وارانسی میں نجمہ ہیپت اللہ کو کرنا پڑا بنکروں کے غصے کا سامنا

مرکزی وزیر نے مانا کہ ’استاد اسکیم‘ پر ابھی تک کوئی کام نہیں ہوا تھا

Najma Heptullah

وارانسی، یکم مئی (ایجنسیاں): وزیر برائے اقلیتی امور ڈاکٹر نجمہ ہیپت اللہ کے پروگرام میں کل یہاں اُس وقت ہنگامہ ہوگیا، جب سرکاری اسکیموں سے متعلق ہو رہی گڑبڑیوں کے بارے میں یہاں کے بنکروں نے ان سے شکایت کرنی چاہی۔

بنکروں کی طرف سے یہ ہنگامہ بنارس ہندو یونیورسٹی کے سیمینار کامپلیکس میں ہفتہ کے روز اس وقت ہوا، جب مرکزی وزیر نجمہ ہیپت اللہ ایک پروگرام میں شرکت کر رہی تھیں۔ بنکروں کا الزام تھا کہ پروگرام کے منتظمین دھاندلی کر رہے ہیں۔ وہ وزیر موصوف سے اسی کی شکایت کرنا چاہتے تھے، لیکن منتظمین ان بنکروں کو نجمہ ہیپت اللہ کے پاس جانے سے روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔

نجمہ ہیپت اللہ کل وہاں شاپ کلوز ویب سائٹ کا افتتاح کرنے پہنچی تھیں۔ افتتاح سے پہلے انھوں نے ہتھ کرگھا صنعت سے جڑے مقامی بنکروں سے بات کی۔ ہال میں لکڑی سے بنے سامانوں کی ایک نمائش بھی لگائی گئی تھی۔ اس کے بعد اپنی تقریر میں نجمہ ہیپت اللہ نے کہا کہ ’’استاد نامی اسکیم کی شروعات پچھلے سال ہی ہو گئی تھی، لیکن اُس پر کام اب ہو رہا ہے۔‘‘

وہ جب ویب سائٹ لانچ کرنے کے بعد اسٹیج سے نیچے اتریں، تو کچھ بنکر اس کے قریب پہنچ گئے۔ قومی بنکر ایکشن کمیٹی کے صدر سرفراز احمد نے الزام لگایا کہ یہاں پر ۱۵ روزہ ایک کرافٹ میلہ لگایا گیا ہے، جسے بڑی خاموشی کے ساتھ منعقد کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے وزیر موصوف سے یہ بھی شکایت کی کہ اس میلہ کے لیے منتظمین و اہل کاروں نے صحیح تشہیر نہیں کی، بلکہ وہ یہ گڑبڑی کچھ لوگوں کو نفع پہنچانے کے لیے کر رہے ہیں۔ وہ لوگ وزیر اعظم مودی کو ناکام بنانا چاہتے ہیں۔ اس مدعے کو لے کر نجمہ ہیپت اللہ سے ان لوگوں کی کافی بحث بھی ہوگئی۔

لیکن نجمہ ہیپت اللہ کے وہاں سے جانے کے بعد معاملہ رفع دفع ہو گیا۔ قابل ذکر ہے کہ وزیر برائے اقلیتی امور نے اور خود وزیر اعظم نریندر مودی نے ’استاد اسکیم‘ کا جتنا پرچار کیا تھا اور اس کو لے کر بڑے بڑے وعدے کیے تھے، اس پر ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ اس اسکیم کو لے کر ملک بھر کے استاد، جو اپنے اپنے ہنر میں مہارت رکھتے ہیں، مودی حکومت سے کافی ناراض ہیں۔ ظاہر ہے، ان کی یہ ناراضگی کہیں نہ کہیں تو پھوٹنی ہی تھی، جس کی شروعات ہفتہ کو وارانسی میں نجمہ ہیپت اللہ کے سامنے ہو گئی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نجمہ ہیپت اللہ اور ان کی حکومت اقلیتوں سے متعلق کب ہوش کے ناخن لیتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *