واٹر ویک منانے سے پیاس دور نہیں ہوگی

DSC02097

نئی دہلی، ۱۲ مئی (محمد انیس الرحمٰن خان): ہمارے ملک میں پانی کے بحران کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ عدالت عظمیٰ نے اپنا تیور سخت کرتے ہوئے ۶ اپریل ۲۰۱۶ کو اپنے ایک تبصرہ میں مرکزی حکومت کو براہ راست نشانہ پر لیا۔ سپریم کورٹ نے حکومت سے کہا ہے کہ ملک کی دس ریاستیں خشک سالی کی مار جھیل رہی ہیں۔ گرمی کا حال یہ ہے کہ پارا ۴۵ ڈگری پر پہنچ رہا ہے، لوگوں کے پاس پینے کا پانی نہیں ہے، ان کی مدد کیجئے۔ حالات یہ ہیں کہ مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ، کرناٹک، اڈیشہ، اترپردیش، تلنگانہ، راجستھان اور آندھراپردیش اپریل سے ہی خشک سالی کے شکار ہیں۔

ادھر مرکزی حکومت کی سنجیدگی کا حال بھی ملاحظہ فرمالیں کہ ’’انڈیا واٹر ویک‘‘ یعنی مرکزی حکومت پانی کا ہفتہ بھارت کی دارالسلطنت دہلی کے راج پتھ پر واقع وگیان بھون کے شاندار اور ایئرکنڈیشن ہال میں ۴ سے ۸ اپریل ۲۰۱۶ منا چکی ہے۔ جس کا موضوع ’’سب کے لئے پانی : مل کر جدوجہد کریں‘‘ تھا۔ اس کا فائدہ کیا ہوگا یہ تو نہیں معلوم، مگر پانی کا ہفتہ منانے کی شروعات ۲۰۱۲ سے ہوتی ہے۔ پہلی بار ۱۰ سے ۱۴ اپریل ۲۰۱۲ کو انڈیا واٹر ویک منعقد کیا گیا تھا، جس کا موضوع پانی، توانائی اور فوڈ سیکورٹی کا حل تلاش کرنا تھا۔ اس میں ۳۲ ممالک کے ۱۰۰ لوگوں نے اپنی موجودگی درج کرائی تھی۔ دوسرا انڈیا واٹر ویک ۸ سے ۱۲ اپریل ۲۰۱۳ کو منعقد ہوا، جس میں ۲۱ ممالک کے ۱۳۷۱ نفوس نے حصہ لیا، جس کا موضوع ’’مؤثر پانی کے انتظام : چیلنجز اور مواقع‘‘ بھی بہت ہی خوبصورت جملہ اور موضوع تھا۔ تیسرا انڈیا واٹر ویک ۱۳ سے ۱۷ جنوری ۲۰۱۵ کو منعقد ہوا، جس کا موضوع ’’پائیدار ترقی کے لئے پانی کا انتظام‘‘ تھا، اس میں ۲۴ ممالک کے ۱۴۵۰ افراد نے حصہ لیا تھا۔

درج بالا عمدہ عمدہ جملوں کے ساتھ واٹر ویک منانے کا کیا فائدہ ہوا اس کا جواب تو منسٹری آف واٹر ریسورسز ریور ڈیولپمنٹ کے ذمہ دار اور حکومت ہند کے وزرا، کارندے اور نوکر شاہ ہی دے سکتے ہیں۔ مگر دارالسلطنت دہلی کے راج پتھ پر واقع وگیان بھون کے شاندار اور ایئرکنڈیشن ہال میں بیٹھ کر دماغ ریزی کرنے والوں کو اور پانی پر عوام کا پیسہ پانی کی طرح بہانے والوں کو دیہی ہندوستان پر بھی نظر رکھنا چاہئے۔ چنانچہ ہندوستان کا تاج کہی جانے والی ریاست جموں وکشمیر کے سرحدی ضلع پونچھ کا ہی جائزہ لیا جائے تو جنت ارضی کی خوبصورتی ناقص سرکاری انتظام نے چھیننے کی پوری کوشش کی ہے۔ اس تعلق سے جب ضلع پونچھ کے سرحدی بلاک منڈی کے باشندے اور دیہی قلم کار جناب ریاض ملک سے بات کی گئی تو ان کے مطابق ’’تحصیل منڈی کے اڑائی گاﺅں کے کئی محلوں میں باشندگان پانی کی بوند بوند کے لئے ترس رہے ہیں۔ محلہ تارہ گڑھ جہاں کئی سال قبل پانی کا ایک ٹینک تعمیرہوا تھا، جس کے فیض سے محلہ تارہ گڑھ بانڈیاں، محلہ گنہا ری، محلہ تھب، عیسیٰ والی، تکڑاںوالی، سکی کھیت لوہن والا وغیرہ کے تقریباً ڈھائی ہزار باشندگان پانی سے مستفید ہو ر ہے تھے۔ لیکن مذکورہ ٹینک کی درست دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے یہ ناکارا ہو چکی ہے۔ اس کی وجہ سے یہاں کے ڈھائی ہزار باشندگان پانی کی ایک ایک بوند کوتڑپ رہے ہیں۔ پانی کے محکمہ پی ایچ ای نے مذکورہ ٹینک کو درست کرنے کے بجائے اپنے ہاتھ کھڑے کرلیے ہیں، اس لئے لوگوں نے اپنی سطح پر سرکاری امداد سے گھروں تک پانی پہنچانے کے لئے براہ راستہ چشموں سے پائپ کا استعمال کرتے ہیں۔ مگر یہ پائپیں سخت بارش اور برفباری کی وجہ سے ٹوٹ گئی ہیں۔ نہ ٹینک کی مرمت کرنے کے لئے کوئی فنڈ دیا جارہا ہے اور نہ ہی پائیں ہی دی جارہی ہیں۔ کیوںکہ گزشتہ دوبرسوں سے پانی کے محکمہ پی ایچ ای کی جانب سے پائپیں نہیں دی گئی ہیں۔ لینڈ سلائیڈ اور پہاڑوں کے کھسکنے کی وجہ سے پائپیں ٹوٹ کر برباد ہو چکی ہیں، جس کی وجہ سے علاقے کے باشندگان اس شدید گرمی میں دو دو تین تین کلومیٹردور سے پانی لانے پر مجبور ہیں۔ اور اس میں سب سے زیادہ خواتین اور لڑکیوں کو مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑتاہے۔ پانی نہ ہونے کی وجہ سے ان کی تعلیم پر اثر پڑرہا ہے۔‘‘

جموں پونچھ شاہراہ پر واقع سرنکوٹ بلاک کی باشندہ مسرت یاسمین کے مطابق ’’ہمارے محلے میں پانی چار پانچ دنوں کے بعد محض آدھے گھنٹے کے لئے ہی آتا ہے، وہ بھی پریشر بہت کم ہوتا ہے، اس لئے جس دن پانی آتا ہے اس دن کالج جانے کے بجائے پانی یکجا کرنا ضروری ہوتا ہے۔‘‘ اردو کے مشہورافسانہ نگار کرشن چندرسے تعلق رکھنے والی سرزمین مینڈھر بلاک کی گریجویشن میں پڑھنے والی طلبہ آسیہ فردوس کے مطابق ’’ہماری ریاست میں پانی کے قدرتی وسائل کی کمی نہیں ہے، بلکہ ہمارے استعمال کرنے میں کمی ہے، اگر ہم اپنے قدرتی وسائل کو محفوظ کرنا چاہتے ہیں تو ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی اور دوسرا راستہ نہیں ہے کہ ہم لوگوں کو پانی کی اہمیت کے متعلق بیدار کریں۔ پانی کی اہمیت و افادیت اور درست استعمال کا طریقہ بتانا ہوگا۔ یہ کام محض حکومت کے سر پر ڈال کر گھر میں سونے سے نہیں ہو گا، کیوںکہ پیاس ہمیں پریشان کرتی ہے حکومت کو نہیں۔‘‘

مذکورہ جملے پر ضرور غور کرنا چاہئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ صرف حکومت ہی کے سر پر اپنی ساری ذمہ داری ڈال کر اطمینان ہوجایا جائے، بلکہ ہم سب کی بھی ذمہ داری ہے کہ پانی کے قدرتی تحفہ کی نہ صرف حفاظت کی جائے، بلکہ اپنے جسم کو بھی حرکت دی جائے۔ چنانچہ خشک سالی کی مار جھیل رہی ریاست مہاراشٹر کے ناگپور کے باشندے باپوراﺅ نے صرف ۴۰ دنوں میں روزانہ چھ گھنٹے جنون کے ساتھ کام کرتے ہوئے پانی کا کنواں کھود ڈالا، وہ بھی محض اس لئے کہ اس کی بیوی کو پڑوسی نے کم تر ہونے کا احساس دلاتے ہوئے پانی دینے سے منع کردیا تھا۔ مگر باپوراﺅ نے اپنی دریا دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے کنواں پر پانی لینے کے لئے سب کو حقدار بنادیا ہے۔ وہ یہ تسلیم کرتا ہے کہ محنت ہماری ضرور ہے مگرپانی پر کسی کی اجارہ داری جائز نہیں۔

دوسری جانب ہماری ریاستی ومرکزی حکومتوں میں تال میل نہ ہونے کی وجہ سے عوام کا پیسہ، افسران کا وقت اور محنت سب برباد ہوجاتی ہیں، جس کی تازہ مثال مئی کے پہلے ہفتہ میں دیکھنے کو یہ ملی کہ بندیل کھنڈ کے عوام کی پیاس بجھانے کے لئے مرکزی حکومت کی واٹر ایکسپریس جھانسی ریلوے اسٹیشن پر کھڑی رہی، لیکن اتر پردیش حکومت کے پاس پانی لینے کے لئے وقت نہیں تھا۔ دس ویگن والی ایک ٹرین ۵ لاکھ لیٹر پانی کے ساتھ ضلع مہوبہ کے باشندگان کی پیاس بجھانے کو منتظر تھی، مگر ضلع انتظامیہ نے کہا کہ ہمیں نہ پانی کی ضرورت ہے اور نہ ہی ہمیں اس ٹرین کی کوئی اطلاع ہی دی گئی ہے۔ جھانسی ریل ڈویژن کے اے ڈی آر ایم ونیت سنگھ کے مطابق ’’واٹر ایکسپریس جھانسی ریلوے اسٹیشن پر پہنچ گئی ہے۔‘‘ مہوبہ کے ڈی ایم ویر یشور سنگھ کے مطابق ’’ضلع میں ٹینکروں سے پانی کی سپلائی ہورہی ہے، یہاں ٹرین کے پانی کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ ایک طرف جہاں ملک کے باشندگان پانی کے ایک ایک قطرہ کو محتاج ہیں، وہیں دوسری جانب کہیں کھیل کے میدان پر تو کہیں ریلوے اسٹیشن پر پانی برباد ہورہا ہے۔ اور عوام کے حلق تک پانی پہنچانے والی حکومتوں کے ذمہ داران کبھی سیلفی توکبھی وگیان بھون میں واٹر ویک منا کر ہی اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہورہے ہیں، گویا کاغذ پر پانی کی ٹرین دوڑا رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *