ٹرمپ کا جنون اور مسلم دنیا

Donald Trump

جلال الدین اسلم

امریکہ کے سابق صدر جارج بش کے جنگی جنون سے بھلا کون ہے جو واقف نہیں، اس کے پاگل پن سے صرف عالم اسلام ہی نہیں بلکہ پوری دنیا نہ صرف واقف ہی ہے بلکہ حد درجہ خوف زدہ بھی رہی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ جنونی کیفیت صرف جارج بش تک ہی محدود نہیں بلکہ یکے بعد دیگرے پر اس طرح کا جنون پایا اور دیکھا جارہا ہے۔ ۲۰۰۸ کے صدارتی انتخابات میں بھی بش سے کہیں زیادہ جنونیت اور پاگل پن کا مظاہرہ کیا گیا اور اب پھر ۲۰۱۶ میں بھی ہونے والے صدارتی انتخاب میں ڈونالڈ ٹرمپ کی شکل میں عہدۂ صدر کے جنونی امیدوار اپنے تمام سابق صدور کے پاگل پن کو پیچھے چھوڑ رہے ہیں۔ گزشتہ انتخابات میں ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ٹام کریڈو تھے، ان پر جب جنون سوار ہوا تو دہشت گردی کے ممکنہ ایٹمی حملہ سے بچنے کے لیے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کی دھمکی دے دی تھی اور موصوف پر صرف انتخابات کے دورن ہی نہیں بلکہ اس سے قبل بھی امریکی حکومت کو اس طرح کے مشورہ دینے کا دورہ پڑچکا تھا۔ تو اب جارج بش اور ان کے جانشینوں کے اقدام و عزائم سے تو یہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ امریکی تاریخ کے بدترین صدر بش کے بعد اب اس ملک کی تاریخ پر سب سے کم فہم اور خونخوار دہشت گرد قصر صدارت پر براجمان ہونے والا ہے، جس کی جڑیں نسلی تعصب اور اسلام دشمنی میں پیوست ہیں اور جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کہیں تک جاسکتا ہے۔ گزشتہ دہائی ہی کی بات ہے جب امریکہ کے سابق صدر جمی کارٹر نے بش کی وحشیانہ پالیسیوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں امریکی تاریخ کا سب سے بدترین صدر قرار دیا تھا۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ مستقبل قریب میں منتخب ہونے والے امریکی صدر کا معاملہ تو اور بھی سنگین اور وحشت ناک لگتا ہے کہ آئندہ امریکہ کے صدارتی عہدے پر فائز ہونے والے ایسے ہی بد سے بدتر افراد کے آنے کی توقع ہے جس سے عام لوگ نہ صرف دہشت گردی سے بلکہ دنیا بالکل ہی غیر محفوظ ہوکر رہ جائے گی۔
حالات پر نظر رکھنے والے یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر دہشت گردی بے گناہوں کی ہلاکت اور عام تباہی کا نام ہے تو لگ بھگ ۷۰ برسوں میں دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد خود امریکہ ہے جس نے پوری دنیا میں تباہی و ہلاکت کی نئی تاریخ رقم کی ہے۔ کون نہیں جانتا کہ امریکہ نے عراق پر جب بمباری کی اور عراقی صدر صدام حسین کو اقتدار سے بے دخل کیا تو اس میں بھی لاتعداد معصوم لوگ مارے گئے تھے۔ معاملہ کی تہہ میں اگر جائیں تو امریکی وحشت پنے کو سمجھنے میں کچھ زیادہ دشواری نہیں ہوگی۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ امریکہ کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملے کے بعد سے ہی امریکی سیاست میں دہشت گردی کا اُبال آیا ہے۔ امریکی عوام ہر اس شخص کو صدر بنانے کے لیے تیار ہیں جو مسلم ملکوں پر چڑھائی کرکے دہشت گردی کا نام و نشان مٹانے کا دعویٰ کرے۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ انتخابات کے دوران موجودہ امریکی صدر اوباما نے بھی کہا تھا کہ امریکی انہیں ووٹ دیں تو وہ بدلے میں اتنے ہی بم پاکستان میں گراکر القاعدہ کا نام و نشان مٹادیں گے۔ یہ ہیں مہذب دنیا کے سپر چودھری ملک کے بڑے چودھریوں کے اعمال و اقوال جو دنیا کے لیے فکر انگیز بھی ہیں اور سبق آموز بھی۔

کہا جاتا ہے کہ جارحیت اگر فوجی ہوتی ہے تو اسے سہ لیا جاتا ہے لیکن یہ صورت بھی اسی وقت ممکن ہے جب کسی قوم میں غیرت و حمیت کے احساسات باقی ہوتے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جو قومیں عزت کے راستے کا انتخاب نہیں کرتیں، وقت اور زمانے کے بھیڑیے انہیں ادھیڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ اس کے سیاسی اور اقتصادی مراکز بہ آسانی فتح کرلیے جاتے ہیں لیکن یہاں تو المیہ ہی کچھ اور ہے۔ جارحیت ہمہ جہت ہے اور اس کا سب سے خطرناک اور خوفناک رُخ تہذیبی ہے۔ ایک ارب سے زائد انسان اپنی تہذیب و تمدن کو بچانے اور اسے محفوظ رکھنے کے بارے میں مارے مارے پھر رہے ہیں لیکن انہیں کوئی سایہ دیوار تک میسر نہیں، عالمی دہشت گردی کی چلچلاتی دھوپ ان کے وجود کو جھلسا رہی ہے۔ ہر روز کہیں نہ کہیں ان کی عقیدتوں کے مینارے ڈھائے جارہے ہیں اور اب تو ان کی عقیدتوں کے محور مکہ و مدینہ پر بھی چڑھائی کی باتیں ہونے لگی ہیں۔ کبھی رسول مکرم کی ذات پر کیچڑ اچھالی جاتی ہے تو کبھی کتاب مقدس قرآن کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

ابھی چند دہائیوں کی بات ہے جب گوانتاموبے جیل کے قیدیوں کا ایک انٹرویو میڈیا کے ذریعے نشر ہوا تھا، لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوگئے تھے۔ کیمپ میں مسلم قیدیوں کی پہلی بھوک ہڑ تال اس وقت ہوئی تھی جب ایک امریکی اہلکار نے قرآن کے اوراق ٹوائلٹ میں پھینک دیے تھے اور ایک خبر کے مطابق قرآن کے اوراق کو اُسترے سے کاٹا جاتا تھا تاکہ قیدیوں میں ہیجانی کیفیت پیدا ہو۔ ان واقعات کے دہرانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایسی شرمناک حرکتیں نئی نہیں ہیں، یہود و نصاریٰ کی دشمنی تو ازلی ہے۔ ہر دور میں اسلامی شعائر کو ملیامیٹ کرنے حتیٰ کہ خانۂ کعبہ تک ڈھانے کی مذموم حرکتیں کرنے والے نہ جانے کتنے ابرہہ پیدا ہوئے اور جہنم رسید ہوگئے۔ امریکہ کے نئے ابرہہ کی کیا حیثیت ہے۔ افسوس تو صرف یہ ہے کہ آج عالم اسلام میں کوئی ابوطالب و مطلب نہیں۔

جہاں تک کریڈو اور ڈونالڈ ٹرمپ کی بات ہے انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ وٹیکن سٹی نہیں ہیں جہاں پادری تہذیبوں کے تصادم کی تھیوری پیش کرکے عیسائیت کے تابوت میں کیل ٹھونک رہے ہیں۔ یہ انسانی دنیا کا پہلا خانۂ خدا ہے جس کی حفاظت کی ذمہ داری خود اس گھر کے نگہبان نے لی ہے، اگر ابابیل جیسے چھوٹے پرندوں کے ذریعہ سنگریزوں سے ابرہہ کے لشکر کو نیست و نابود کرایا جاسکتا ہے تو امریکہ کو بھی اپنا انجام معلوم ہونا چاہیے۔ ڈونالڈ ٹرمپ کے انتخابی بیانات سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ مغربی ممالک خصوصاً امریکہ جیسی سپر طاقت اسلام اور مسلمانوں سے کس درجہ خائف ہے۔ اس طرح کی شرمناک حرکتیں اور غیر شائستہ بیانات سے یقیناًعام مسلمانوں میں خوف و غصہ پیدا ہوسکتا ہے لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ ان حالات میں بھی مسلم حکمرانوں کی زبانیں بند رہتی ہیں تو ان سے کسی عملی قدم کی ا مید کیسے کی جاسکتی ہے۔ یہ کتنی حیران کن بات ہے کہ عالم اسلام کے وسائل پر مغرب کی گاڑیاں دوڑ رہی ہیں اور خود ان کی گاڑیاں پنکچر ہوئی پڑی ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ عربوں کے درمیان آج کوئی شاہ فیصل نہیں ہے جو مغربی دنیا کو پٹرول کی دھمکی دے کر امریکہ کو حواس باختہ کرسکے۔ آج پوری اسلامی دنیا اسلام کے ازلی دشمنوں کے نرغے میں ہے۔ ’نیل کے ساحل سے لے کر تابہ خاک کاشغر‘ ملت اسلامیہ تباہی کے بدترین دور سے گزر رہی ہے۔ اس کی اصل وجہ یہی ہوسکتی ہے کہ وہ اپنے اصل محور سے ہٹ گئی ہے، اسے نہ تو خدا پر بھروسہ رہا اور نہ خود پر۔ ماضی کے مسلمانوں میں یہ دونوصفات تھیں وہ اللہ کے سوا کسی سے ڈرتے نہیں تھے، ان کی تلواروں کی دھاک قیصر و کسریٰ پر جم چکی تھی، ان کے شوق شہادت اور ذوق جہاد نے زندگی کے مفاہیم بدل دیے تھے۔ مگر افسوس آج قوم میں نہ وہ جذبہ ہے نہ شوق۔ جب تک ماضی کی تابناکیوں اور شعار کو اپنایا نہیں جائے گا ہم پر کریڈ و کبھی ٹرمپ جیسے لوگ اسی طرح دھمکیاں دیتے رہیں گے اور ہم جھیلتے رہیں گے بلکہ اس سے بڑھ کر بدسے بدتر لوگوں اور سنگین سے سنگین حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اسلام اور مسلم دشمنوں نے نہ صرف عرب مسلمانوں کے خلاف سازشوں کا جال پھینک رکھا ہے بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کو پھانسنے اور تباہی کی دلدل میں ڈھکیل دینے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھ رہے ہیں۔ اب اگر ہمیں ان سے بچنا ہے اور عزت کی زندگی گزارنی ہے تو بس اپنے ماضی کی تابناکیوں کی طرف لوٹنا ہوگا، بصورت دیگر ہمیں اسی طرح ذلت و مسکنت کی زندگی گزارنے اور تباہی و بربادی کے گڑھے میں پڑے رہنے سے کوئی نہ نکال سکتا ہے نہ بچا سکتا ہے۔ سوچئے ذرا! جس آسمان کے نیچے دنیا میں دو دو لاکھ کی تعداد رکھنے والی جماعتیں طوفان برپا کیے ہوئے ہیں، عین اسی آسمان کے نیچے ستاون ملکوں کی فوج ہر گوشۂ زمین پر مار کھا رہی ہے، آبروئیں لٹا رہی ہے، تحقیر و تذلیل کا نشانہ بنی ہوئی ہے، گھروں سے بے گھر ہو رہی ہے، قانون اور لاقانونی سے کچلی جارہی ہے، روٹی کے ایک ایک ٹکڑے کے لیے ایمان و ضمیر بیچتی پھر رہی ہے، شکستوں پر شکستیں کھا رہی ہے بلکہ یوں کہیے کہ جینے کے لیے اور سارے جتن کر رہی ہے لیکن ایک نہیں کر رہی ہے تو صرف خدا سے وفاداری۔ جس کے نتیجے میں آج وہ ’ضالین‘ کی سطح سے بھی گر کر ’مغضوب علیہم‘ کے گڑھے میں جاگری ہے۔ اللہ ہم سب کو پکا، سچا مسلمان بننے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *