پچھلے دروازے سے سیاسی لوٹ کی جمہوریت

پونیہ پرسون باجپئی
پونیہ پرسون باجپئی

ریلوے کے وزیر سریش پربھو ہیں مہاراشٹر کے، لیکن ان کا نیا ٹھکانہ آندھرا پردیش کا ہو گیا۔ شہری ترقی کے وزیر وینكیيا نائیڈو ہیں آندھرا پردیش کے، لیکن اب یہ راجستھان کے ہو گئے۔ وزیر تجارت نرملا سیتا رمن ہیں تو آندھراپردیش کی، لیکن اب کرناٹک کی ہو گئیں۔ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور مختار عباس نقوی ہیں تو یوپی کے، لیکن اب ان کا نیا پتہ جھارکھنڈ کا ہے۔ یعنی چاروں وزیر کو نئے صوبوں میں کرایہ پر گھر لینا ہوگا یا گھر خریدنے ہوں گے، پھر اسی ایڈریس کے مطابق تمام کا ووٹنگ کارڈ بنے گا۔ یعنی جو سوال کبھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو لے کر بی جے پی اٹھاتی تھی کہ جنہیں آسام کا الف تک معلوم نہیں وہ آسام سے راجیہ سبھا میں کس طرح اور کیوں؟ تو سوال صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ وزیر بنے رہے تو گھر کا پتہ اور ٹھکانہ ہی وزیر کا بدل جائے۔ اور وہ اس حالت میں پہنچ جائیں کہ جہاں کے بارے میں معلومات گوگل کی طرف سے آگے نہ ہو۔ تو دوسرا سوال یہ بھی ہے کہ جب ملک کے کسی بھی حصے میں رہنے والا کسی نئے صوبے میں عوام سے کوئی سروکار رکھے بغیر بھی وہاں سے راجیہ سبھا رکن بن کر وزیر بن سکتا ہے تو اس کی جوابدہی ہوتی کیا ہے؟ اور بغیر انتخابات لڑے یا الیکشن ہارنے کے باوجود اگر کسی حکومت میں وزیروں میں فہرست راجیہ سبھا کے ارکان کی زیادہ ہو تو پھر لوک سبھا رکن وزیر بننے کے قابل نہیں ہوتے یا راجیہ سبھا رکن زیادہ قابل ہوتے ہیں، یہ سوال بھی اٹھ سکتا ہے۔ کیونکہ موجودہ وقت میں مودی حکومت کو ہی پرکھیں تو درجن بھر کابینہ وزیر راجیہ سبھا کے رکن ہیں۔ فہرست دیکھیں۔ وزیر خزانہ ارون جیٹلی، وزیر دفاع پاریکر، شہری ترقی کے وزیر وینكيا نائیڈو، وزیر تجارت نرملا سیتا رمن، ریلوے کے وزیر سریش پربھو، انسانی وسائل کی وزیر اسمرتی ایرانی، دیہی ترقی کے وزیر چودھری ویرندر سنگھ، توانائی کے وزیر پيوش گوئل، پٹرولیم وزیر دھرمیندر پردھان، اقلیتی وزیر نجمہ ہیپت اللہ، وزیر مواصلات روی شنکر پرساد، وزیر صحت جے پی نڈا، وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور مختار عباس نقوی، تمام راجیہ سبھا کے رکن اور اہم یہ بھی ہے کہ ارون جیٹلی اور اسمرتی ایرانی گجرات کی نمائندگی کرتے ہیں تو اڑیسہ کے دھرمیندر پردھان بہار کی نمائندگی کرتے ہیں اور نجمہ ہیپت اللہ یوپی کی ہیں، لیکن وہ مدھیہ پردیش کی نمائندگی کرتی ہیں۔ یعنی ہر پانچ برس میں لوک سبھا انتخابات کے ذریعہ اقتدار تبدیل کرنے کا اعلان چاہے ہو، لیکن اقتدار چلانے والے زیادہ تر راجیہ سبھا رکن ہیں، جنہیں عوام پانچ برس کے لئے نہیں بلکہ پارٹیاں ہی اپنی ووٹنگ سے چھ برس کے لیے چنتی ہیں۔ اور پانچ برس بعد ملک میں اقتدار چاہے بدل جائے، لیکن راجیہ سبھا ارکان پر اقتدار تبدیل کرنے کی آنچ نہیں آتی۔ وجہ بھی یہی ہے کہ موجودہ وقت میں کانگریس کے راجیہ سبھا ارکان کی تعداد بی جے پی سے زیادہ ہے لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ یہ کھیل مودی حکومت میں ہی پہلی بار ہوا۔ یاد کیجئے، منموہن حکومت میں ڈیڑھ درجن کابینہ وزیر راجیہ سبھا رکن تھے۔ تو سوال تب بھی سوال اب بھی۔ تو کیا بی جے پی کا بھی كانگریسی كرن ہو چکا ہے، اس لیے عوام کے سامنے یہ سوال ہے کہ اسے کچھ بدلتا نظر نہیں آتا، چاہے سوال رابرٹ واڈرا کا ہو، چاہے سوال یوپی کی بساط کا ہو یا پھر سوال مہنگائی کا ہو۔

تو بات رابرٹ واڈرا سے شروع کریں۔ داماد شری یعنی رابرٹ واڈرا۔ اور رابرٹ پر لوک سبھا انتخابات سے پہلے بی جے پی نے الزام براہ راست لگائے کہ وہ گھوٹالوں کا بادشاہ ہے۔ ملک کا سوداگر ہے۔ کسانوں کا مجرم ہے۔ اور سمجھا یہی گیا کہ دہلی میں اقتدار بدلا نہیں کہ رابرٹ واڈرا جیل میں ہی نظر آئیں گے۔ لیکن مودی حکومت کے دو برس پورے ہونے کے بعد بھی رابرٹ واڈرا کھلم کھلا گھوم رہے ہیں اور الزامات کی فہرست میں ایک نیا نام رابرٹ واڈرا سے الگ کہ لندن میں مبینہ ملکیت ہے۔ اور تعلقات ہتھیاروں کے متنازعہ سوداگر سے ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ رابرٹ واڈرا کی فائل کھلتی کیوں نہیں اور اگر زمین کو لے کر ہریانہ اور راجستھان میں کھلتی ہوئی نظر آتی ہے تو پھر رابرٹ واڈرا کے خلاف قانونی کارروائی ابھی تک شروع ہوئی کیوں نہیں؟ تو کیا قانونی کارروائی ہوئی تو پھر مسئلہ ہی ختم ہو جائے گا۔ كيا ۲۰۱۲ میں دہلی اور آس پاس کی زمینوں کی خریداری میں رابرٹ واڈرا کا نام آیا؟ ہریانہ میں اس وقت کے کانگریسی وزیر اعلی ہڈا پر رابرٹ واڈرا اور ڈی ایل ایف کی زمین خرید میں فائدہ پہنچانے کا الزام لگا۔ راجستھان میں گہلوت حکومت پر واڈرا کے لئے زمین ہتھیانے کا الزام لگا اور رابرٹ واڈرا کے تمام کچھے چٹھے کے ساتھ ۲۷ اپریل ۲۰۱۴ کو روی شنکر پرساد، جے پی نڈا اور بیکانیر سے ممبر پارلیمنٹ ارجن رام میگھوال نے ’داماد شری‘ نام کی ایک آٹھ منٹ کی فلم دکھائی۔ فلم دیکھ کر اور رہنماؤں کے بیان سن کر دو برس پہلے ہی لگا تھا کہ اگر یہ اقتدار میں آ گئے تو پھر رابرٹ واڈرا کا کھیل ختم۔ یعنی تو دو برس پہلے بی جے پی نے کانگریس کے زیر انتظام ریاست حکومتوں پر واڈرا کے ’محل کو کھڑا کرنے میں تعاون‘ دینے کا الزام لگایا تھا۔ لیکن دو برس بعد بھی ہوا کیا؟ اقتدار پلٹ گیا۔ لیڈر وزیر بن گئے اور رابرٹ واڈرا کے خلاف کوئی كارراوائی ہوئی نہیں۔

دوسرا سوال یوپی کی بساط کا۔ جب کانگریس کا اقتدار تھا تب راہل گاندھی یوپی کے دلت کے ساتھ روٹی کھاتے ہوئے نظر آتے تھے۔ اب بی جے پی کا اقتدار ہے تو امت شاہ دلت کے گھر پر ساتھ بیٹھ کر روٹی کھاتے نظر آ رہے ہیں۔ لیکن جس یوپی کو سیاسی طور پر اپنی اپنی لیبارٹری بنا کر كانگریس اور بی جے پی نے سوشل انجینئرنگ شروع کی اس کا ایک سچ یہ بھی ہے کہ یوپی میں دلتوں پر مظالم کے مقدمات میں نہ تو کمی آئی نہ ہی ان کی زندگی میں کوئی تبدیلی آئی، کیونکہ ۲۰۱۰ سے ۲۰۱۵ کے درمیان دلتوں پر مظالم کے سب سے زیادہ کیس یوپی میں ہی درج ہوئے۔ اقتصادی طور پر سب سے پچھڑے یوپی کے ہی دلت رہے۔ تعلیم کے میدان میں یوپی کے ہی دلت بچوں نے سب سے کم اسکول دیکھے۔ تو کیا سیاست اسی کا نام ہے؟ یا ووٹ بینک میں تبدیل ہو چکی قوموں کو لے کر سیاست اسی کا نام ہے؟ ہو جو بھی، لیکن سوشل انجینئرنگ تلے یوپی کو ناپنے کی تیاری ہر کسی کی ایسی ہی ہے اور اب بی جے پی بھی کانگریس کی طرز پر اسی راستے پر چل رہی ہے۔ مثلاً پسماندہ ذات کے ووٹ بینک میں نقب لگانے کے لئے ہی کیشو پرساد موريہ کو یوپی بی جے پی کا صدر بنایا گیا۔ برہمنوں کو لبھانے کے لیے شیو پرتاپ شکلا کو راجیہ سبھا بھیجا گیا۔ ان کے سخت مخالف یوگی آدتیہ ناتھ کو مودی کابینہ میں لانے کی تیاری ہو رہی ہے۔ اسی بيچ ۹۴ ضلع صدر اور شہر صدور میں سے ۴۴ پر پسماندہ اور انتہائی پسماندہ ذات۔ تو ۲۹ برہمن، ۱۰ ٹھاکر، ۹ ویشیہ اور ۴ دلت سماج سے ہیں۔ چوك بی جے پی سمجھ چکی ہے کہ یوپی میں یادو، جاٹو اور مسلم ملا کر  ۳۵ فیصد ہیں، جن کے ووٹ انہیں ملیں گے نہیں تو بی جے پی کی نظر باقی ۶۵ فیصد پر ہے۔ اور بی جے پی کے سوشل انجینئرز کو لگتا ہے پسماندہ اور اعلی ذاتوں کو آرڈیننس کی بنیاد پر یوپی میں بی جے پی کی بہار آ سکتی ہے۔ تو بی جے پی کی نظر نشاد ووٹ بینک سے لے کر راج بھر معاشرے میں نقب لگانے کی ہے۔ جھٹکا مایاوتی کو دینا ہے تو بی جے پی نے بودھ سادھوؤں کی برهم شعور سفر کی شروعات بھی کر دی جو اکتوبر تک چلے گی۔ لیکن یوپی میں بی جے پی کا چہرہ بنے گا کون؟ یہ سوال بی جے پی کی پیشانی پر شکن پیدا کرتا ہے، کیونکہ سوشل انجینئرنگ ووٹ دلا سکتی ہے لیکن یوپی کا چہرہ کس طرح درست ہو یہ فارمولہ کسی کے پاس نہیں ہے، کیونکہ یوپی کا سچ عجیب ہے۔ ۱۲ کروڑ لوگ کھیتی پر ٹکے ہوئے ہیں، ۶ کروڑ لوگ خط افلاس سے نیچے ہیں، ۳ کروڑ دلتوں کو دو وقت کی روٹی مہیا نہیں ہے۔ ۲۰ لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ بے روزگار ہیں، لیکن سب کچھ سیاسی کھیل کی چھاؤں میں اس لئے چھپ جاتا ہے، کیونکہ ملک کو لگتا یہی ہے کہ یوپی جیت لیا تو ملک کو جیت لیا اور دہلی کا راستہ یوپی سے ہو کر ہی نکلتا ہے۔ اس لئے پہلی بار عوام کی جیب سے کیسے حکومت اپنا خزانہ بھر رہی ہے یہ بھی ہر کوئی دیکھ رہا ہے، لیکن آواز کہی نہیں نکلتی۔ یکم جون سے دو وقت کی روٹی کو مہنگا کرنے والی کئی خدمات پر نصف فیصد زراعت ٹیکس لگ جائے گا۔ اس سے سروس ٹیکس ساڑھے چودہ  فیصد سے بڑھ کر ۱۵ فیصد ہو جائے گا۔ یعنی ساری چیزیں مہنگی ہو جائیں گی۔ لیکن سمجھنا یہ بھی ہوگا کہ حکومت زراعت سیس کے ذریعے زراعت اور کسانوں کے منصوبوں کے لئے پانچ ہزار کروڑ روپے جمع کرنا چاہتی ہے، لیکن زراعت سیس سے کمائی تو کہیں زیادہ ہوگی۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے سوچھ بھارت سیس سمیت تمام طرح کے سیس سے حکومت کو ہر سال تقریبا ایک لاکھ ۱۶ ہزار کروڑ روپے کی آمدنی ہو رہی ہے۔ صرف پٹرول- ڈیزل پر سیس سے گزشتہ سال حکومت کو۲۱۰۵۴ کروڑ روپے ملے اور مودی حکومت کے راج میں بالواسطہ ٹیکس کے ذریعے خزانہ بھرنے کا کھیل اس طرح چل رہا ہے کہ ایک طرف سروس ٹیکس سالانہ ۲۵ فیصد کی شرح سے بڑھ رہا ہے۔ تو دوسری طرف سیس اور سروس ٹیکس کے ذریعے بالواسطہ ٹیکس کا بوجھ لوگوں پر اس قدر بڑھ رہا ہے کہ عوام نے گزشتہ برس اپریل میں ۴۷۱۷ کروڑ بالواسطہ ٹیکس دیا تو اس برس اپریل میں ۶۴۳۹۴ کروڑ، یعنی ملک کی پوری سیاست ہی جب عوام کی لوٹ میں لگی ہو تو پھر اقتدار کسی کا بھی ہو، فرق کسے پڑتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *