وزیر اعظم سے اَپّا راؤ کو ہٹانے کو کہوں گا: کے سی آر

کے سی راؤ، وزیر اعلیٰ تلنگانہ، تصویر: بشکریہ گوگل
کے سی راؤ، وزیر اعلیٰ تلنگانہ، تصویر: بشکریہ گوگل

حیدرآباد، ۲۶ مارچ (نامہ نگار): تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ نے آج کہا کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی سے حیدرآباد یونیورسٹی کے وائس چانسلر پی اَپّا راؤ کو ہٹانے کی بات کریں گے۔

دراصل، روہت ویمولا کی خودکشی کے بعد جب پچھلے دنوں ۲۲ مارچ کو وائس چانسلر یونیورسٹی میں واپس لوٹے، تو طلبہ نے ان کے خلاف جم کر ہنگامہ کیا۔ احتجاجی طلبہ پر پولس نے جم کر لاٹھیاں برسائیں اور متعدد کو گرفتار کر لیا۔ لہٰذا، اسمبلی میں پولس کی اس ظالمانہ کارروائی کو لے کر حکومت کی کافی تنقید کی گئی۔ اس کے جواب میں تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ کے سی راؤ نے ایوان کو یقین دلایا کہ وہ پولس کی زیادتی کی جانچ کروانے کا آرڈر جاری کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ ’’حکومت پولس کے ذریعہ طاقت کا حد سے زیادہ استعمال کرنے کے الزام کی جانچ کرے گی۔ اگر اس میں کوئی بھی پولس والا ملوث پایا گیا، تو اس کے خلاف ضرور کارروائی ہوگی۔ میں اس ایشو (وی سی اپا راؤ کو ہٹانے) کو جلد از جلد وزیر اعظم کے سامنے اٹھاؤں گا۔‘‘

دلت طالب علم روہت ویمولا کی خودکشی کے لیے حیدرآباد یونیورسٹی کے طالب علم وہاں کے وائس چانسلر کو بھی قصوروار ٹھہرا رہے ہیں اور تبھی سے وی سی کو ہٹانے کی مانگ کر رہے ہیں۔ ۲۲ مارچ کو ان کی واپسی پر ہنگامے کے بعد پولس نے ۲۵ طلبہ اور ۲ ٹیچر کو گرفتار کر لیا اور ابھی تک انھیں نہیں چھوڑا ہے۔

پچھلے دنوں جے این یو طلبہ یونین کے صدر کنھیا کمار نے بھی روہت ویمولا کی حمایت میں حیدرآباد کا دورہ کیا تھا، لیکن انتظامیہ اور پولس نے انھیں کیمپس میں گھسنے سے روک دیا تھا۔ کنھیا کمار نے کہا ہے کہ وہ جب تک اس ملک میں روہت ایکٹ نہیں بنوا دیں گے، تب تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ ساتھ ہی روہت ویمولا کو انصاف دلانے کے لیے کنھیا نے ملک گیر تحریک چلانے کا بھی اعادہ کیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *