پٹنہ کے آسرا گھرمعاملے میں ہوا سنسنی خیز انکشاف

پٹنہ: ایسا لگتا ہے کہ سرکاری اخراجات سے چل رہے بہار کے ایک دو نہیں بلکہ تقریباً سبھی آسرا گھر وہاں رہنے والوں کے لیے جہنم بن گئے ہیں۔ مظفرپور کے بعد بہار کی راجدھانی کے راجیونگر علاقہ میں واقع آسرا گھر کی دو لڑکیوں کی موت کے سلسلے میں نئے انکشاف نے اس سوچ کو اور بھی تقویت دی ہے۔ واضح ہوکہ آسرا گھر کی دولڑکیوں کی موت ہفتہ کو شام ہی میں ہوگئی تھی لیکن اس کے منتظمین نے پولیس کو اطلاع نہیں دی تھی۔ ابتدا میں یہ بتایا گیا کہ ان لڑکیوں کا پی ایم سی ایچ میں علاج کے دوران انتقال ہوگیا تھا ، لیکن اب اسپتال کے سپرنٹنڈنٹ راجیو رنجن نے کہا ہے کہ دونوں لڑکیوں کی موت پہلے ہی ہوگئی تھی۔ انہیں بعد میں اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ آسرا گھر کی دو لڑکیوں کی موت کے سلسلے میں منتظمین اور اسپتال انتظامیہ کے الگ الگ بیانات سے معاملہ الجھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ مانا جارہا ہے کہ آسرا گھر کے منتظمین نے معاملے کو دبانے کی ناکام کوشش کی ہے۔ اسی لیے انہوں نے دونوں لڑکیوں کی موت کے کم وبیش ۲۴؍ گھنٹے بعد اس کی اطلاع پولیس کو دی۔ راجیو نگر آسرا گھر کے منتظمین نے پولیس کو بتایا کہ دو لڑکیوں کی ہفتہ کی شام کو پی ایم سی ایچ میں علاج کے دوران موت ہوگئی تھی۔ آسراگھرکے منتظمین نے پولیس کو یہ اطلاع اتوار کو دی۔ اسی سے شک ہونے لگا۔ اب اسپتال انتظامیہ کے بیان کے بعد معاملہ اور بھی زیادہ مشتبہ ہوگیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ جمعہ کی صبح کو راجیونگر کے اسی آسرا گھر سے چار لڑکیاں فرار ہونے کی کوشش کررہی تھیں کہ آس پاس کے لوگو ں نے انہیں دیکھ لیا تھا جس کے بعد انہیں واپس لایا گیا تھا۔
Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *