پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف گرفتار

نئی دہلی: پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم شریف کو جمعہ کی رات لندن سے لاہور پہنچتے ہی پولیس نے ہوائی اڈے پر گرفتار کر لیا- ان دونوں کو پاکستان کی احتساب عدالت نے بدعنوانی کے معاملے میں ۶/ جولائی کو سزا سنائی تھی- عدالت نے پناما پیپر لیکس معاملے میں نواز شریف کو ۱۰/ سال اور مریم شریف کو سات جیل کی سزا سنائی تھی- اس وقت دونوں لندن میں تھے- عدالت کے ذریعہ سزا سنائے جانے کے بعد نواز شریف نے لندن میں ایک پریس کانفرنس کرکے جلد ہی پاکستان پہنچنے کا اعلان کیا تھا- انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان کے لیے وہ ہر قربانی دینے کو تیار ہیں-

نواز شریف اور مریم شریف

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب نواز شریف پر بدعنوانی کا الزام لگا ہے- وہ جب پہلی بار ۱۹۹۰ء میں پاکستان کے وزیر اعظم بنے تھے، تب بھی ان پر بدعنوانی کا الزام لگا تھا۔ اس وقت ان کا صدر پاکستان غلام اسحاق خان سے شدید اختلاف ہوا جس کے نتیجے میں صدر نے قومی اسمبلی ہی تحلیل کر دی تھی- میان محمد نواز شریف پہلی بار ۶/ نومبر ۱۹۹۰ سے ۱۸/ جولائی ۱۹۹۳ تک پاکستان کے وزیر اعظم رہے- اس کے بعد ۱۹۹۷ کے عام انتخابات میں انہیں بڑی تاریخی جیت ملی لیکن ۱۲/ اکتوبر ۱۹۹۹ء کو پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کی حکومت کا تختہ پلٹ کر دیا اور انہیں قید میں ڈال دیا- نواز شریف ۲۰۰۷ء میں وطن واپس لوٹے- بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد ۲۰۰۸ء میں ہوئے الیکشن میں پاکستان پیپلز پارٹی کو جیت ملی لیکن ۲۰۱۳ء کے انتخابات میں نواز شریف کی پارٹی مسلم لیگ نواز نے بڑی جیت حاصل کی اور وہ ۵/ جون ۲۰۱۳ کو ایک بار پھر وزیر اعظم بن گئے-

پناما پیپر لیکس سے دنیا کے کئی ملکوں کی مانند پاکستان میں بھی ہنگامہ ہوا- سامنے آئے دستاویزات میں نواز شریف کا بھی نام تھا- ان پر برطانیہ میں ٹیکس چوری کر کے جائیدد خریدنے کا سنگین الزام لگا- عدالت نے انہیں قصوروار قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم کے عہدہ کے لیے نااہل بتایا- اس کے ساتھ ہی عدالت نے نواز شریف کے خلاف مقدمہ چلانے  کا بھی حکم دیا- اس کے نتیجہ میں نواز شریف نے ۲۸/ جولائی ۲۰۱۷ء کو وزیر اعظم کے عہدے سے استعفی دے دیا- امسال ۶/ جولائی کو پاکستان کی احتساب عدالت نے نواز شریف کو ۱۰/ سال کی سزا سنائی- اسی وجہ سے انہیں پاکستان میں داخل ہوتے ہی جمعہ کو گرفتار کر لیا- پاکستان میں ۲۵/ جولائی کو عام انتخابات ہونے ہیں- نواز شریف کی ملک واپسی کو لوگوں کی جذباتی ہمدردی حاصل کرنے کی ایک منصوبہ بند کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے-

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *