پٹھان کوٹ حملے کی جانچ کے لیے پاکستانی ٹیم کو ملا ہندوستانی ویزا

تصویر: بشکریہ پی ٹی آئی
تصویر: بشکریہ پی ٹی آئی

نئی دہلی، ۲۵ مارچ (ایجنسی): پٹھان کوٹ حملے کی جانچ کے لیے ہندوستان نے آج وہاں کی مشترکہ تفتیشی ٹیم (جے آئی ٹی) کو یہاں آنے کے لیے ویزا جاری کردیا۔ ذرائع کے مطابق، جے آئی ٹی میں شامل پاکستانی افسروں کے نام یوں ہیں: رائے طاہر (کنوینر)، اے آئی جی، پنجاب انسدادِ دہشت گردی محکمہ (سی ٹی ڈی)؛ عظیم ارشد، ڈپٹی ڈائرکٹر جنرل، انٹیلی جنس بیورو لاہور؛ آئی ایس آئی کے لیفٹیننٹ کرنل تنویر احمد؛ ملٹری انٹیلی جنس کے لیفٹیننٹ کرنل عرفان مرزا اور گجرانوالا سی ٹی ڈی تفتیشی افسر شاہد تنویر۔

سشما سوراج نے اس سے قبل بتایا تھا کہ پاکستان کی مشترکہ تفتیشی ٹیم ۲۷ مارچ کو ہندوستان پہنچے گی اور اگلے ہی دن سے اپنا کام شروع کر دے گی۔ تاہم، ذرائع سے ملنے والی خبروں کے مطابق پاکستانی تفتیشی ٹیم کو صرف انھیں جگہوں پر جانے کی اجازت ہوگی، جہاں پر ہندوستانی سیکورٹی دستوں اور جیش محمد کے دہشت گردوں کے بیچ تصادم ہوا تھا۔

حال ہی میں نیپال میں سارک وزرائے خارجہ کی میٹنگ کے بعد پوکھرا میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے سشما سوراج نے کہا تھا کہ ’’کیا یہ ممکن ہے کہ جب میں سرتاج عزیز صاحب سے ملوں، تو پٹھان کوٹ کے ایشو پر بات نہ ہو؟ ہاں، ہم نے پٹھان کوٹ کے ایشو پر بھی بات کی۔ پاکستان کی جے آئی ٹی ۲۷ مارچ کی شب کو ہندوستان پہنچے گی اور اس کے اگلے ہی دن اپنا کام شروع کر دے گی۔‘‘

پاکستانی تفتیشی ٹیم ہندوستانی اہل کاروں کے ساتھ مل کر پٹھان کوٹ حملے کی جانچ کیسے کرے گی، اس پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے میڈیا کو بتایا کہ ’’پاکستان جے آئی ٹی ٹیم پٹھان دہشت گردانہ حملے کی جانچ کرنے کے لیے یہاں ۲۷ مارچ کو آ رہی ہے۔ ان کے یہاں آنے کے بعد ہی جانچ کے طور طریقوں پر غور کیا جائے گا۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ ۲ جنوری کو ۴ سے ۶ دہشت گردوں نے ہندوستانی فضائیہ کے مغربی فضائی کمان کے ایک حصہ پٹھان کوٹ ایئر فورس اسٹیشن پر حملہ کر دیا تھا، جس میں دو سیکورٹی اہل کار شہید ہوئے تھے۔ ہندوستانی سیکورٹی دستوں نے چار دہشت گردوں کو بھی مار گرایا تھا۔ شروع میں ہندوستانی فوج نے ۶ دہشت گردوں کے مارے جانے کا دعویٰ کیا تھا، لیکن فورینسک جانچ میں صرف ۴ دہشت گردوں کی لاش کی تصدیق ہوئی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *