پاکستان: بلوچستان میں شروع ہوئی سیاسی رسہ کشی

نئی دہلی: پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں حکومت سازی کے سلسلے میں تکرار شروع ہو گئی ہے. پاکستان کے جیو ٹی وی کے مطابق عمران خان کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل جہانگیر خان ترین نے بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما جام کمال کا نام نئے وزیر اعلی کے طور پر پیش کیا ہے. جہانگير ترين کے اس فیصلے پر بلوچستان میں پاکستان تحریک انصاف کے صدر یار محمد رند نے اعتراض جتایا ہے. انہوں نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی اور بلوچستان عوامی پارٹی کے درمیان اتحاد کا معاہدہ ہوا تھا. اس معاہدے کے مطابق بلوچستان میں پی ٹی آئی حکومت بنانے کے لیے بلوچستان عوامی پارٹی کی حمایت کرے گی اور اس کے بدلے میں بلوچستان عوامی پارٹی مرکز میں پی ٹی آئی کی حمایت کرے گی. پاکستان میں 25 جولائی کو ہوئے قومی اسمبلی کے انتخابات میں بلوچستان عوامی پارٹی کے چار امیدواروں نے جیت درج کی ہے۔

غور طلب ہے کہ جہانگير ترين پاکستان کے سب سے امیر رہنماؤں میں سے ایک ہیں اور کہا جاتا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت کے خلاف تحریک انصاف کی جو احتجاجی ریلیاں ہوتی تھیں، اس کے لیے پیسوں کا انتظام جہانگير ترين ہی کرتے تھے. جہانگير ترين پر بدعنوانی کے بھی سنگین الزام لگے ہیں. ان پر الزام ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں انہوں نے وزیر صنعت رہتے ہوئے اپنی کمپنیوں کے نام پر بینکوں سے قرض لیے اور پھر انہیں معاف بھی کر دیا.

جہاگير خان ترين کے فیصلے کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے بلوچستان تحریک انصاف کے صدر یار محمد رند نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا معاہدہ بلوچستان عوامی پارٹی کے ساتھ ہوا تھا، وزیر اعلی کے نام کا اعلان اس کی طرف سے ہونا چاہیے تھا، لیکن ہم لوگوں سے بات چیت کے بغیر ہی جام کمال کے نام کا اعلان کر دیا گیا، جو مناسب نہیں ہے. اس پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے ترجمان فواد چودھری نے کہا ہے کہ سب کچھ رائے مشورہ کے بعد اور پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کی رضامندی سے ہوا ہے. فواد چودھری نے دعوی کیا کہ پارٹی متحد ہے اور اس میں کسی بھی طرح کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *