پانی کی تلاش میں گم ہوتا بچپن

Anisur Rahman Khan
انیس الرحمن خان

جنت ارضی کشمیر کے سرحدی ضلع پونچھ کی تحصیل مینڈھر کے گاﺅں چھترال کے محلہ نکہ کی دسویں جماعت میں پڑھنے والی باشندہ حسینہ ناز کہتی ہیں کہ “صبح چھ بجے پانی حاصل کرنے چشمہ پر آتے ہیں پھر اسکول جاتے ہیں ، اسکول سے واپس ہوتے ہی پھر چشمہ پر پانی لینے حاضر ہوجاتے ہیں ، اس طرح معمول کے مطابق ہے صبح وشام چشمہ پر حاضری دیتے رہتے ہیں۔ ہمارے گھروں میں پانی کے پائیپ نہیں ہیں، اس لئے ہمیں ہی گھر والوں کی پیاس بجھانی پڑتی ہے۔مگر شادی وغیرہ کے موقعوں پر سارے گھر والے ایک دن قبل سے ہی پانی یکجاکرنے میں لگ جاتے ہیں۔ گھرسے چشمہ تک آنے جانے میں ایک گھنٹہ کا وقت لگتا ہے اور وہاں کھڑے ہوکر پانی بھر نے اور اپنی باری کا انتظار کرنے میں کتنا وقت لگے گا وہ مقرر نہیں ہوتا”۔بارہویں جماعت پاس کرکے وکالت میں داخلہ لینے کی تیاری کررہی رخسار کوثر نے کہا کہ “جہاں تک پانی کا سوال ہے تو پانی صرف ہماری ضرورت ہی نہیں بلکہ ہماری زندگی ہے، ہمیں ہر قدم ہر لمحہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے ، لیکن افسوس آج کے ترقی یافتہ دورمیں جہاں دس قدم کی دوری پر ہینڈ پمپ لگے ہیں ،وہیں کچھ جگہیں ایسی بھی ہیں جنہیں پانی کی ایک ایک بوند کے لئے ترسنا پڑرہا ہے ، حکومت اور متعلقہ محکمہ نے ہمارے علاقے میں ہر جگہ بڑے بڑے پانی کے ٹینک تو بنوادیے ہیں، لیکن انہیں کوئی کیسے اور کب کس طرح سے استعمال کررہا ہے اس بات کی خبر بھی نہیں ہے ، ہمارے گاﺅں چھترال کے محلہ بسا میں لوگ پانی ہینڈ پمپ سے چلچلاتی دھوپ اور سخت گرمی میں لاتے ہیں تو وہیں کچھ گھر ایسے بھی ہےں ،جن کے یہاں لفٹ کا پانی آرام سے گھر میں آتا ہے اور وہ بھی کسی محکمہ کی مہربانی سے نہیں ،بلکہ ان لوگوں نے زور زبردستی ،محنت اور پیسے خرچ کر کے پائپیں لگوائیں ہیں ، اب آپ ہی بتائیں کہ اتنی بدسلوکیاں اور نا انصافیاں ہمارے گاﺅں والوں کے ساتھ کیوں ہورہی ہیں “ایک سوال کے جواب میں وہ مذید کہتی ہیں کہ”جی ہاں بہت ہی زیادہ اثرپڑتا ہے جو طا لب علم ہوتے ہیں انھیں کو پانی لانا پڑتا ہے ، اممی کو گھر کا کام بھی سنبھالنا پڑتا ہے، اس لےے طلبہ وطالبات کو پڑھنے کا وقت بھی نہیں ملتا ، اسکول جانے میں بھی تاخیر ہوجاتی ہے ۔ صحت پر بھی اس کا بہت برا اثر پڑتا ہے ۔ دھوپ میں بڑے بڑے پانی سے بھرے برتن اپنے سروں پر اُٹھاکر لاتے ہیں جس کا پورا اثر ان کی جسمانی ودماغی صحت اور تعلیم پر پڑتا ہے “۔ ضلع پونچھ کی تحصیل حویلی کے تحت ماڈل گاﺅں کھنیتر میں آٹھویں جماعت کے ایک طالب علم مبین بخاری کے مطابق”جب بجلی ہوتی ہے تو لفٹ کا پانی محلے کے تمام گھروں کو سیراب کرتا ہوا آخر میں ہمارے گھر آتا ہے اور اگر بجلی چلی جاتی ہے تو اس سے بھی محرومی ہوجاتی ہے۔ کئی مرتبہ اسکول جانے سے قبل ہینڈ پمپ پر جانا پڑتا ہے جہاں پہلے سے پانی حاصل کرنے والوں کی جماعت اپنی باری کے انتظار میں موجود ہوتی ہے ۔اس لئے ہاتھ منہ دھونے کے لئے نالے پر جانا پڑتا ہے ، جبکہ لڑکیوں کے لئے یہ بھی مشکل بن جاتا ہے ۔ پہلے ہمیشہ پانی آتا تھا ، مگر نالہ میں سیلاب کی وجہ سے پائپوں کے ٹوٹنے کے بعد پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے “۔قابل توجہ امر یہ ہے کہ جہاں پانی کی قدرتی پریشانی ہے اس کے لئے تو وقت درکار ہوسکتا ہے مگرجہاں پانی ،پائپ،لفٹ سسٹم،بجلی ،لائین مین ،سپروائزرسب موجود ہوں اس کو محکمہ کی لاپرواہی نہیں تو اور کیا کہا جاسکتا ہے ۔ ماڈل گاﺅں کے ان پائپوں کو ٹوٹے ہوئے ایک عرصہ گزر چکا ہے ،مگر محکمہ پی ایچ ای کے افسران خواب غفلت میں محو ہیں یامحکمہ و حکومت سے بے خوف ہو کر لاپرواہی سے ہی کام لے رہے ہیں ۔واضح ہو کہ یہ گاﺅں جموں پونچھ شاہراہ پر ضلع ہیڈ کواٹر سے محض دس کلومیٹر کی دوری پرواقع ہے ۔جب مذکورہ گاﺅں کا یہ حال ہے تو سرحدی ضلع کے دیگر مضافات ا ور دور دراز کے گاﺅوں کا قارئین کے لئے قیاس لگانا کچھ زیادہ مشکل نہ ہوگا۔

 ریاست کے دوسرے سرحدی ضلع کپواڑہ سے 20کلومیٹر کی مسافت پر کیرالہ پورہ بلاک کے تحت گورنمنٹ مڈل اسکول گزریال واقع ہے ، یہاں ساتویں جماعت میں پڑھنے والے جعفر بشیر کہتے ہیں کہ “ہمارے اسکول میں پینے کا صاف پانی ہے ہی نہیں ،پانی کا ایک نل یہاں ضرور لگا ہے مگر اساتذہ نے اس کو بھی بند کررکھا ہے ،کیونکہ اس سے جوپانی آرہا ہے گھر میں ہم لوگ ویسا پانی اپنے جانوروں کو بھی نہیں دیتے ۔تو ہم اس پانی کا استعمال کیسے کرسکتے ہیں ؟” مذکورہ اسکول کے استاد عبدالواحید وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ “بچوں کو پینے کے پانی کی بہت مشکلات کا سامنا ہے،ہائی جین (صاف صفائی)کی بات حکومت تو ضرور کررہی ہے ،مگر اسی کے سرکاری اسکول میں ہائی جین کا نام ونشان تک نہیں ہے۔ کیوں کہ یہاں بیت الخلاءکا تو بندوبست ہے ہی نہیں ،بچے کسی طرح رفع حاجت کرتے ہیں ،ہاتھ دھونے کے لئے بھی پانی کا کوئی انتظام نہیں ہے ، محکمہ پی ایچ ای نے جو یہاں نل لگایا ہے اس سے کیچڑ بھرا پانی آتا ہے ۔جس کے پانی سے بچوں کو ہاتھ دھونے میں انفیکشن ہونے کا خطرہ زیادہ ہے ۔یہی پانی اگر بچوں کو پینے کے لئے دیا جائے تو وہ بیمار نہیں پڑجائیں گے ؟ اس لئے ہم نے یہی بہتر سمجھا کہ نل ہی بند کردیا جائے ، صاف پانی نہ ہونے کی وجہ سے ایک دیگر پریشانی یہ آرہی ہے کہ بچوں کو ظہرانہ کے لئے ایک سے دومیل کا سفر طے کر کے اپنے گھر جانا پڑتا ہے ، جس کی وجہ سے تعلیم پر خراب اثرات مرتب ہورہے ہیں “۔

  چند دنوں قبل ہی ریاستی حکومت نے اپنے مربی ومحسن سابق وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید صاحب مرحوم کو یاد کرکے عوام کی خدمت کو ہی اپنی طاقت بنانے کی قسم کھائی ہے، وہیں ریاستی حکومت پر اپنا سایہ فگن کرنے والی مرکزی حکومت نے اپنی دوسالہ کامیابیوں کا جشن منانے اور ایک عرصہ بعدطاقتور مرکزی حکومت کی حصولیابیوں کو شمار کرانے کے لئے بڑے بڑے اشتہارات کا سہارا لیا ہے ۔ دوسری طرف تقریباً پورا ملک پانی کی بوند بوند کے لئے سوکھے ہونٹوں سے کھلے منہ حکومت کے بلند وبالا دعووں کو دیکھ اور سن رہا ہے ۔جب کہ سرحدی بچے ان سب سے لاتعلق ہوکر اپنے گھر والوں کی پیاس بجھانے کے لئے پانی کی جستجو میںاپنابچپن، مستقبل اور حال سب کچھ داﺅ پرلگارہے ہیں ۔یا یوں کہئے کہ زندگی جینے کی لڑائی لڑرہے ہیں کیونکہ جل ہی جیون ہے ، یعنی پانی ہی زندگی ہے۔ (چرخہ فیچرس)

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *