پریم چند روایت کی توسیع کے قائل تھے: ڈاکٹر آفاقی

شعبہ اردو میں پریم چند کی سالگرہ کے موقع سے ادبی نشست کا انعقاد

بنارس: بنارس ہندو یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں بدھ کو منشی پریم چند کے یوم پیدائش کے موقع پر ایک ادبی نشست کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر شرکاء نے پریم چند کی شخصیت اور ان کی تخلیقات پر اظہار خیال کیا۔ اس کڑی میں ادبی نشست کی صدارت کر رہے ڈاکٹر آفتاب احمد آفاقی نے کہا:پریم چند کی کہانیوں سے اردو ادب میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوتا ہے۔ ان سے پہلے اردو افسانوی ادب میں داستان، ناول اور ڈرامہ کا وجود تھا لیکن افسانہ ان کے ساتھ شروع ہوا اور ایک ایسے اسلوب میں شروع ہوا جس کی طرف کسی نے توجہ نہیں دی تھی۔ ادب کو عام قارئین تک پہنچانے اور عام انسانوں کے مسائل سے قارئین کو واقف کرانے کی جو روایت پریم چند نے شروع کی اسے ادب میں ایک نئے اضافے کی صورت میں دیکھنا چاہیے۔

پریم چند کے یوم پیدائش کے موقع پر بنارس ہندو یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں منعقد ادبی نشست کا ایک منظر۔

اس نشست میں پریم چند کی ادبی خدمات اور موجودہ صورت حال میں ان کی اہمیت و معنویت پراظہار خیال کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ پریم چند کی ادبی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے صدرشعبۂ اردو ڈاکٹر آفتاب احمد آفاقی نے کہا کہ پریم چند کی عظمت اس امر میں پوشیدہ ہے کہ انہوں نے اپنی روایت کو جذب کرکے اس کی توسیع میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا فکشن مغربی ادب سے متاثر تو ہے لیکن انہوں نے خود اپنی ذات پر رتن ناتھ سرشار، محمد حسین آزاد اور ربندر ناتھ ٹیگور کے اثرات کا اعتراف کیا ہے۔ مہان خصوصی صدر شعبۂ فارسی ڈاکٹر محمد عقیل نے پریم چند کی عظمت کو عربی و فارسی ادباء کے سیاق میں دیکھنے کی کوشش کی۔ مہمان اعزازی پروفیسر وزیر حسن (صدرشعبۂ عربی ) نے شعبۂ اردو کے صدر اور دستک ادبی فورم کے اراکین کومبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے پروگرام کا انعقاد کثرت سے ہونا چاہیے تاکہ نئی نسل میں پریم چند کی تخلیقات سے روشنی حاصل کرنے کا شعور پیدا ہوسکے۔

اس موقع پر شعبۂ اردو کے ریسرچ اسکالر شمشیر علی نے پریم چند کے فکر و فن کے حوالے سے اپنا مقالہ پیش کیا ۔ شعبہ کے اساتذہ ڈاکٹر احسان حسن، ڈاکٹر محمد قاسم انصاری،  رشی کمار شرما، محترمہ رقیہ بانو اور عبدالسمیع نے پریم چند کی زندگی اور ان کے ادب پر روشنی ڈالی اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔

اس جلسے میں شعبۂ اردو، عربی اور فارسی کے ریسرچ اسکالر اور طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔ جلسے کی نظامت شعبۂ اردو کے استاد اور دستک ادبی فورم کے نگراں ڈاکٹر مشرف علی نے کی جبکہ محترمہ رقیہ بانو نے اظہار تشکر کا فریضہ انجام دیا۔

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *