر سیٹیں کم ہوئیں۔ یہی حال ۲۰۱۴ کے لوک سبھا انتخابات میں بھی ہوا تھا۔ بی جے پی نے کل ۱۶ کروڑ ووٹوں کے ذریعے ۲۸۲ سیٹیں جیتی تھی اور کانگریس ۱۱ کروڑ ووٹ لینے کے باوجود محض ۴۴ سیٹیں لے سکی جب کہ بی ایس پی ۳ کروڑ سے زیادہ ووٹ لینے کے باوجود ایک سیٹ بھی نہیں لے سکی۔ اسی طرح دیگر علاقائی پارٹیوں کو بھی ووٹ بہت کم ملا مگر سیٹیں زیادہ ملیں۔ یہ نتائج انتخاب کی اس حکمت عملی کو ظاہر کرتے ہیں کہ جہاں ریاضی زیادہ کام کرتی ہے اورمسائل کم کام کرتے ہیں۔ اس ریاضی پر عمل کرنے میں بی جے پی کو مہارت حاصل ہے اور کانگریس اسے سمجھ بھی نہیں سکی یاسمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ ملک میں سیاست کا منظر نامہ یکسر تبدیل ہوچکاہے۔ لیکن اکثر سیاسی پارٹیاں ابھی تک پرانی ڈفلی ہی پیٹ رہی ہیں۔ وہ انتخابی مفاہمت اورسیاسی گول بندی کرنے میں ناکام ہیں اورذاتی مفادات، علاقائیت اورحصول اقتدار کے پیش نظرایک گٹھ جوڑ قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہو پاتیں یا کرنا نہیں چاہتی۔ خصوصاً آسام میں تو جان بوجھ کر ووٹوں کو تقسیم ہونے دیا گیا۔ ترون گگوئی ریاست میں نرم ہندو توا کی سیاست ایک لمبے عرصے سے کر رہے ہیں، انھیں کے زیر اقتدار نہ تو بنگلہ دیشی تاریکین وطن کا مسئلہ حل ہوا، نہ شہری رجسٹرمکمل ہوسکا، نہ بوڈو کا مسئلہ حل ہوسکا اور نہ ریاست کو ہی کوئی معاشی استحکام حاصل ہوسکا، مزید برآں ان کے اکثر بیوروکریٹس بی جے پی کی ذہنیت کے لوگ رہے ہیں۔ خاص طور پر ریاست کے سابق ڈائریکٹر جنرل پولس کھاجن شرماتو اس زہریلی ذہنیت کا مظاہرہ ہمیشہ کرتے رہے اورریٹائر ہوتے ہی بی جے پی میں شریک ہوگئے۔ ایسے میں بی جے پی کو راہداری دینے کی ذمہ داری سے کانگریس بچ نہیں سکتی۔ ان انتخابات کے بعد کانگریس مکت بھار ت کا نعرہ اگر پوری شدت کے ساتھ اٹھا ہے تو یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ خود کانگریس ہی اس کی ذمہ دارہے جو پھولوں کی تھالی میں رکھ کر مرکزی سرکار بھی بی جے پی کو دے چکی ہے اور ریاستی سرکار بھی۔

یہاں ایہ امر بھی ملحوظ خاطر رہنا چاہیے کہ کشمیر کے بعد آسام ہی وہ ریاست ہے جہاں مسلمانوں کی سب سے بڑی آبادی مقیم ہے۔ آسام میں مسلمانوں کے تقریباً ایک کروڑ آبادی ہے اوریہ ووٹ ۱۲۶ میں سے ۵۳ سیٹوں پر فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں اور ۳۸ سیٹوں پر اپنے دم پر جیت لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ووٹ کے اعتبار سے ریاست میں سب سے بڑا یکمشت ووٹ مسلمان ہی ہے، باقی ووٹ مختلف طبقوں میں تقسیم شدہ ہے۔ اتنا بڑا متحدہ ووٹ ہونے کے باوجود مسلمان آسام میں کبھی حکومت سازی کے قریب نہیں پہنچ سکے۔ خود کانگریس نے بھی اتنے لمبے عرصے حکمرانی کے دوران اتنی کثیر مسلم آبادی والی ریاست میں محض ایک مرتبہ ایک سال کے لیے ایک مسلم وزیراعلیٰ دیا۔ اندرا گاندھی نے سیدہ انورہ تیمور کو تھوڑے عرصے کے لیے ریاست میں وزیراعلیٰ بنایا تھا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ انورہ تیمور کا تعلق مقامی آسامی مسلمانوں کے طبقے سے تھا جب کہ آسام میں بنگالی بولنے والے مسلمانوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ جنھیں یہ موقع اندرا گاندھی نے بھی نہیں دیا۔ گویا خود کانگریس کا ذہن بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے لیے کبھی صاف نہیں رہا۔ یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ آسام ہی وہ ریاست ہے جہاں دو مرتبہ مسلم سیاسی جماعت کا تجربہ کیا جا چکا ہے۔ پہلے یونائیٹیڈ مائناریٹیز فرنٹ بنایا گیا تھاجس کے ۱۷ ایم ایل اے اسمبلی میں رہتے تھے اورایک ممبر پارلیمنٹ، ابھی تمام مسلم تنظیموں کے اتحاد کے ذریعے یو ڈی ایف قائم کیا گیا جس کی صدارت بدرالدین اجمل کے سپرد کی گئی تھی۔ اس پارٹی نے پہلے ۱۲ سیٹیں اوردوسرے انتخابات میں ۱۸ سیٹیں جیتی تھیں جو گھٹ کر اب ۱۳ رہ  گئیں۔ اسی پارٹی کے ۳ ممبران پارلیمنٹ بھی آسام سے منتخب ہوئے ہیں۔ اس بار یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ بدرالدین اجمل کی یہ پارٹی کنگ میکر ثابت ہوگی لیکن جاننے والے جانتے تھے کہ یہ دعویٰ کھوکھلا ہے۔ نتائج کا تجزیہ صاف ظاہر کرتا ہے کہ مسلم ووٹوں کی عمودی تقسیم کی وجہ سے بی جے پی کو یہ موقع ملا ہے اور ووٹوں کی اس تقسیم کا ایک ہی سبب ہے۔ پورے ملک کی طرح آسام میں بھی یہ واویلا مچایا گیا کہ اگر یوڈی ایف کو ووٹ دیا گیا تو بی جے پی جیت جائے گی، چنانچہ اس کو ہرانے کے لیے کانگریس کو ووٹ دیا جائے۔ اگر یہ مفروضہ نہ پھیلایا جاتا تو ایک مسلم سیاسی جماعت کے پاس آسام میں اس وقت کم سے کم ۴۰ سیٹیں ہوتیں تب وہ کنگ میکر کی صورت میں اپنا وزیراعلیٰ بھی بناسکتے تھے۔

ان انتخابات کا سب سے بڑاعبرتناک پہلو یہی ہے کہ جہاں مسلمان اپنے دم پر جیت کے حکومت میں جا سکتے ہیں وہاں بھی بی جے پی کو ہرانے کا مفروضہ ان کے ووٹوں کو بے اثر کر دیتا ہے۔ سردست بی جے پی کی حکمت عملی بھی یہی ہے کہ مسلمانوں کے بڑے سے بڑے ووٹ کو بھی بے اثر کرکے حاشیے پر کھڑا کر دیا جائے اور کوئی بھی سیاسی پارٹی اس ووٹ کو منہ لگانے سے خوف محسوس کرتی رہے۔ گویا بی جے پی بہت کامیابی کے ساتھ ۱۵ فیصد ووٹ کو ملک کی سیاست سے بے دخل کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ ایسے میں اس ۱۵ فیصد ووٹ کی حکمت عملی صرف یہ ہوسکتی ہے کہ وہ فسطائیت اور سیکولرزم جیسے نعروں کے فریب سے بالاتر ہوکر ۱۵ فیصد ووٹ کو تنہامؤثر بنانے کی کوشش کرے اوراس مفروضے سے بالاتر رہے کہ کون جیتے گا اور کون ہارے گا۔ وہ اپنے ووٹ کو متحد کرلیں۔ بھلے ہی انتخاب ہار جائیں۔ سیکولر پارٹیوں سے بھی آج تک نقصان کے سوا کچھ ملا تو ہے نہیں اور ہمارے پاس کھونے کو بھی اب کچھ بچا نہیں ہے۔ ایسے میں اگر ملک گیر سطح پر ہم اپنے ووٹ کو اپنی ہی ایک بڑی سیاسی پارٹی کے بینر تلے لانے میں کامیاب ہوگئے تو اقتدار کی لالچی علاقائی اور فرد واحد کی سیاسی جماعتیں اس متحدہ ووٹ کو اپنے حق میں لینے کے لیے اس سے سیاسی مفاہمت پر بالآخر مجبور ہوجائیں گی، تب یہ متحدہ ووٹ رکھنے والی سیاسی جماعت اقتدار کے قلب میں پہنچنے میں کامیاب ہوسکے گی۔ اس کیلئے خلوص اور للہیت پر مبنی زمینی جدوجہد کی ضرورت ہے۔ سردست مسلمانوں کے سیاسی مرض کی اس کے سوا کوئی دوسری دوا نہیں ہے۔ مسلمانوں کے ارباب حل وعقد سرجوڑ کے بیٹھ کر اگر اس قسم کی ایک ملک گیر سیاسی جماعت پیدا کرسکے تو اگلے چند سال میں ہی ان کا یہ مسئلہ تو کم از کم حل ہوسکتا ہے۔ ہم بار بار ملت کو متنبہ کررہے ہیں کہ وہ فسطائیت کو ہرانے اورنام نہاد سیکولر پارٹیوں کو جتانے کی ۳۶ سالہ ناکام حکمت عملی کو ترک کرکے نئے سیاسی ماحول میں نئی سیاسی حکمت عملی وضع کریں، ورنہ مرض بڑھتاہی جائے گا جوں جوں دوا کی جائے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *