عصمت چغتائی کو گوگل اور قلمکاروں نے ایسے یاد کیا

نئی دہلی: عصمت چغتائی کو ان کے 107 ویں یوم پیدائش پر گوگل نے ڈوڈل بنا کر انہیں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ عصمت کی پیدائش 21 اگست 1915 کو اترپردیش کے بدایوں میں ہوئی تھی۔ انہوں نے 1930 کی دہائی میں لکھنا شروع کیا۔ وہ 1936 میں ترقی پسند تحریک کی میٹنگ میں شریک ہوئیں۔ نصرت خانم اور مرزا قسيم بیگ چغتائی کی 10 اولاد میں سے 9 ویں نمبر کی عصمت چغتائی نے خاندان کی مخالفت کے باوجود فکشن لکھنا نہیں چھوڑا۔ عصمت چغتائی نے خواتین اور خاص کر مسلم معاشرے کے نچلے اور متوسط طبقے کی خواتین کی نفسیاتی کیفیت کو اپنے فکشن کا موضوع بنایا۔ ان کا 1941 میں خواتین ہم جنس پرستی کے موضوع پر لکھا گیا افسانہ لحاف بحث و مباحثے کا مرکز اور متنازعہ رہا۔ اس کے لیے ان پر لاہور ہائی کورٹ میں کیس بھی ہوا تھا، جس میں وہ جیت گئی تھیں۔

عصمت چغتائی کے بارے میں مشہور فکشن نگار شموئل احمد نے کہا ہے: عصمت بہت بے باک مصنفہ تھیں۔ ان کا سب سے مشہور افسانہ لحاف ہے۔ آج کے وقت میں تو وہ ایک عام سی کہانی معلوم ہوتی ہے، لیکن جب انہوں نے اسے لکھا تو وہ اپنے آپ میں ایک بڑی اور اردو میں اپنی نوعیت کی پہلی کہانی تھی۔ شموئل احمد نے کہا کہ عصمت کی کہانی چوتھی کا جوڑا آج بھی پڑھنے کے قابل ہے اور کل بھی اس کا شمار اہم کہانیوں میں ہوگا۔

اردو ادب کی اس عظیم مصنفہ کے بارے میں ممبئی میں مقیم نوجوان ادیب رحمن عباس کہتے ہیں: عصمت چغتائی اردو فکشن کا اہم ستون ہیں۔ ہم نے ان کی کہانیوں سے افسانہ نگاری کے آرٹ کو سمجھنے کی کوشش کی. فارم اور بیان پر جو انہیں مہارت تھی، وہ کمال ہے۔ نئے فنکار ہمیشہ فنكاری کی باریکیاں سمجھنے کے لیے عصمت آپا کی کہانیوں سے استفادہ کرتے رہیں گے۔ قابل ذکر ہے کہ 30 جنوری 1970 کو پیدا ہوئے رحمن عباس اب تک چار ناول نخلستان کی تلاش، ایک ممنوعہ محبت کی کہانی، خدا کے سائے میں آنکھ مچولی اور روحزن لکھ چکے ہیں۔ اس کے لیے انہیں کئی ایوارڈ بھی مل چکے ہیں۔ روحزن کا جرمن زبان میں بھی ترجمہ ہو چکا ہے۔

عصمت چغتائی کو یاد کرتے ہوئے نوجوان قلمکار طارق اقبال کہتے ہیں: ہم اس دور میں جینےکی کوشش کر رہے ہیں جہان سب کچھ بناوٹی ہے۔ منافقت زندگی کا طرز ہو گیا ہے۔ زبان کا سلب ہو جانا تو بہت بعد کا واقعہ ہے۔ اس سے پہلے ہمارے اجتماعی ذہن کو ماؤف کر دیا گیا ہے۔ عصمت کو یاد کرتے ہوئے جب ان کے افسانے اور اس کردار یاد آتے ہیں تو آج کا معاشرہ ہمارے سامنے دکھائی دیتا ہے۔ ٹیڑھی لکیر جیسی تخلیق کو پھر سے پڑھنے کی ضرورت ہے۔ عصمت چغتائی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ہندی کے نوجوان شاعر اور مصنف منوج کمار جھا نے کہا: جس طرح ساری دنیا پہچان کے نام پر لڑائیوں کا مرکز بنتی جارہی ہے، ایسے دور میں عصمت کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔ آدمی کے جینے کی جو مختلف پرتِیں ہیں، عصمت کے یہاں ان تمام پرتوں کی نشاندہی ہے۔ اپنے ملک کی تکثیریت کو بچانے کے لیے عصمت کو بار بار یاد کیا جانا چاہیے۔

عصمت چغتائی کے بارے میں اردو اور ہندی میں بہت سے ڈرامے اور سیریل کے مصنف زماں حبیب کہتے ہیں: عصمت آپا کی تخلیقات کا تھیم یا مرکزی خیال عورت کی آزادی اور نجات تھا۔ ہم ان کے کرداروں کو آزاد معاشرتی نظام کے لیے جد و جہد کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ وہ مرد کے غلبہ والے سماج کے دائرے سے باہر نکلنا چاہتے ہیں۔ چاہے وہ لحاف ہو، چوتھی کا جوڑاہو یا پھر ٹیڑھی لکیر، بیگم جان یا گھر والی سبھی کردار آزاد، باغی اور انفرادیت کے تیور والے ہیں۔ زماں حبیب کہتے ہیں: میں ذاتی طور سے منٹو اور بیدی کے علاوہ عصمت آپا کی تحریروں سے متاثر ہون۔ آپ ہمارے  سیریل نمكي مکھیا کی نمكي، سسرال گیندا پھول کی سہانا اور ایک ہزاروں میں میری بہنا ہے کی مانوی جیسی خاتون کردار میں عصمت چغتائی کے خاتون کرداروں کی جھلک دیکھ  سکتے ہیں۔ میں اپنے سیریل میں خاتون كرداروں کے لیے عصمت چغتائی کا شکر گزار ہوں۔

عصمت چغتائی کا 24 اکتوبر 1991 کو ممبئی میں انتقال ہو گیا لیکن اردو اور ہندوستانی ہی نہیں بلکہ دنیا کے اہم ادیبوں میں ان کا نام زندہ رہے گا۔ انہیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ، غالب ایوارڈ، نہرو ایوارڈ، اقبال سمان اور پدم شری جیسے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ہندی میں کنواری کے علاوہ ان کی کہانیوں کے کئی اور مجموعے شائع ہوئے۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ سعادت حسن منٹو، عصمت چغتائی، کرشن چندر اور راجندر سنگھ بیدی کو اردو فکشن نگاری کا چار ستون قرار دیا جاتا ہے۔

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *