پٹنہ میں کنھیا کے پروگرام کے دوران ہنگامہ، دو گرفتار

Kanhaiya Kumarin Patna

پٹنہ، یکم مئی (نامہ نگار): جواہر لعل نہرو یونیورسٹی طلبہ یونین کے صدر کنھیا کمار جہاں بھی جاتے ہیں، کوئی نہ کوئی ہنگامہ ضرور ہوتا ہے۔ پچھلے دنوں جب وہ پُنے میں تھے تو ان پر جوتا پھینکا گیا تھا اور ساتھ ہی ہوائی جہاز میں سفر کے دوران ایک آدمی نے ان کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی تھی۔

اب کنھیا کمار اپنے صوبہ بہار کی راجدھانی پٹنہ پہنچے ہیں، جہاں ان کی ملاقات بہار کے سابق وزیر اعلیٰ لال پرساد یادو سے ہوئی، جنھوں نے کنھیا کی خوب خاطر مدارات کی۔ لیکن آج اتوار کے روز دوپہر میں اس وقت ہنگامہ برپا ہو گیا، جب پٹنہ میں ایک پروگرام کے دوران جب ایک آدمی نے کنھیا کو کالا جھنڈا دکھانے کی کوشش کی، تو کنھیا کے حامیوں نے اس شخص کی جم کی پٹائی کر دی۔

اس ہنگامہ کے بعد پولس نے کنھیا کو کالا جھنڈا دکھانے والے دو افراد کو حراست میں لے لیا۔ کنھیا کو یہ کالا جھنڈا اس وقت دکھانے کی کوشش کی گئی، جب وہ پٹنہ کے ایس کے ایم ہال میں تقریر کر رہے تھے۔

یاد رہے کہ جے این یو میں ہنگامہ اور گرفتاری کے بعد کنھیا کمار پہلی بار ہفتہ کے روز بہار پہنچے۔ پٹنہ میں لالو کے علاوہ ان کی ملاقات بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے بھی ہوئی۔ نتیش کمار پہلے بھی کنھیا کی حمایت میں بیان دیتے رہے ہیں۔

کنھیا کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے آر ایس ایس اور بی جے پی خیمہ میں بے چینی کا عالم ہے، کیوں کہ کنھیا اکثر اپنی تقریروں میں آر ایس ایس اور وزیر اعظم مودی کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔

دوسری طرف جے این یو کی اندرونی جانچ کمیٹی نے کنھیا، عمر خالد اور انربن پر جرمانہ اور سسپنشن کا نوٹس جاری کیا ہے۔ لیکن یونیورسٹی انتظامیہ کے اس قدم کی مخالفت کرتے ہوئے کنھیا کے ساتھی یونیورسٹی میں بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ انھوں نے جرمانہ کی رقم بھرنے سے بھی منع کر دیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *