کانگریس نے آر ایس ایس اور دارالعلوم پر ملک کو بانٹنے کا الزام لگایا

Manish-Tewari

نئی دہلی، ۲ اپریل (نامہ نگار): کانگریس پارٹی نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور دارالعلوم دیوبند پر سطحی سیاست کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ’بھارت ماتا کی جے‘ کے نام پر ملک کو بانٹنے کا کام کر رہے ہیں۔

کانگریس لیڈر منیش تیواری نے کہا کہ ’’وہ تمام لوگ جو ’بھارت ماتا کی جے‘ کے نام پر سطحی سیاست کر رہے ہیں، وہ دراصل ملک کو بانٹنے کا کام کر رہے ہیں۔ دونوں ایک ہی سکہ کے دو رخ ہیں۔‘‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’’جن لوگوں نے سب سے پہلے اس تنازع کو کھڑا کیا، ان کی سخت الفاظ میں مذمت کی جانی چاہیے، اور جن لوگوں نے اس پر فتویٰ جاری کیا ہے کہ ’بھارت ماتا کی جے‘ جیسا نعرہ نہیں لگایا جانا چاہیے، ان کی بھی اتنے ہی سخت الفاظ میں مذمت کی جانی چاہیے۔‘‘

یاد رہے کہ دارالعلوم دیوبند نے کل ایک فتویٰ جاری کرتے ہوئے ’بھارت ماتا کی جے‘ کا نعرہ لگانے کو ناجائز قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ نعرہ اسلام کی بنیاد کے خلاف ہے۔ فتویٰ میں کہا گیا تھا کہ ’’ہندو عقیدہ کے لحاظ سے بھارت ماتا ایک دیوی ہے اور وہ اس کی پوجا کرتے ہیں۔ مسلمانوں کے لیے کسی دیوی کی پوجا کرنا غیر اسلامی فعل ہے۔‘‘

فتویٰ میں مزید کہا گیا تھا کہ ’’ہم اپنے ملک سے محبت کرتے ہیں، لیکن اس کی پوجا نہیں کرتے، اسلام میں صرف ایک اللہ کی عبادت کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔‘‘

چند دنوں قبل آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسدالدین اویسی نے بھی ’بھارت ماتا کی جے‘ کا نعرہ لگانے سے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا تھا کہ ملک کے آئین میں ایسا نعرہ لگانے کے لیے کہیں نہیں کہا گیا ہے۔ اویسی کا یہ بیان دراصل آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت کے اس متنازع بیان کے جواب میں آیا تھا، جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ہندوستان کی نئی نسل کو ’بھارت ماتا کی جے‘ کا نعرہ لگانا سکھایا جانا چاہیے۔

تاہم، دارالعلوم کے کل کے فتویٰ کو خود بعض مسلم تنظیموں نے غیر ضروری قرار دیا ہے۔ لکھنؤ کے معروف اسلامی اسکالر مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے کہا ہے کہ دارالعلوم کو اس پر خاموشی اختیار کرنی چاہیے تھی۔ وہیں جے ڈی یو کے رکن پارلیمنٹ علی انور انصاری اور سماجوادی لیڈر ابو عاصم اعظمی نے بھی ایسے موضوع پر خاموشی اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *