پاکستان الیکشن: عمران خان کی پارٹی سب سے آگے

نیوز ڈیسک
نئی دہلی: پاکستان میں اگلی حکومت کریکٹرسے سیاستداں بنے عمران خان کی قیادت والی پاکستان تحریک انصاف پارٹی بنانے جارہی ہے۔ وہاں کی قومی اسمبلی کی ۲۷۲؍ سیٹوں کے لیے بدھ کو ہوئی ووٹنگ کی گنتی کے رجحانات سے تو یہی پتہ چل رہا ہے۔ پاکستانی میڈیا کے مطابق ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے ، لیکن اس کی رفتار بہت سست ہے۔ پاکستان کے چیف الیکشن کمشنر محمد رضا خان نے بھی تسلیم کیا ہے کہ ووٹوں کی گنتی کا عمل سست ہے ،تاہم اس کی وجہ صرف تکنیکی ہے۔ انہوں نے پاکستانی وقت کے مطابق صبح چار بجے بلائی گئی ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ نتائج کے اعلان میں تاخیر سے لوگوں میں بے چینی ہے ،لیکن ہم انہیں یقین دلاتے ہیں کہ انتخابات صدفیصد غیرجانبداراور صاف شفاف ہوئے ہیں۔ محمد رضا خان نے کہا: ہم نے اپنا کام صد فیصد صحیح کیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ووٹوں کی گنتی بدھ کو پولنگ ختم ہونے کے تھوڑی ہی دیر بعد سبھی بوتھوں پر ہونے لگی تھی ، اور یہ امید کی جارہی تھی کہ رات کو دو بجے سے نتائج کے اعلان کا سلسلہ شروع ہوجائے گا لیکن پاکستان الیکشن کمیشن نے صبح چار بجے پہلے انتخابی نتائج کا اعلان کیا۔ اس دوران پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے رہنما اور بدعنوانی کے الزام میں جیل میں بند سابق وزیر اعظم نواز شریف کے چھوٹے بھائی شہباز شریف نے الیکشن میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ۲۰۱۸ء کے انتخابات کے نتائج کو پوری طرح مسترد کرتے ہیں۔
واضح ہوکہ پاکستان میں قومی اسمبلی کے لیے ہوئے الیکشن میں کم وبیش ۱۰۰؍ پارٹیوں کے ۳۵۴۹؍ امیدوار وں کی قسمت کا فیصلہ ہونا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق اصل مقابلہ پاکستان تحریک انصاف، پاکستان مسلم لیگ (نواز) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان ہے۔ جمعرات کو دوپہر تک آئے انتخابی نتائج کے رجحان کے مطابق عمران خان کی تحریک انصاف پارٹی ۱۱۳؍ سیٹوں پر آگے ہے جبکہ پاکستان مسلم لیگ (نواز ) ۶۴؍ اور سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو اور سابق صدر آصف علی زرداری کے بیٹے بلاول بھٹوکی قیادت والی پاکستان پیپلز پارٹی ۴۳؍ سیٹوں پر آگے تھی۔ پرامن ماحول میں الیکشن کرانے کے لیے بڑے پیمانے پر حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ اس کے لیے بڑی تعداد میں فوجی اہلکاروں کو بھی تعینات کیا گیا تھا۔ البتہ انتخابی عمل میں حفاظتی انتظامات کی ذمہ داری فوج کو دیے جانے کو بہت سے لوگ شک کی نظر سے دیکھ رہے ہیں اور فوج کا نام لیے بغیر الیکشن میں دھاندلی کا الزام لگا رہے ہیں۔ اس بارے میں پاکستانی امور کے ماہر قمر آغا کہتے ہیں کہ ایک دو نہیں بلکہ عمران خان کی تحریک انصاف کو چھوڑ کر پاکستان کی بیشتر پارٹیاں اور وہاں کے میڈیا بھی الیکشن میں دھاندلی کا الزام لگارہے ہیں۔ ویسے بھی پاکستان کی سیاست میں فوج کی مداخلت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *