پٹیالہ کورٹ کے باہر وکیلوں نے کی جے این یو طلبہ اور ٹیچر کی پٹائی

سادھوی پراچی نے جے این یو گیٹ پر مورچہ سنبھالا

نئی دہلی، ۱۵ فروری: مختلف ذرائع سے خبریں موصول ہو رہی ہیں کہ تھوڑی دیر پہلے جب کنھیا کمار کو دہلی کے پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں پیشی کے لیے لے جایا جا رہا تھا، تبھی عدالت کے احاطہ میں موجود چند وکیلوں نے وہاں پر موجود جے این یو کے چند طلبہ اور اساتذہ کی پٹائی کردی۔ وہیں دوسری طرف بی جے پی لیڈر سادھوی پراچی جے این یو پہنچ چکی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی طلبہ یونین کے صدر کنہیا کمار کو دہلی پولس کے ذریعہ پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں پیشی کے لیے لے جاتے وقت عدالت کے باہر موجود وکیلوں اور جے این یو کے طلبہ و اساتذہ کے درمیان جھڑپ ہو گئی۔ اس جھڑپ میں نہ صرف یہ کہ ان طلبہ و اساتذہ کو چوٹیں آئی ہیں، بلکہ اس میں میڈیا کے بھی کچھ لوگوں کے ساتھ مارپیٹ کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ ۵۔۱۰ وکیلوں کا ایک گروپ عدالت کے احاطے میں موجود تھا، جو کورٹ سے باہر کھڑے کنھیا کے سپورٹرس کو ’پاکستان‘ کہہ کر پکارنے لگا اور انھیں بھدی بھدی گالیاں بھی دیں۔ یہی نہیں، ان وکیلوں نے ان لوگوں کو پکڑ کر بری طرح مارا بھی۔ جن لوگوں کی پٹائی ہوئی ہے، ان میں جے این یو کے طلبہ و اساتذہ تو تھے ہی، کچھ ایسے لوگ بھی تھے، جن کا جے این یو سے تو کوئی تعلق نہیں ہے، البتہ وہ کنھیا کے دوست ہیں یا پھر ان کا تعلق کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) سے ہے۔
دوسری طرف، جے این یو سے خبریں آ رہی ہیں کہ آج دوپہر بعد تقریباً ۳ بجے بی جے پی کی متنازع لیڈر سادھوی پراچی پہنچ چکی ہیں، جنھوں نے وہاں پہنچتے ہی، سب سے پہلے راہل گاندھی پر حملہ بولا اور سی پی آئی لیڈر ڈی راجہ کی بیٹی کے خلاف بھدی باتیں کیں۔
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ۹ فروری سے ہی جے این یو کو لے ملک بھر میں گھناؤنی سیاست کا سلسلہ جاری ہے۔ ۹ فروری کے ایک پروگرام میں جے این یو کے اندر چند نامعلوم لوگوں پر ملک مخالف نعرے لگانے کا الزام ہے، خود جے این یو طلبہ یونین کے صدر کنھیا کمار کو دہلی پولس نے اسی الزام کے تحت گرفتار کر رکھا ہے۔ ایک طرف جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی نے جے این یو کو ملک مخالف سرگرمیوں کا اڈہ قرار دیا ہے، وہیں اپوزیشن پارٹیاں اسے اظہارِ رائے کی آزادی پر حملہ بتا رہی ہیں۔ دونوں ہی طرف سے جے این یو کو لے کر الزامات و ردِ الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *