وائس چانسلر کی قیادت میں مسلم یونیورسٹی کے وفد کی وزیر اعظم سے ملاقات

نئی دہلی، ۵ مارچ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ایک پانچ رکنی وفد نے آج وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کرکے انہیں ایک عرضداشت پیش کی۔ چالیس منٹ کی بات چیت میں وزیر اعظم نے یونیورسٹی کے وفد کو مثبت غورو خوض کی یقین دہانی کرائی۔ وفد کی قیادت یونیورسٹی کے وائس چانسلر ریٹائرلیفٹننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ کر رہے تھے۔

وفد نے وزیراعظم پر زور دیا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کو بچانے کی قانونی جدوجہد میں وہ یونیورسٹی کی حمایت کریں۔ وفد نے کیرل، مغربی بنگال اور بہار میں اے ایم یو کے مراکز سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

وائس چانسلر نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی مراکز کے قانونی ہونے کی وضاحت کی اور انہیں بتایا کہ ان مراکز کو اعلیٰ پالیسی ساز اداروں کی منظور حاصل ہے جن میں یونیورسٹی کی ایکزیکٹیو کونسل، یونیورسٹی کوڈ، حکومت ہند اور صدر جمہوریہ بحیثیت یونیورسٹی وزیٹر شامل ہیں۔ ضمیرالدین شاہ نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں اسمرتی ایرانی سے مل کر انھیں یہ بتانے کی کوشش کریں گے کہ یونیورسٹی کے یہ مراکز قانونی حیثیت رکھتے ہیں۔

عرضداشت میں بتایا گیا ہے کہ مرکزی حکومت نے ان مراکز کے لئے ۴۴۷ کروڑ روپے کی منظور ی دی تھی، جن میں سے صرف ۱۳۰ کروڑ روپے ہی اب تک جاری کیے گئے ہیں۔ اس کی وجہ سے ان مراکز کی ترقی اور تعمیراتی کاموں پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ میمورنڈم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو بنارس ہندو یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ سے بھی کم فنڈ مل رہا ہے، جب کہ بی ایچ یو میں طلبہ کی تعداد اتنی ہی ہے، جتنی کہ اے ایم یو میں اور جامعہ ملیہ اسلامیہ تو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی آدھی ہے۔

وائس چانسلر نے یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کا معاملہ اٹھاتے ہوئے بتایا کہ ۱۹۷۷ کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی نے یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کی تائید کی تھی، اس وقت بی جے پی نے جنتا پارٹی کے انتخابی منشور پر الیکشن میں حصہ لیا تھا۔

انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ این ڈی اے حکومت نے اس معاملے پر حال ہی میں اپنا موقف بدل دیا ہے۔ اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے اسی سال ۱۱ جنوری کو سپریم کورٹ میں یہ کہہ دیا کہ سابقہ حکومت کا موقف غلط تھا۔ وفد نے وزیر اعظم پر زور دیا کہ حکومت اپنے سابقہ موقف پر لوٹے اور اے ایم یو کے اقلیتی کردار کی تائید کرے۔ اس کا اقلیتوں پر انتہائی اچھا اثر پڑے گا۔ عرضداشت میں وزیر اعظم کے قول ’’سب کا ساتھ سب کا وِکاس‘‘ پر یقین کا اظہار کیاگیا۔

اس میٹنگ میں مدرسوں کی جدیدکاری پر بھی بات ہوئی، ساتھ ہی وائس چانسلر ضمیر الدین شاہ نے مسلم یونیورسٹی میں گنگا کی صفائی وغیرہ پر چل رہے پروجیکٹ و ریسرچ کے بارے میں بھی وزیر اعظم مودی کو اطلاع دی۔ وزیر اعظم نے وفد کو ان تمام امور پر غور کرنے کا بھروسہ دلایا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *