پروفیسر نذیراحمد پر دو روزہ سمینار اختتام پذیر

Nazir Seminar

نئی دہلی، ۸ مئی (پریس ریلیز): غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام فارسی و اردو کے ممتاز نقاد، محقق، دانشور اور غالب انسٹی ٹیوٹ کے سابق چیئرمین پروفیسر نذیراحمد کی علمی وادبی خدمات کے اعتراف میں منعقدہ دو روزہ سمینار بعنوان ”۱۹۴۷ کے بعد فارسی زبان و ادب اور پروفیسر نذیراحمد“ کے آخری دن تین اجلاس کا انعقاد ہوا۔ سمینار کے دوسرے دن کے پہلے اجلاس میں صدارت پروفیسر عبدالقادر جعفری اور پروفیسر ریحانہ خاتون نے کی، جب کہ نظامت کا فریضہ ڈاکٹر سرفراز احمد خان نے انجام دیا۔ پروفیسر آصف نعیم، ڈاکٹر محمود فیاض ہاشمی، ڈاکٹر احتشام الدین اورڈاکٹر نکہت فاطمہ نے اپنے مقالات پیش کیے۔

پروفیسر عبدالقادر جعفری نے صدارتی گفتگو میں کہاکہ تمام مقالات میں پروفیسر نذیر احمد اور فارسی زبان و ادب کے حوالے سے مکمل گفتگو کی گئی ، خصوصاً پروفیسر آصف نعیم کا مقالہ اپنی نوعیت کا منفرد مقالہ تھا۔ پروفیسر ریحانہ خاتون نے بھی موضوع کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو کی۔ تیسرے اجلاس میں پروفیسر شریف حسین قاسمی ، پروفیسر آصف نعیم اور پروفیسر اختر مہدی نے صدارتی فریضے کو انجام دیااور نظامت ڈاکٹر کلیم اصغر نے کی۔ اس سیشن میں پروفیسر عبدالقادرجعفری، پروفیسر علیم اشرف، پروفیسر ریحانہ خاتون اور ڈاکٹر سرفراز احمدخان نے مقالات پیش کیے۔ تیسرے اجلاس کے تمام مقالات موضوع اور معنی کے اعتبار سے کافی اہم تھے جس پر سامعین حضرات نے بھی وقفہ سوالات میں اظہار خیال کیا۔

صدارتی گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر شریف حسین قاسمی نے کہا کہ ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ہم اگر سبھی ایک موضوع پر مقالے پیش کر رہے ہیں تو ضرورت اس بات کی ہے کہ مختلف علمی گوشوں پر بھی روشنی ڈالی جائے، تاکہ سمینار کا حق ادا ہوسکے۔ سمینار کے جہاں کئی مقاصد ہوتے ہیں وہاں ایک مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ ہم مقالات کو آنے والی نسلوں کے لیے ایک دستاویز کی شکل میں پیش کریں۔ انھوں نے مزید کہا کہ پروفیسر نذیر احمد کبھی اعزازات کے متلاشی نہیں رہے، بلکہ انہیں جو اعزازات ملے وہ ان کے لیے نہیں بلکہ ان تمام اعزازات کے لیے اعزاز کی بات تھی۔ نذیر صاحب بڑے صاحب نظر تھے، ان کی ہمیشہ کوشش رہتی تھی کہ غالب انسٹی ٹیوٹ فارسی کے اہم علماء اور ادبا پر مسلسل علمی و تحقیقی کام کرتا رہے اور آج یہ سب کچھ انہی کی خواہشوں کا نتیجہ ہے۔

پروفیسر اختر مہدی نے کہا کہ پروفیسر نذیر احمد علم و ادب کے وہ درخشاں ستارہ تھے، جنہیں جہان فارسی میں کبھی بھلایا نہیں جا سکتا ہے۔ میں غالب انسٹی ٹیوٹ کے ذمہ داران کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اہم موضوع پر سمینار منعقد کیا ہے۔ پروفیسر آصف نعیم نے بھی اپنے مقالے میں پر مغز گفتگو کی۔ تیسرے اور اختتامی اجلاس میں بطور صدر پروفیسر محمد یوسف، ڈاکٹر اخلاق آہن موجود تھے اس اجلاس میں نظامت کا فریضہ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، شعبہ فارسی کی ریسرچ اسکالر رفعت مہدی رضوی نے انجام دیا۔ پروفیسر شریف حسین قاسمی، پروفیسر قمر غفار، ڈاکٹر کلیم اصغر، ڈاکٹر مہتاب جہاں، ڈاکٹر اکبر شاہ اور ڈاکٹر مسرت فاطمہ نے اس اجلاس میں مقالے پیش کیے۔ ان دو دنوں کے سمینار میں تقریباً ۲۵ سے زائد مقالات پیش کیے گئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *