واقعات کربلا: چند تاریخی پہلو

حامد رضا

حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی طرف ایک فارسی رباعی مشہور ہے، جس میں آپ نے حضرت امام حسین کی بارگاہ میں کچھ اس طرح نذرانہ پیش کیا ہے:
شاہ است حسین، بادشاہ است حسین
دین است حسین دین پناہ است حسین
سر داد نہ داد دست در دست یزید
حقاکہ بنائے لا الہ است حسین

سن 60 ہجری میں جب یزید نے خلافت اسلامیہ کی باگ ڈور سنبھالی، تو اس وقت مسلمانوں میں بے چینی پھیل گئی۔ کیونکہ وہ خلافت کا اہل نہیں تھا؛ فسق وفجور اور شراب نوشی سے اس کی زندگی عبارت تھی۔ تقوی وطہارت سے دور تھا اور نماز کی پابندی بھی نہیں کرتا تھا۔ صحابۂ کرام کی ایک جماعت نے اس کی مخالفت کی اور بیعت کرنے سے انکار کردیا۔ ان میں حضرت عبد اللہ ابن عمر اور عبد اللہ ابن زبیر جیسے جلیل القدر صحابہ بھی تھے۔ لیکن جس شخصیت نے اعلانیہ طور پر یزید کو خلیفہ ماننے سے انکار کیا اور اس کے خلاف بغاوت کی اور اسلامی تاریخ میں ایک عظیم انقلاب لایا، وہ حضرت امام حسین ابن علی رضی اللہ عنہ تھے۔ یزید نے آپ پر جبر و تشدد کا ہر تیر آزمایا، آپ کی مٹھی بھر جماعت کے بالمقابل اسلحے سے لیس ایک فوج اتار دی، کھانے پینے پر پہرا لگایا، آپ کی آنکھوں کے سامنے آپ کے پیاروں کا خون کیا اور پھر وہ وقت بھی آیا کہ آپ کو اپنی جان بھی گنوانی پڑی، لیکن آپ اپنے موقف پر ہمالیہ پہاڑ کی طرح اٹل رہے۔ آپ نے ایک ناکارہ کو خلیفہ ماننے سے انکار کردیا اور اپنے خون سے آنے والوں نسلوں کے لئے حق گوئی، بے باکی، بہادری اور سچائی کی انمٹ تاریخ لکھ دی۔
کربلا کے میدان میں جو کچھ ہوا، وہ تاریخ اسلام کا ایک سیاہ باب ہے اور انسانیت کے ماتھے پر ایک بد نما داغ ہے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یزیدی فوج کے ظلم اور تشدد میں جتنی طاقت تھی، اس سے کہیں زیادہ حضرت امام حسین اور ان کے رفقا کے اندر قوت صبر واستقامت تھی۔ آپ نے اپنی ایمانداری، حق گوئی، بے باکی اور سچائی سے کسی طور پر سودا نہیں کیا۔ رسول اللہ کی اس حدیث کو آپ نے عملی جامہ پہنایا۔” إن من أعظم الجهاد كلمة عدل عند سلطان جائر”. یعنی “ظالم بادشاہ کے سامنے حق بات کہنا بہت بڑا جہاد ہے”۔ (ترمذی)
کربلا کے درد ناک سانحہ کو تاریخی پہلو سے بھی دیکھنے کی ضرورت ہے، اس سے واضح ہوگا کہ حق کس جانب تھا، اور باطل کدھر؟ جھوٹ کا سہارا کون لے رہا تھا اور سچائی کے اصول پر کون پابند تھا؟ کربلا کے میدان میں جب حضرت امام حسین کو یزیدیوں نے گھیر لیا اور کوفہ جانے سے آپ کو روک دیا، ان روکنے والوں میں ایک “حر” بھی تھے، بعد میں انہیں اپنے اس کارنامہ پر پچھتاوا ہوا اور وہ اپنی چھوٹی سی جماعت سمیت یزیدی فوج سے نکل کر حسینی خیمہ میں چلے آتے ہیں، اور آپ کے ساتھ رہ کر جان کی قربانی پیش کردئے۔ دوسری جانب حسینی خیمہ سے یزیدیوں کی طرف ایک شخص بھی نہیں گیا۔ حالانکہ ادھر مال ودولت عیش وعشرت کے اسباب سب مہیا تھے۔ تاریخ کربلا کا یہ واقعہ بھی چشم کشا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ سچائی اور حق کا جھنڈا امام حسین کے ہاتھوں میں تھا۔
یزید کے دامن پر کئی کالے کرتوت کے داغ ہیں، اس کے ہاتھ صرف امام حسین اور ان کے رفقا کے خون سے رنگین نہیں ہیں، بلکہ مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ جیسے مقدس شہروں پر بھی اس نے چڑھائی کی ہے، وہاں بے گناہوں کا قتل و خون بھی کیا ہے۔ مسجد حرام کو نقصان پہنچایا ہے۔ جب کہ ایک حدیث کے مطابق اللہ کے رسول نے فرمایا: ” مکہ کو اللہ نے حرم والا قرار دیا اور مدینہ کو میں نے” (یعنی ان شہروں میں قتل و خون حرام ہے)، یہی وجہ ہے کہ فقہ کے ائمہ نے اسے لعین اور مردود کہا ہے، اس پر لعن طعن بھیجنے کو جائز قرار دیا ہے، جبکہ امام حنبل نے اسے کافر شمار کیا ہے۔ اس نے اپنے بعد اپنا جانشین اپنے بیٹے معاویہ کو بنایا تھا جو ایک متقی اور پرہیز گار شخص تھا، اس نے صرف چھ مہینہ خلافت سنبھالی اور پھر اس نے یہ کہتے ہوئے استعفی دیا کہ ” مجھے اس خلافت سے خون حسین کی بو آتی ہے، میں اسے نہیں سنبھال سکتا ہوں”۔ معاویہ کا یہ جملہ یزید کے منہ پر زناٹے دار طمانچہ ہے اور صداقت حسین کی گواہی کے لئے کافی ہے۔ یہی نہیں بلکہ سن ۹۹ ہجری میں حضرت عمر ابن عبد العزیز نے جب خلافت سنبھالی تو دیگر اصلاحی کارنامے کے ساتھ ساتھ آپ نے اہل بیت اطہار کی حرمت کو بحال کیا، اموی خلفا اپنے خطبات میں حضرت علی پر لعنت بھیجتے تھے، آپ نے اسے ختم کیا اور ایک روایت کے مطابق یزید کے کالے کرتوت سے بیزاری کا اظہار کیا تھا۔
حضرت امام حسین کی قربانی اور ان کے پیغامات موجودہ زمانہ میں زیادہ اہمیت کے حامل ہیں، ان کی یادوں کو زندہ رکھنے کے لیئے مسلمانوں میں کئی قسم کے رسومات رائج ہیں، کچھ لوگ سینہ کوبی کرکے، کالے کپڑے پہن کر، بدن کو چھلنی کرکے امام حسین کے تئیں اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ کچھ تعزیہ بناکر، جنگی لباس میں گھوم کر، لاٹھی کھیل کر، سبیل لگاکر اور فاتحہ کرکے انہیں محبت کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔ لیکن کیا یہ صحیح نہیں ہے آج ہم میں حسینی اصولوں کا فقدان ہے، اور ان کی جگہ یزیدی فسق وفجور نے لے لی ہے۔ ہم میں سے کتنے ہیں جو سچائی، ایمانداری، انصاف اور حق گوئی وبےباکی پر عمل کرتے ہیں، جن کے لئے امام حسین نے اپنی جان کو قربان کیا تھا۔ کیا ہمارے اندر یزید کے عادات واطوار نہیں پائے جاتے ہیں؟ نماز جیسی مقدس عبادت سے ہم غفلت برت تے ہیں، جبکہ امام حسین آخری وقت تک اس پر قائم رہے۔ اس لئے صرف ماتم کرنے یا تعزیہ بنانے سے ہی امام حسین خوش نہیں ہونگے، بلکہ ان کے بتائے ہوئے اصولوں پر چلنے سے اسلام کی سربلندی ہوگی۔

# مضمون نگار جے این یو میں ریسرچ اسکالر ہیں۔

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *