نہیں رہے اٹل بہاری واجپئی

نئی دہلی. سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کا جمعرات کی شام 5 بج کر 5 منٹ پر یہاں ایمس یعنی آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں انتقال ہو گیا. وہ 93 سال کے تھے. 25 دسمبر 1924 کو مدھیہ پردیش کے گوالیار میں پیدا ہوئے اٹل بہاری واجپئی پہلی بار 1996 میں وزیر اعظم بنے. وہ امسال 11 جون سے ایمس میں داخل تھے، لیکن گزشتہ کئی دنوں سے طبیعت زیادہ خراب تھی. انہیں گردے اور پیشاب کے راستے میں انفیکشن کے علاوہ سینے میں جکڑن کی بھی شکایت تھی. وہ ذیابیطس کا بھی شکارا تھے. سابق وزیر اعظم کی حالت بدھ کو زیادہ خراب ہو گئی تھی. اس کے بعد انہیں وینٹیلیٹر پر رکھا گیا تھا، لیکن حالت بہتر نہیں ہوسکی اور ‘مرنے سے نہیں ڈرنے والے’ اٹل بہاری واجپئی نے آخر کار ۱۶ اگست کو اس دنیا کو الوداع کہہ دیا.

ہندی زبان میں مخصوص انداز میں تقریر کرنے کے لیے مشهور اٹل بہاری واجپئی اس روایت کے لیڈر تھے، جس میں مخالفین کا بھی احترام کیا جاتا تھا. وہ ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کا بڑا احترام کرتے تھے. پنڈت نہرو بھی اٹل بہاری واجپئی کی باتوں کو غور سے سنتے تھے. اپوزیشن میں رہتے ہوئے اٹل بہاری واجپئی نے 1971 میں بنگلہ دیش کی جنگ میں پاکستان کو شکست دینے کے لیے اور پھر 1974 میں پہلی بار پوكھرن میں جوہری ٹسٹ کرنے کے لیے معاصر وزیر اعظم اندرا گاندھی کی تعریف کی تھی. اٹل بہاری واجپئی دوسری بار 19 مارچ 1998 کو وزیر اعظم بنے اور 22 مئی 2004 تک اس عہدے پر فائز رہے.

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *