پانی پر معذوروں کا بھی حق ہے

محمد انیس الرحمٰن خان anis8june@gmail.com
محمد انیس الرحمٰن خان
anis8june@gmail.com

“گھر میں پانی کی پائپ لگی ہے، لیکن پانی نہیں آتا، گھر والوں کی ضروریات پوری کرنے کے لئے دور چشمہ سے میں ہی پانی لاتا ہوں، امی بھی بیمار رہتی ہیں وہ نہیں لاسکتیں،چھوٹی بہن کے بھی پیر سوکھ گئے ہیں وہ سی ٹی ای وی جیسی بیماری کا شکار ہے، اس کا تو چلنا ہی مشکل ہے تو پانی کیسے لاسکتی ہے؟ پاپا بھی زیادہ بوجھ نہیں اُٹھا سکتے ہیں۔ اس لئے 80 فیصد معذوری کے باوجود پانی خود ہی دور قدرتی چشمہ سے لانا پڑتا ہے”۔
درج بالا جملہ اس سہیل احمد کا ہے جس کو ڈاکٹروں نے 80فیصد معذور ہونے کی سند عطا کر رکھی ہے، اس کے باوجود سہیل احمد کی تعریف کرنی ہوگی کہ اس نے اپنی معذوری کو اپنی زندگی گزارنے کا سہارا بنانے کے بجائے اپنی بہتر زندگی کے لئے تعلیم کی طرف توجہ دی ہے اور آج وہ سرحدی ضلع پونچھ کے ڈگری کالج میں بی اے کی تعلیم حاصل کر رہا ہے، جبکہ اس کی بہن اپنی معذوری کے باوجود پونچھ کے گرلس ہائر سکینڈری اسکول شیش محل میں گیارہویں جماعت کی طالبہ ہے، ضعیف و کمزور باپ اور معذور ماں بہن کے سامنے قوت سماعت سے محروم سہیل احمد کو اپنی معذوری کم ہی محسوس ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی تعلیم اور دیگر کاموں کے علاوہ تمام گھر یلو کاموں میں بھی مصروف رہتا ہے۔ خواہ وہ کھانا بنانا ہو یا پانی لانا یا پھر چشمہ پر جاکراپنی بہن کے ساتھ کپڑے ہی دھونا کیوں نہ پڑے۔ پونچھ سے محض 10کلو میٹر کی دوری پر آباد کھنیتر گاؤں کا یہ باشندہ ہر کام کے لئے اپنے آپ کو تیار رکھتا ہے۔ عالمی سطح پر بھی معذوری بڑی تشویش کا مسئلہ بن گئی ہے، کیونکہ دنیاکی کل آبادی کا 15فیصد حصہ معذوری کا شکار ہے۔
جموں یونیورسٹی میں ایم اے کی تعلیم حاصل کرنے میں مصروف نوجوان سماجی کارکن سید بشارت حسین شاہ کہتے ہیں کہ ” ضلع پونچھ میں بڑی تعداد میں معذور پائے جاتے ہیں اور بہت ساری پریشانیوں سے دوچار ہیں،میں بذات خود کئی ایسے معذوروں کو جانتا ہوں،جن کے گھروں میں پینے کے پانی کی پریشانی ہے، ان کو پانی دور دراز سے لانا پڑتا ہے۔ اور کئی ایسے معذور افراد بھی ہیں جو خود پانی کا ایک گلاس پکڑنے سے بھی قاصر ہیں۔ ایسے معذور اپنی ضروریات کو پوری کرنے کے لئے گھر کے دوسرے افراد پر انحصار کرتے ہیں یا گھر والوں کی عدم موجودگی میں خشک ہونٹوں سے اپنی معذوری کو کوستے ہیں۔ اس پہاڑی علاقہ پانی کی بڑی قلت ہے، خاص کر برسات کے موسم میں چشمہ سے پانی لانے میں بہت پریشانی اُٹھانی پڑتی ہے۔یہ تو بس تصور ہی کیا جاسکتا ہے کہ معذوروں کو موسم برسات میں پانی کی کتنی پریشانی ہوتی ہوگی؟”
نیشنل پیس اینڈ ڈیولپمنٹ وائس کے صدر اور سماجی کارکن جناب نظام دین میرؔ کے مطابق”سرحدی ضلع پونچھ کی تمام سرحدیں دیہی علاقوں پر مشتمل ہیں ، جہاں پانی کے لئے پوری طرح عوام قدرتی چشمہ پر ہی انحصار کرتے ہیں، ان علاقوں میں حکومت کی ساری مشنری فیل اور دعویٰ کھوکھلے معلوم ہوتے ہیں ۔ چونکہ یہ پہاڑی اور برفیلا علاقہ ہے اس لئے یہاں کے معذوروں کو آئے دن پریشانیوں سے دوچار ہونا پڑتا ہے، یا پھر وہ پوری طرح دوسروں پر انحصار کرتے ہیں”۔ نظام دین میرؔ وقتاً فوقتاً ان معذوروں کی بہتری کے لئے کسی نہ کسی تنظیم سے منسلک ہوکر کچھ بہتر کرنے کی فکر میں رہتے ہیں ، انہیں تجربات کی روشنی میں وہ مثالوں کے ساتھ اپنی بات رکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ “مدانہ ،دیگوار کے باشندہ خادم حسین ایسے ہی ایک معذور تھے جو اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے پانی کے چشمہ پر گئے جہاں ان کا پیر جمی ہوئی برف پر پڑکر پھسل گیا ، اور پہاڑی کی بلندی سے گرکر ان کی موت ہوگئی۔ وہ دوسری مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ نونہ بانڈی کے ایک معذور بزرگ نور حسن شان کی موت بھی پانی حاصل کرنے کی کوشش میں جاچکی ہے۔ تیسری مثال یہ ہے کہ ہمارے گاؤں کرنی کی سفینہ ناز ایک حاملہ خاتون تھیں ، اس کی بھی موت اپنی ضرورت کے لئے پانی حاصل کرنے کی کوشش میں ابھی کچھ ہی دنوں قبل ہوچکی ہے۔ یہی حال یہاں کے اسکولی بچوں کا بھی ہے، پانی کی پریشانی کی سے صرف تعلیمی نقصان ہی نہیں ہورہا ہے بلکہ ان کے جسم کے قیمتی اعضا بھی ضائع ہورہے ہیں ، اور کبھی کبھی تو ان کو اپنی جان تک گنواں نی پڑجاتی ہے ،

سرحدی ضلع پونچھ کا ایک معذور جوان
سرحدی ضلع پونچھ کا ایک معذور جوان

جس کی طر ف حکومت کو فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے” ۔
منڈی بلاک سے تعلق رکھنے والے معذور سماجی کارکن مولوی فرید کے مطابق”پیر پنجال عوامی ڈولپمنٹ فرنٹ کا ایک وفد میری قیادت میں ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ سے ملاقات کرکے اڑائی کے عوام کو ہونے والی پریشانیوں سے آگاہ کراتے ہوئے بتایا کہ مذکورہ گاؤں میں آج سے 30سال قبل پانی کی پائپ لائین بچھائی گئی تھی جو اب بوسیدہ ہوچکی ہے باوجود اس کے متعلقہ محکمہ کی جانب سے ان کی مرمت نہیں کی جارہی ہے،جس کی وجہ سے عوام کئی کلو میٹر پیدل چل کر پینے کے لئے صاف پانی لاتے ہیں ،جبکہ پانی جمع کرنے کے لئے بنائی گئی ٹینکوں کی بھی مرمت و صفائی نہیں کی ہورہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ موریان اور تاراگڑھ میں واٹر ٹینکوں میں چوہے اور بلیاں مری پڑی ہیں” ۔مولوی فرید کے مطابق ضلع ترقیاتی کمشنر نے وفد کو یقین دلایا کہ ان کی جائز مانگوں کو جلد از جلد پورا کیا جائے گا۔مگر کب کہنا مشکل ہے۔واضح ہو کہ اس علاقے میں مختلف عمر کے معذور افرادکی ایک بڑی تعدا د موجود ہے۔
مینڈھر بلاک میں اپنی شناخت رکھنے والے وقار احمد شاہ کے مطابق “ہمارے علاقے میں زیادہ ترخاندان مشترکہ طور پر آج بھی رہتے ہیں ، ہم لوگوں کے ضمیر آج بھی زندہ ہیں، اس لئے ہم لوگ آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرنے پر یقین رکھتے ہیں، اگر ہمارے معاشرہ میں کوئی معذور افراد ہوتا ہے تو خاندان کے دوسرے لوگ اس کی ہر طرح مدد کرتے ہیں، یہاں تک کہ ان کی زندگی میں روزمرہ کے مسائل کو حل کرتے ہیں اور اگر ضرورت پڑتی ہے تو ان کے لئے پانی کی سہولت بھی مہیا کراتے ہیں”۔
اردو رزنامہ ہند سماچار اور پنچاب کیسری ٹی وی کے صحافی ناظم علی منہاس کہتے ہیں کہ ” مینڈھر کے ہندوپاک سرحدی علاقو ں کے لوگ پانی کی بو ند بو ند کے لئے تر س رہے ہیں، بالاکوٹ، بھر وٹ، سندوٹ اور گردو نو اح کے علاقو ں میں کچھ عرصہ قبل ہو ئی گو لہ با ری سے پانی کی بیشتر پاپئیں ٹوٹ گئی تھی متعلقہ محکمہ مر مت کر نے میں نا کام ہے ۔ 21ویں صدی میں بھی لوگ کئی کلو میٹر کی دوری سے پانی اپنے سروں پر اُ ٹھا کرلا تے ہیں ۔ جبکہ دوسری جا نب حکومت کے نما ئندے اسمبلی میں بھی واٹر سپلا ئی اسکیمو ں کے با رے میں غلط بیانا ت دیتے ہیں ۔ بیشتر واٹر سپلائی سکیموں پر محکمہ نے کام ادھورا چھوڑ دیا ہے جس کے نتیجے میں عوام کو زبردست مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ محکمہ پی ایچ ای کی طرف سے اگرچہ کئی اسکیموں پرکام شروع کیا گیا تھا لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر اُس کام کو ادھورا رکھا گیا ہے جس سے ہزاروں نفوس پر مشتمل آبادی کو ڈیجیٹل انڈیا میں بھی پینے کا صاف پانی میسر نہیں ۔ محکمہ کی طرف سے بار بارا سکیموں کو مکمل کرنے اور عوام تک صاف پانی پہنچانے کے وعدے کئے گئے لیکن زمینی سطح پرکچھ نظر نہیں آتا ۔محکمہ پی ایچ ای کے وزیر نے اسمبلی میں بتا یا کہ مینڈھرمیں صرف30 سے40 ہینڈ پمپ ہی خر اب ہیں ، لیکن مینڈھر کے بیشتر علاقو ں میں ہیڈ پمپ خر اب ہیں ۔40 فیصد کے قریب ہینڈ پمپ ایسے ملیں گئے جن کی رقم تو خزانہ عامرہ سے نکال لی گئی لیکن اُن میں سے پانی کی ایک بوند تک نہیں آتی ۔ بھاٹیدار ، کالابن ، سلو اہ ،دھارگلون، ہر نی اور منکو ٹ وغیر ہ میں ہینڈ پمپ تو ہے لیکن ان سے پانی کی ایک بوند تک نہیں آتی ۔ محکمہ صحت عامہ ان کی جا نب کو ئی بھی تو جہ نہیں دے رہا ہے ۔ جس کی وجہ سے عام لو گو ں کو پر یشانی کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے۔ لوگ پانی کی قیمت ادا کر کے پانی خر یدتے ہیں یا پھر کئی کلو میٹر کی دوری سے اپنے سر پر اُ ٹھا کر لا تے ہیں”۔
راجیہ سبھامیں مرکزی دیہی ترقی کے وزیر نریندر سنگھ تومر نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ”ملک کی تقریباً 66ہزار بستیوں میں پینے کا پانی خراب ہے،اس لئے آرسنک اور فلورائیڈ پر مشتمل پینے کے پانی کو صاف کرنے کے لئے 25ہزار کروڑروپئے کا منصوبہ چلایا جارہا ہے اور اس کے تحت اب تک نو ہزار سے زائد پانی صاف کرنے کے پلانٹ لگائے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2022تک 93 فیصد لوگوں تک پانی پائپ سے پہنچانے کا اہتمام کیا جارہا ہے اور 80فیصد گھروں میں پانی کا کنکشن دستیاب کرایا جائے گا۔ اس کام کے لئے نیتی آیوگ نے 800کروڑ روپئے دیئے ہیں۔ مرکزی وزیر مزید کہتے ہیں کہ ملک میں66ہزار630بستیوں میں پینے کا پانی خراب ہے۔اسے دور کرنے کے لئے پانی کے معیار مشن شروع کیا گیا ہے۔ جس کے تحت 25ہزار کروڑ روپئے ریاستوں کو دیے جائیں گے، منصوبہ کے تحت 760کروڑ روپئے ریاستوں کو دیے جاچکے ہیں، جب کہ ابھی تک 9113ہزار پانی صاف کرنے کے پلانٹ بھی لگائے گئے ہیں ، ایک لاکھ اسکولوں میں بھی پینے کے پانی کو صاف کیا جارہا ہے ۔ ان کے مطابق پینے کے پانی کا مسئلہ ریاستوں کا موضوع ہے اور مرکزقومی دیہی پینے کے پانی کی اسکیم اور دیگر پروگراموں کے ذریعہ ریاستی حکومتوں کو تکنیکی اور مالیاتی مدد دیتا ہے۔ مگر جموں وکشمیر کی ریاستی حکومت تو پہلی اپریل 2017سے بینڈ ،باجا، اور بارات پر پابندی لگاکر خود اپنی پیٹھ تھپتھپانے میں مصروف ہے ،اس کے پاس اتنی مہلت کہاں کہ سرحدی وپہاڑی اضلاع میں موجود معذوروں کی اس بڑی بارات کا دیدار کرسکے،جس میں آئے دن اضافہ ہی ہورہا ہے۔ معذوروں کی اس بارات میں ہر عمر کے باراتی شامل ہو کر حسرت بھری نگاہوں سے اپنے ان سیاسی رہنماؤں کے رحم وکرم کا انتظار کررہے ہیں جو  ضلع ترقیاتی افسران کو ریاست میں ہونے والی شادیوں کے باراتیوں کی گنتی کرنے کا حکم صادرفرمارہے ہیں۔ (چرخہ فیچر)                              نوٹ:۔ درج بالا مضمون این ایف آئی کے ذریعہ دی گئی فلوشپ کے تحت تحریر کیا گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *