پاكستان تبدیلی کو قبول کرنے میں ہچکچاہٹ کیوں ہے؟

نئی دہلی: پاکستان میں 25 جولائی کو ہوئے انتخابات میں عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف 116 سیٹوں پر جیت کے ساتھ  سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے. پاکستان تحریک انصاف وہاں گزشتہ تین دہائی سے راج کرنے والی دو سیاسی پارٹیوں، سابق وزیر اعظم نواز شریف کی پاکستان مسلم لیگ (نواز) اور سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے بیٹے بلاول بھٹو کی قیادت والی پاکستان پیپلز پارٹی اور فوج سے مختلف ایک چوتھے متبادل کے طور پر ابھری ہے. لیکن عمران خان اور ان کی پارٹی کی جیت پر پاکستان میں انتخابات ہارنے والی نواز شریف کی پارٹی اور کئی دیگر جماعتوں کے علاوہ بین الاقوامی مبصرین نے بھی سوال کھڑے کیے ہیں.

بی بی سی کی 27 جولائی کی ایک رپورٹ کے مطابق يوروپين یونین کے مبصرین نے کہا ہے کہ پاکستان میں 2018 کا الیکشن 2013 میں ہوئے انتخابات سے بہتر نہیں تھا. يوروپين یونین کے مبصرین نے کہا ہے کہ اس بار کچھ غیرجمہوری طاقتوں نے انتخابی عمل کو متاثر کرنے کی کوشش کی ہے. ان مبصرین نے ووٹنگ کے دوران سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کو پولنگ مرکز کے اندر تعینات کئے جانے کو بھی غیر مناسب قرار دیا ہے. اس سے پہلے 24 جولائی کو یعنی انتخابات سے ایک دن پہلے امریکہ کے نیویارک میں البینی اسٹیٹ یونیورسٹی میں علم سیاسیات کی اسسٹنٹ پروفیسر نیلوفر صدیقی نے بھی پاکستان کے انتخابات “کتنے آزادانہ اور غیرجانبدارانہ؟” کے عنوان سے بی بی سی کے لیے ایک مضمون لکھا ہے. اس میں انہوں نے لکھا ہے کہ غیرجانبدارانہ انتخابات کے پاکستان کے دعوے پر اب سوال اٹھ رہے ہیں. اس کے لیے نواز شریف سمیت کئی لیڈروں کی گرفتاری اور ووٹنگ کے دوران فوج کے قریب پونے چار لاکھ جوانوں کو تعینات کرنے کی دلیل دی گئی ہے. نیلوفر صدیقی نے لکھا ہے کہ پاکستان کے حقوق انسانی کمیشن نے بھی انتخابات میں ہیرا پھیری کی زبردست، جارحانہ اور کھلی کوششوں کا ذکر کیا ہے.

پاکستان کے انتخابات پر شک کا ایک بڑا سبب اس کی سیاسی تاریخ ہے. وہاں کی سیاست میں فوج کا عمل دخل شروع سے رہا ہے. گزشتہ 70 سالوں میں تقریبا آدھے وقت فوج نے وہاں سیدھے طور پر حکومت کی ہے. لیکن اس کے ساتھ ہی کیا یہ بات اہم نہیں ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار مسلسل تیسرا انتخاب ہوا ہے، اس سوال کا جواب دیتے ہوئے پاکستانی امور کے ماہر قمر آغا نے کہا: اگر انتخابات آزادانہ اور غیرجانبدارانہ ہوتے تو بیشک بڑی خوشی کی بات ہوتی لیکن یہاں تو مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کی زیادہ تر سیاسی پارٹیوں کے علاوہ میڈیا بھی انتخابات میں دھاندلی ہونے کی بات کر رہا ہے. غور طلب ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کے چھوٹے بھائی شہباز شریف نے انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے نتائج کو سرے سے مسترد کر دیا ہے. اس سب کے درمیان پاکستان کے الیکشن کمشنر محمد رضا خان نے انتخابات میں کسی بھی قسم کی گڑبڑی کی تردید کی ہے. انہوں نے کہا ہے: ہم نے اپنا کام 100 فیصد درست کیا ہے. ادھر انتخابات میں اپنی پارٹی کی جیت کے بعد اپنے پہلے خطاب میں عمران خان نے کہا ہے کہ اگر اپوزیشن انتخابات میں گڑبڑی کے بارے میں کچھ حقائق کے ساتھ آتا ہے تو وہ اس کی غیر جانبدارانہ جانچ کرانے میں مکمل ساتھ دیں گے.

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *