وقف املاک کا نگراں کسی قابل شخص کو بنایا جائے

ڈاکٹر قمر تبریز، سینئر صحافی
ڈاکٹر قمر تبریز، سینئر صحافی

ہمارے ملک کے اندر وقف املاک کی کھلے عام لوٹ اب کوئی نئی بات نہیں ہے، اور نہ ہی اب یہ بات کسی سے پوشیدہ ہے کہ ان املاک کو لوٹنے میں جتنا ہاتھ حکومتوں کا ہے اتنا ہی ہاتھ خود مسلمانوں کا بھی ہے۔ یہ نہایت ہی آسان فارمولہ ہے کہ جن لوگوں کو وقف بورڈ کے انتظام و انصرام کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، وہ اپنی اس چوری کو چھپانے کے لیے سیدھے سیدھے حکومت کو سوال کے کٹہرے میں کھڑا کردیں اور ملک کے عام مسلمانوں کو یہ کہہ کر بیوقوف بناتے رہیں کہ ملک کی حکومت ہی مسلمانوں کے تئیں متعصب ہے تو بھلا مسلمانوں کو انصاف کیسے مل سکتا ہے۔ میرے کہنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ سارا قصور وقف بورڈ کے ذمہ داروں کا ہی ہے۔ ایک طرف جہاں وقف بورڈ سے وابستہ کچھ لوگ حکومت کی کرتوتوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہیں دوسری طرف حکومت بھی ایسے لوگوں کو وقف بورڈ کی ملکیت کا نگراں بنا رہی ہے جو ناجائز طریقے سے اپنا پیٹ بھرنے کے ساتھ ساتھ اسے بھی گاہے بگاہے مال سپلائی کرتے رہیں۔

سچر کمیٹی کی رپورٹ کے ایک حصہ پر ملک کے سابق وزیر قانون سلمان خورشید کافی برہم تھے کیوں کہ رپورٹ کا یہ حصہ وقف بورڈ کے بارے میں ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اس بات کا کوئی جواز نہیں ہے کہ وقف بورڈ کے نظم و نسق کے لیے کسی ایسے سینئر افسر کو مقرر کیا جائے جس کے پاس مسلمانوں کے طور طریقوں اور مذہبی رسوم و روایات کا محدود علم ہو، بلکہ اس عہدہ پر ایک علیحدہ کیڈر کا انتخاب ٹیسٹ کے ذریعہ کیا جانا چاہیے، بالفاظ دیگر انڈین وقف سروسز کی تشکیل کرکے ایسے افسران کا تقرر عمل میں آنا چاہیے۔ لیکن چونکہ کانگریس کی قیادت والی گزشتہ یو پی اے حکومت کو یہ مشورہ پسند نہیں آیا تھا، اس لیے سلمان خورشید صاحب بھی اس کے تعلق سے الٹے سیدھے بیانات دے کر مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے میں لگے ہوئے تھے۔ سچر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق پورے ملک میں تقریباً پانچ لاکھ وقف جائیدادیں موجود ہیں، جو تقریباً ۶ لاکھ ایکڑ رقبہ میں پھیلی ہوئی ہیں۔ ان املاک کی قیمت کا تخمینہ چھ ہزار کروڑ روپے لگایا گیا ہے اور بازار کے حساب سے ان کی موجودہ قیمت ایک لاکھ بیس ہزار کروڑ روپے لگائی گئی ہے۔ لیکن حیرت کا مقام ہے کہ وقف املاک سے ہونے والی موجودہ سالانہ آمدنی صرف ۱۶۳ کروڑ روپے ہے۔ دوسری چونکا نے والی بات یہ ہے کہ وقف کی کل ملکیت میں سے دو سے ڈھائی لاکھ ایکڑ اراضی پر لوگوں نے ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، جس میں حکومت کا ناجائز قبضہ زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ گزشتہ دنوں آر ٹی آئی کے ذریعہ یہ جانکاری حاصل ہوئی تھی کہ دہلی وقف بورڈ کے سابق چیئرمین چودھری متین احمد نے کس طرح وقف اراضی کو ۲۵ پیسے فی مربع گز کی قیمت پر لیز پر دے دیا تھا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت کے پاس آخر ان املاک کی نگرانی کا بہتر اور معقول انتظام کیوں نہیں ہے؟ کیوں ایسے لوگوں کو یہ موقع مل جاتا ہے کہ وہ وقف کی املاک کو کھلے عام لوٹیں اور انہیں کوئی سزا بھی نہ ہو؟

اب آئیے زمینی حقائق پر نظر ڈالتے ہیں۔ زکوٰۃ فاؤنڈیشن آف انڈیا نے حق اطلاعات قانون کے تحت ۲۰۰۱ سے ۲۰۱۱ کے دوران ملک میں وقف املاک کی صورت حال کے بارے میں جو جانکاری حاصل کی تھی۔ اس کے مطابق ہندوستان کے ۲۸ وقف بورڈ میں نائب تحصیلدار، بی ڈی او (بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر)، مویشیوں کے ڈاکٹر وغیرہ کو وقف بورڈ کا سی ای او مقرر کیا گیا ہے، جب کہ دوسری طرف سچر کمیٹی کے ذریعہ حاصل کی گئی اطلاعات بتاتی ہیں کہ جن لوگوں کو وقف بورڈ کا سی ای او بنایا گیا ہے، وہ کہیں پر میٹرک فیل ہیں یا پھر کہیں پر یونانی میں گریجویشن کی تعلیم حاصل کرنے والے فریشر، یعنی دوسرے الفاظ میں حکیم صاحب۔ ایسا بہت کم دیکھا گیا ہے کہ ملک کے کسی حصہ میں کسی سینئر سرکاری افسر کو وقف بورڈ کے سی ای او کا عہدہ اضافی چارج کے طور پر دے دیا گیا ہو۔

ایسے میں مسلمانوں کے ایک حلقہ کی طرف سے ملک میں ’انڈین وقف سروسز‘ کی تشکیل کا مطالبہ جائز محسوس ہوتا ہے۔ دوسرے یہ کہ انڈین وقف سروسز کی تشکیل کے لیے الگ سے کوئی نیا قانون بنانے کی ضرورت اس لیے بھی نہیں ہے، کیوں کہ ہندوستانی دستور کے چودہویں باب میں اس قسم کا کام کرنے کی پوری گنجائش موجود ہے۔ مزید برآں، ہم سبھی جانتے ہیں کہ انڈین سول سروسز کے تحت ملک کے انتظامی امور کو سنبھالنے کے لیے جن لوگوں کا انتخاب یا تقرر عمل میں آتا ہے، وہ اعلیٰ تعلیم سے آراستہ ہونے کے ساتھ ساتھ با صلاحیت اور اپنے فرائض منصبی کے تئیں سنجیدہ اور زیادہ تر ایماندار ہوتے ہیں۔ لہٰذا، اگر وقف بورڈ کے سی ای او کا تقرر مجوزہ ’انڈین وقف سروسز‘ کے تحت کیا جائے تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ ملک کو ایسے با صلاحیت افسران مل جائیں جو وقف بورڈ کی املاک کی کھلے عام لوٹ پر لگام کس سکیں اور بورڈ کی بدانتظامیوں کو دور کر سکیں۔ اس کے علاوہ یہ مطالبہ یوں بھی جائز لگتا ہے کہ چونکہ ملک کے اندر ہندوؤں کے مذہبی مقامات اور مندروں کے انتظام و انصرام کے لیے ہندو افسران کا ایک علیحدہ کیڈر پہلے سے موجود ہے، تو پھر مسلمانوں کی وقف املاک کی دیکھ بھال کے لیے علیحدہ مسلم کیڈر کیوں نہیں ہوسکتا؟

لیکن سابق وزیر قانون اور اقلیتی امور کا اضافی چارج سنبھال چکے سلمان خورشید کے بیانات سے ایسا لگا تھا کہ وہ خود کو مسلمانوں کا کم اور کانگریس پارٹی کا زیادہ وفادار ثابت کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے تھے۔ تبھی تو انہوں نے گزشتہ دنوں خود وزیر اعظم کے ذریعے تشکیل دی گئی سچر کمیٹی کی رپورٹ کے بارے میں اپنا متنازع بیان دیا تھا کہ ’سچر کمیٹی کی رپورٹ قرآن نہیں ہے جس پر سوال نہیں اٹھائے جاسکتے۔‘ موصوف کو سمجھنا چاہیے کہ یہ رپورٹ کسی دوسری پارٹی، حکومت یا تنظیم کی طرف سے نہیں سونپی گئی ہے۔ ان کے بیان سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ کانگریس حکومت نے محض مسلمانوں کو بہلانے کے لیے سچر کمیٹی کی تشکیل کی تھی اور وہ اس کمیٹی کے ذریعے پیش کردہ تجویزوں پر عمل کرنے کے تئیں کسی بھی طرح سنجیدہ نہیں تھی۔ وزیر موصوف جس پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں، اس نے گزشتہ ۶۷ سالوں کے دوران ملک کے مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے علاوہ کچھ کیا بھی ہے؟ کانگریس نے اس ملک کے مسلمانوں کے لیے نئی دنیا ہی تو بسائی ہے جہاں پر مسلمانوں کو قدم قدم پر ملک سے وفاداری کا ثبوت دینا پڑتا ہے، غریبی اور بھوک مری کا سامنا کرنا پڑتا ہے، سرکاری ملازمتوں سے کنارہ کشی کرنی پڑتی ہے۔ مسلمان اپنے لیے اچھے گھر نہیں بنا سکتا، اچھے تعلیمی ادارے نہیں قائم کر سکتا، اچھی درس گاہوں میں داخلہ نہیں لے سکتا، اچھی ملازمت نہیں کرسکتا۔ اس کی مناسب نمائندگی نہ تو فوج میں ہے، نہ پولس محکمہ میں۔ ملک کا وزیر اعظم بننے کے بارے میں تو وہ سوچ بھی نہیں سکتا۔ سلمان صاحب یہ مسلمانوں کی نئی دنیا ہی تو ہے جہاں پر اس کی سوچ پر بھی پہرے بٹھا دیے گئے ہیں۔ اب آپ کس نئی دنیا کی بات کر رہے ہیں۔ سچر کمیٹی نے تو صرف مسلمانوں کو اس نئی اور محدود دنیا سے باہر نکالنے کی ایک تجویز پیش کی تھی، اس پر بھی آپ کو اعتراض ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *