وزیر اعظم کے غیر ملکی دوروں پر لوک سبھا میں وضاحت

Jitendar Singh

نئی دہلی، ۹ مارچ : اپوزیشن اور خاص کر راہل گاندھی کی طرف سے وزیر اعظم نریندر مودی کے غیر ملکی دوروں کو ہمیشہ نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ بعض لوگ ان دوروں پر ہونے والے اخراجات کی تفصیل بھی جاننا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں آج جتیندر سنگھ نے لوک سبھا کو تفصیلی جانکاری دی۔

شمال مشرقی خطے کی ترقی کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج)، وزیراعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات اور پنشن، ایٹمی توانائی اور خلاء کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اپنے تحریری جواب میں آج لوک سبھا کو بتایا کہ وزیراعظم جناب نریندر مودی نے ایٹمی توانائی کے میدان میں خاص طور سے سماجی، اقتصادی اور سائنسی ترقی کے مقصد سے فرانس، روس اور جاپان کے دورے کئے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے اپریل ۲۰۱۵ میں فرانس کا دورہ کیا تھا، جس کے دوران ریوولیوشن پریشرائزڈ ری ایکٹر (ای پی آر) ٹکنالوجی پر مبنی جیتا پور نیوکلیئر پاور پلانٹ ( جے این پی پی۔ ۱ اور ۲) کے لئے نیوکلیئر پاور کارپوریشن انڈیا لمیٹیڈ (سی آئی ایل) اور فرانسیسی نیوکلیئر پاور کمپنی اے آر ای وی اے این پی کے درمیان پری انجینئرنگ معاہدے پر دستخط ہوئے تھے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اگست ۲۰۱۴ میں وزیراعظم جناب نریندر مودی کے دورہ جاپان اور دسمبر ۲۰۱۵ میں جاپان کے وزیراعظم کے دورہ ہند کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان ہوئے اعلی سطحی مذاکرات کے نتیجے میں دسمبر ۲۰۱۵ کے دوران باہمی غیر فوجی نیوکلیائی تعاون کے موضوع پر مذاکرات کا عمل مکمل ہوا۔ اس مذاکرات کے نتیجے میں غیر فوجی نیوکلیائی شعبے میں جاپان کی ترقی کا فائدہ ہندوستان کو حاصل ہوگا اور جاپان اب ہندوستان کے غیر فوجی نیوکلیائی پروگرام میں براہ راست تعاون کرسکے گا۔

ڈاکٹر سنگھ نے یہ بھی بتایا کہ ۲۴ دسمبر ۲۰۱۵ کو اختتام پذیر ہوئے وزیراعظم مودی کے دورہ ماسکو کے دوران دونوں ملکوں نے روس میں ڈیزائن کردہ نیوکلیائی پاور پلانٹ کے لئے ہندوستان میں لوکو لائزیشن آف مینوفیکچرنگ کے لئے عملی پروگرام پر دستخط کئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *