وقف کی جائیداد کو تلاش کرنے کی ضرورت: عبدالغفور

سکھوں کی طرح مسلمان بھی وقف کو آزاد کرانے کا عزم کریں: شاہد علی

shariat-bachao

پٹنہ (پریس ریلیز):

شریعت میں کسی طرح کی مداخلت نا قابل برداشت ہے۔ وقف بھی شریعت کا ایک حصہ ہے۔ جس طرح سے سکھوں کو گرودواروں کی ملکیت ان کے حوا لے کر دی گئی ہے، اسی طرح سے وقف کی ملکیت بھی مسلمانوں کے حوالے کر دی جائے۔ مسلمان صرف وقف کی جا ئیداد کا منا سب انتظام کرکے اپنی تعلیمی اور اقتصادی پسماندگی کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ یہ باتیں ‘شریعت بچاؤ وقف بچاؤ’ کے لیے مسلم یونائیٹڈ فرنٹ کی بہار شاخ کی جانب سے یہاں واقع بہار اردو اکادمی کے کانفرنس ہال میں منعقد اجلاس میں مقررین نے کہیں۔ جلسہ کا افتتاح بہار کے وزیر برائے اقلیتی امور ڈاکٹر عبدالغفور نے کیا اور صدارت کا فریضہ شاہد علی ایڈووکیٹ نے انجام دیا۔

اپنی افتتاحی تقریر میں عبدالغفور نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ تعلیمی پسماندگی سے باہر آنے کے لیے ہر قصبہ اور گاؤں میں تعلیم کی مشعل روشن کریں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے بغیر کوئی بھی قوم ترقی نہیں کر سکتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم کے بغیر وقف کی جائیداد کو بچایا نہیں جا سکتا۔ میں بہار میں وقف کے تحفظ کے لیے سرگرم ہوں اور بہار کے مسلمانوں خصوصاً جوانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ اپنے اپنے علاقوں میں وقف کی جائیدا کو تلاش کریں اور اس بات کو دیکھیں کہ اس کا استعمال واقف کے مقصد کے تحت ہو رہا ہے یا نہیں۔ اگر اس پر ناجائز قبضہ ہے تو اسے آزاد کراکر اس کا صحیح مصرف لیا جائے تو ہم حکومت کی مدد کے بغیر اقتصاد ی حالات کو سدھار سکتے ہیں اور وقف کی آمدنی سے معیاری تعلیمی ادارے، تکنیکی ادارے اور کالج چلا سکتے ہیں۔ ضرورت ہے بیداری کی۔
اس موقع پر مہمان خصوصی اور کل ہند تھنک ٹینک ایسوسی ایشن کے صدر سید شمشاد قادری نے کہا کہ پورے ملک میں وقف کو آزاد کرانے کی تحریک زور پکڑتی جارہی ہے۔ دہلی میں یہ تحریک موثر ثابت ہو رہی ہے۔ مسلمانوں کی بیداری وقف کی جائیداد آزاد کراکر اپنے قبضے میں لے سکتی ہے۔
اس موقع پر مولانا دستگیر نے کہا کہ شریعت مسلمانوں کی زندگی کا ایک اہم ترین حصہ ہے جسے الگ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ مسلمان قرآن اور حدیث کی روشنی میں زندگی گذارتا ہے اور انہی ہدایتوں کا پابند بھی ہے۔ شریعت میں کسی طرح کی مداخلت ممکن نہیں ہے۔ حکومت جان بوجھ کر ملک میں خلفشار پیدا کرنا چاہ رہی ہے اور مسلمانوں کو تحریک کے میدان میں اتر جانے کے لیے مجبور کر رہی ہے۔
دوسری طرف شاہد علی ایڈووکیٹ نے بتایا کہ سکھوں نے گرودوارا کے لیے قانون بناکر تمام گرودواروں کی جائیداد کو اپنے قبضہ میں کر لیا ہے۔ ان کی کوششوں سے دہلی میں ایسی کئی جائیداد حکومت کے قبضہ سے نکال کر اپنے قبضہ میں حاصل کر چکے ہیں لیکن ہم مسلمان اس معاملے میں پیچھے ہیں۔ پورے ملک میں ہزاروں کروڑ کی جائیداد بکھری ہوئی ہے جس کی آمدنی ایک ریاست کے بجٹ سے زیادہ ہے۔ لیکن ہمیں اس سے بے خبر رکھا جارہا ہے۔ وقف کی جائیداد کو حکومت اور غاصبوں کے قبضہ سے نکال کر اس کا نظم اپنے ہاتھ میں لے کر مسلم معاشرے میں ایک مثبت انقلاب لا سکتے ہیں۔ پورے ملک میں وقف بورڈوں کا صرف ایک ہی کام رہا ہے کہ وقف کی جائیداد کو ناجائز طور پر فروخت کرنے میں معاون بن رہے ہیں۔ مسلمان بیدار ہو جائیں تو اس لوٹ کھسوٹ پر قابو پایا جاسکتاہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت چاہ کر بھی مسلمانوں کے پرسنل لاء میں مداخلت نہیں کر سکتی کیوں کہ آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق کو سلب کرنے کی کارروائی ہوگی جسے ملک کا قانون اجازت نہیں دیتا۔

نقی امام ڈینٹل کالج کے صدرظفر امام، سابق ریاستی وزیر اخلاق احمد اور سابق ایم ایل سی ڈاکٹر تنویر احمد، سابق ایم ایل اے ڈاکٹر اظہار احمد نے اپنی تقریر میں شریعت کی حفاظت کے لیے مسلم پرسنل لاء بورڈ کی ہدایت کے مطابق کام کرنے، دستخطی مہم میں بڑھ چڑھ کے حصہ لینے اور لاء کمیشن کے سوال نامہ کو مسترد کردینے کی اپیل کی۔ وقف کی جائیداد کو آزاد کرانے کے لیے ریاست میں تحریک چلانے پر زور دیا۔

تحریک انصاف کے سربراہ شکیل ہاشمی، انجینئر نثار احمد اور نرگس جہاں باروی ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہم مسلکی اور ذات برادری کے تفرقہ سے باہر نکل کر شریعت کی حفاظت کریں اور وقف کو آزاد کرانے کا عزم کریں۔

معروف صحافی ریاض عظیم آبادی نے کہا کہ سوریہ نمسکار یوگ نہیں بلکہ پوجا ہے۔ اسے اسکولوں پر تھوپ کر تعلیم کے بھگواکرن کی کوشش شروع کی جاچکی ہے جو ہمیں منظور نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تمام مسلم تنظیموں کے سربراہوں کو فون کر یہ اپیل کی کہ وہ سوریہ نمسکار کے خلاف احتجاج کریں۔ لیکن کسی کے کان پر جوں نہیں رینگی۔ جمہوری نظام میں احتجاج کے بغیر سرکار کی آنکھیں نہیں کھلتی ہیں۔ اب مودی حکومت مشترکہ سول کوڈ کے نفاذ کے لیے کوشاں ہے اور لاء کمیشن کے سوال نامہ کی آڑ میں تھوپنے کی کوشش کررہی ہے۔ جو حکومت ذکیہ جعفری کا انصاف نہ دلا سکی وہ مسلم خواتین کی حفاظت کی دہائی دے رہی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ شہروں میں وارڈ کے پیمانے پر اور دیہاتوں میں منظم ہو جائیں اور بڑی تحریک کے لیے تیار ہوجائیں۔
شریعت بچاؤ وقف بچاؤ اجلاس میں منظور کی گئیں تجاویز۔۔۔۔۔
۱۔ شریعت بچاؤ کے تحت عظیم آباد کے مسلمانوں کا یہ نمائندہ اجلاس اس بات پر گہری تشویش اور ناراضگی کا اظہارکرتا ہے کہ مودی حکومت اپنی حکومت کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے ملک میں میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فضا کو زہر آلود کرنے کی دانستہ کوشش کر رہی ہے۔ شریعت کا رشتہ مسلمانوں کی زندگی کا سب سے اہم حصہ ہے جس کا تعلق قرآن اور حدیث سے ہے۔ شریعت میں کسی طرح کی تبدیلی نا ممکن ہے۔ مودی حکومت جان بوجھ کر شریعت کے معاملے دخل اندازی کر مسلمانوں پر بھگوا پالیسی کو تھوپنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس سے قبل اسکولوں میں بچوں پر سوریہ نمسکار کو تھوپ کر تعلیم کا بھگوا کرن کرنے کی کوشش کر چکی ہے۔ سوریہ نمسکار کوئی یوگ نییں بلکہ پوجا ہے جو ہمیں منظور نہیں ہے۔ لا کمیشن کی آڑ میں کامن سول کوڈ کے نفاذ کی سازش کر رہی ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کی واحد نمائندہ تنظیم مسلم پرسنل لاء بورڈ نے کامن سول کوڈ تھوپنے کی سازش کی سختی کے مخالفت کی ہے اور کامن سول کوڈ کو نامنظور کر دیا ہے۔ مشترکہ سول کوڈ کے نفاذ کی سازش کو ناکام بنانے کے لیے لاء کمیشن کے فارم کو رد کرتے ہوئے بائیکاٹ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ نمائندہ اجلاس مسلم پرسنل لاء بورڈ کی آواز کے ساتھ ہے اور بہار کے مسلمانوں کو آواز دیتا ہے کہ وہ لاء کمیشن کے سوالنامے کا بائیکاٹ کریں اور اپنی اجتماعی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے آمادہ تحریک ہو جائیں۔ ہم ملک کے آئین میں دی گئی مذہبی آزادی کی حفاظت کرنے کے لیے ہر طرح کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔ مودی حکومت مسلمانوں سے آئین میں دیے گئے حقوق کو سلب کر لینا چاہتی ہے۔ کامن سول کوڈ کسی بھی قوم کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ سکھوں، جینیوں اور قبائلیوں کے الگ الگ مراسم ہیں جن میں تبدیلی کو وہ بھی پسند نہیں کریں گے۔ یہ اجلاس مودی حکومت سے اپیل کرتا ہے کہ ملک کی یکجہتی کو مجروح کرنے کی کوشش نہ کرے اور مسلم پرسنل لاء میں چھیڑ خانی کرکے مسلمانوں کو پرسنل لاء کی حفاظت کرنے کے لیے سڑک پر اترنے کے لیے مجبور نہ کرے۔ یہ اجلاس حکومت کو خبردار کرتا ہے کہ وہ خدائی اور قرآنی قانون میں مداخلت بند کرے اور گنگا جمنی تہذیب کو مجروح کرکے اپنی گھٹیا سیاست کے لیے ملک میں خلفشار پیدا کرنے کی کوشش بند کرے۔

۲۔ شریعت بچاؤ وقف بچاؤ کے لیے عظیم آباد کے مسلمانوں کا نمائندہ اجلاس بہار کے وزیر اوقاف کی فکر وقف کی ملکیت کو بچانے کی کاوشوں کی پرزور حمایت کرتا ہے اور یہ محسوس کرتا ہے کہ سنی اور شیعہ وقف بورڈ وقف کی جائیداد کو فروخت ہونے سے روکنے میں ناکام رہی ہیں۔ حال کے دنوں میں دونوں وقف بورڈ واقف کی منشاء کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ یہ اجلاس بہار کے مسلمانوں خصوصی طور پر نوجوانوں کو آواز دیتا ہے کہ وقف کی جائیداد کو بچانے کے لیے متحد ہوں، غاصبوں کے چنگل سے آزاد کرائیں۔ یہ اجلاس وزیر اوقاف گذارش کرتا ہے کہ وہ وقف کے لیے تحریک چلانے والوں کی مدد کریں تاکہ وقف کی جائیداد پر قبضہ کرنے کی کوئی ہمت نہ کر سکے۔ بہار میں بڑے پیمانے پر مہم کی شروعا ت کی جائے۔ دونوں وقف بورڈوں کے چیئرمین کو یہ اجلاس ہدایت دیتا ہے کہ وہ اپنا دامن صاف کریں اور عوام کے سامنے احتساب کے لیے تیار ہو جائیں۔ سب ڈویزن کے پیمانے پر مسلمانوں کا جلسہ کرکے انہیں وقف کی جائیداد کی حقیقی صورت حال کا پتہ لگانے کے لیے تیار کریں اور ایسا ماحول بنائیں کہ وقف کی جائیداد پر قبضہ کرنے کی کوئی جسارت نہ کر سکے۔

۳۔ شریعت بچاؤ وقف بچاؤ کے لیے منعقد عظیم آباد کے مسلمانوں کا یہ نمائندہ اجلاس حکومت بہار کو مبارک باد کا مستحق سمجھتا ہے کہ شراب بندی کے قانون کا ریاست میں نفاذ کر ہزاروں خاندان کو تباہی سے بچا لیا۔ بہار کے مسلمان وزیراعلیٰ نتیش کمار کے ساتھ ہیں اور بہار کے مسلمانوں کو آواز دیتا ہے کہ شراب بندی قانون کے نفاذ میں حکومت کے ساتھ تعاون کریں اور ایسے عناصر پر کڑی نظر رکھیں جو اس قانون کو توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شراب اسلام میں حرام ہے۔ نتیش کمار نے لاکھوں بچوں کو شرابی والد سے نہ صرف نجات دلایا بلکہ ہزاروں گھرانوں کو تباہی سے بچا لیا۔ یہ اجلاس وزیر اعلیٰ کو مبارک باد دیتا ہے اور یقین دلاتا ہے کہ بہار کے مسلمان شراب بندی کے قانون کے نفاذ میں حکومت، انتظامیہ اور وزیر علیٰ کے ساتھ ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *