ونچت طبقات اور مسلمانوں کا اتحاد ملک کے حالات کو خوش آئند موڑ دے گا: پرکاش امبیڈکر

عامر ادریسی کے ذریعے منعقدہ مذاکرہ  میں عمائدین شہر کی بڑی تعداد میں شرکت
ممبئی میں ملک کی موجودہ سیاسی حالات پر نظر رکھنے والے سرکردہ افراد کے گروپ نے موجودہ سیاسی حالات میں مسلمانوں، دلتوں اور دیگر محروم طبقات کے کردار پر بائیکلہ کے خلافت ہاؤس میں ایک مذاکرہ کا انعقاد کیا جس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے سے ونچت بہوجن اگھاڑی کے صدر جناب ایڈوکیٹ پرکاش امبیڈکر نے شرکت کی اور صدارت مولانا سید اطہر علی صاحب نے کی۔ اس میٹنگ کا انعقاد مشہور سماجی کارکن اور نوجوان لیڈر عامر ادریسی نے کیا تھا۔
اپنی صدارتی تقریر میں ایڈوکیٹ پرکاش امبیڈکر نے کہا کہ دلت اور مسلمانوں کا اتحاد ملک کے حالات کو خوش آئند موڑ دے گا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ مہاراشٹر اسمبلی انتخابات میں دلت، مسلم اور دیگر ونچت طبقات کا اتحاد اہم کردار ادا کرے گا۔
مہاراشٹر کی موجودہ سیاسی صورتحال پر پرکاش امبیڈکر نے تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس وقت مہاراشٹر میں تمام طبقات میں ایک بے یقینی کی صورتحال ہے۔ صوبے کے او بی سی،  دلت اور مسلمان اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے نئی صف بندی کے لیے تیار کھڑے ہیں۔ انہوں نے EVM پر   بات کرتے ہوئے کہا کہ EVM گھوٹالے پر صرف تبصرہ کرنے یا بیان دینے سے کام نہیں چلے گا۔ اس کے خلاف باقاعدہ طور پر موومنٹ چلانی ہوگی۔ جو ونچت بہوجن اگھاڑی کر رہی ہے ہے
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ممبر اور دارالعلوم محمدیہ کے ناظم اعلی مولانا سید اطہر علی نے کہا کہ گزشتہ 70 سال میں برسر اقتدار پارٹیوں نے مسلم دلت اور او بی سی سماج کا مسلسل استحصال کیا ہے۔ ان پارٹیوں نے مسلم اور دلتوں کے ووٹ لے کر اپنا اُلّو سیدھا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی آزادی کے بعد دلت اور مسلم سماج پسماندہ طبقہ بنے ہوئے ہیں۔ اب ہم اقتدار میں آکر اپنی سیاسی سماجی اور معاشی حصہ داری خود حاصل کریں گے۔ اسی مقصد کے مدنظر ریاست میں دلت مسلم دھنگر اور دیگر محروم طبقات کی ایک مشترکہ تحریک بناکر اپنا سیاسی وجود قائم کرنے کی ضرورت ہے۔
 مولانا محمود دریابادی (علماء کونسل) نے کہا کہ مسلمانوں کی مذہبی شناخت، ان کا تحفظ، یکساں مواقع اور اقتدار میں حصہ داری مسلمانوں کے اہم مسائل ہیں۔ جو جماعت یا اتحاد اس بات کی یقین دہانی کرائے کہ مسلمانوں کو برابری کے مواقع اور ان کی آبادی کے تناسب سے یکساں حقوق دیئے جائیں گے مسلمان اس کے ساتھ اتحاد کرے۔
میٹنگ کے آرگنائزر عامر ادریسی نے کہا کہ اس ملک میں مسلمان جب تک اپنی سیاسی طاقت کو مضبوط نہیں کریں گے تب تک ان کے مسائل حل نہیں ہونگے۔ ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال  اس بات کا مطالبہ کرتی ہے کہ مسلمان دیگر محروم طبقات کے ساتھ مل کرظلم، ناانصافی، نفرت اور ڈر کی سیاست کے خلاف محاذ کھڑا کریں۔
مولانا عبدالجبار اعظمی ماہر القادری نے کہا کہ  مسلمانوں کے درمیان نوجوان، بےباک اور تعلیم یافتہ قیادت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عامر ادریسی اور سعید خان جیسے نوجوانوں کو سیاسی طور پر بھی آگے آنا چاہیے اور نئے راستوں  کو تلاش کرنا چاہیے۔
مولانا اعجاز کشمیری نے الزام لگایا کہ اب تک کانگریس این سی پی شیوسینا بی جے پی نے مسلم اور دلت سماج کو ربر اسٹیمپ کی طرح ووٹوں کیلئے استعمال کیا۔ ہم بہت کچھ بھگت چکے ہیں۔ اس آگھاڑی کے ذریعہ مہاراشٹر میں نئی سیاسی منصوبہ بندی تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ ریاست میں اس سماج کے چوطرفہ ترقی کیلئے اقتدار میں حصہ داری سے ہی اُسے انصاف دلایاجاسکتا ہے۔
مشہور جرنلسٹ سرفراز آرزو نے کہا کہ ایسے حالات میں آئین ہند کے تحفظ اورظلم، زیادتی، ناانصافی کو روکنے کیلئے مختلف طبقات کایہ اتحاد بین المظلومین ایک فطری عمل ہے۔ اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اس اتحاد کا خاطر خواہ نتائج کیسے حاصل کئے جائیں؟ اس کے لئے متحد جماعتوں کو پوری منصوبہ بندی، حکمت اور دانائی کے ساتھ لائحہ عمل طئے کرنا ہوگا۔ بھیما کورے گاؤں کے واقعہ کے بعد دلتوں میں پرکاش امبیڈکر کی جو شبیہ ابھر کر سامنے ائی ہے اسے مزید مستحکم کرنا ہوگا، دلتوں کے تمام طبقات کو اعتماد میں لینا ہوگا۔
مولانا ظہیر عباس رضوی (شیعہ عالم دین) نے کہا کہ آر ایس ایس نے جس طرح گھر گھر جاکر ہندتوا ذہنیت کو بڑھاوا دیا اسی طرح دلت لیڈروں کو گھر گھر جاکر انہیں یہ سمجھانا ہوگا کہ آج بھارت کا سنویدھان خطرے میں ہے۔ اگر ہم نے اس وقت اس کی حفاظت نہیں کی تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ انہیں یہ یقین دلانا ہوگا کہ مسلمان دلتوں اور پسماندہ طبقات کا دشمن نہیں بلکہ وہ اور ہم ایک ہی کشتی کے سوار ہیں۔
مولانا برہان الدین قاسمی (مرکز المعارف) نے کہا کہ جمہوری نظام حکومت میں کسی بھی قوم کے متحدہ ووٹ اس کی ترقی کی ضمانت ہوتے ہیں منتشر قوم کا تو وجود بھی خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ اور اگر اس ملک کا بہوجن سماج اور مسلمان ایک جگہ آجائیں تو اس ملک کی قسمت کا فیصلہ بھی ان ہی کے ہاتھ میں ہوگا کیونکہ وہ اکثریت میں ہوں گے اور اعلیٰ ذات کے ۳ فیصد اقل ترین اقلیت میں ہوں گے
 سعید خان نے اپنے افتتاحی کلمات میں کہا کہ یہ صحیح ہے کہ پرکاش امبیڈکر کے علاوہ اور بھی دلت لیڈر ہیں لیکن بھیما کورے گاؤں کے واقعہ کے بعد جس طرح پرکاش امبیڈکر نے دلتوں کی نمائندگی کا حق ادا کیا ویسا کوئی اور لیڈر نہیں کرسکا یہی وجہہ ہے کہ آج پرکاش امبیڈکر کا قد ان تمام لیڈروں میں نمایا نظر آرہا ہے جس کا سیاسی فائدہ بھی یقیناً پرکاش امبیڈکر کو ہی ہوگا۔
ونچت بہوجن اگھاڑی کے جنرل سیکرٹری عبدالرحمن انجاریہ نے کہا کہ اس اتحاد کے تعلق سے ایک اور بات واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ اتحاد صرف دو پارٹیوں یا دو اقوام کا نہیں بلکہ اس میں دلتوں کے علاوہ ۱۲ فیصد آبادی رکھنے والا دھنگر سماج ، قبائلی سماج، بھٹکیا جماعتی، اور دیگر محروم طبقات کی ایک تحریک ہے جسے امبیڈکری سماج کاتائید و حمائت حاصل ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ اتحاد سابقہ دلت مسلم اتحاد سے بالکل الگ نظر آتا ہے۔ جس کے نتائج بھی کچھ الگ ہی ظاہر ہونے کے امکانات روشن ہیں۔
مولاناعبدالسلام خان قاسمی نے کہا کہ اس بات پر بھی تبصرے کئے جارہے ہیں کہ فرقہ پرستوں کو اس اتحاد کا بالراست فائدہ ہوگا۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے جب بھی نام نہاد سیکولر پارٹیوں کے خلاف کوئی کھڑا ہوتا ہے تو یہی کہا جاتا رہا ہیکہ یہ فرقہ پرستوں کی ’بی‘ ٹیم ہے، اس سے ووٹ منتشر ہوں گے اور اس کا فائدہ فرقہ پرستوں کو ہوگا۔ اس کا مطلب تو یہ ہوتا ہیکہ اس ملک میں چھوٹی چھوٹی پارٹیوں کا وجود ہی ختم ہو جائے۔ اگر کسی پارٹی کو انتشار کا اتنا ڈر ہے تو اس کا بہترین راستہ تو یہ ہے کہ وہ بھی اس اتحاد کا حصہ بن جائیں۔
ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ سے آئے اسٹوڈنٹ لیڈر فہد احمد نے کہا کہ دلتوں کی طرح مسلم نوجوانوں کو بھی  سیاسی زبان سیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست جذبات کا کھیل نہیں بلکہ کہ ایک نوراکشتی ہے جسے صرف منصوبہ بندی اور مضبوط حکمت عملی کے ذریعہ ہی جیتا جا سکتا ہے۔
اس میٹنگ سے مولانا ظہیرالدین سنابلی سلفی، مولانا قیاض باقری، مولانا عرفان علیمی، سہیل کھنڈوانی، عاکف دفعدار، ایڈوکیٹ زبیر اعظمی اور ادریس نظامی نے بھی خطاب کیا۔ میٹنگ میں بڑی تعداد میں عمائدین شہر، تنظیموں کے ذمہ داران اور سماجی کارکنان نے شرکت کی جس میں جاوید پاریکھ، راشد عظیم، معبود خان، مبین قریشی،ایڈ وکیٹ عاصم خان، کے نام قابل ذکر ہیں۔
Facebook Comments
Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply