کبیر اجمل کی شاعری ما بعد جدیدیت سے آگے کی شاعری ہے: قاضی افضال حسین

کبیر اجمل کے شعری مجموعہ’’منتشر لمحوں کا نور‘‘ کے چوتھے ایڈیشن کی رسم اجرا

نئی دہلی: شہر بنارس سے تعلق رکھنے والے منفرد لب و لہجہ کے نامور شاعر کبیر اجمل کے شعری مجموعہ ”منتشر لمحوں کا نور” کے چوتھے ایڈیشن مطبوعہ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوس دہلی، کی تقریب رسم اجرا  یہاں بستی حضرت نظام الدین میں واقع غالب اکیڈمی میں منعقد ہوئی۔ اس ادبی تقریب کا اہتمام اعتماد نیشنل فاؤنڈیشن، زینتھ ایجوکیشن اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ اور دہلی اردو اکادمی نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔ تقریب کی صدارت ہمالیہ ڈرگس کے چیئرمین ڈاکٹر سید فاروق نے کی جبکہ مہمانان خصوصی اور مہمانان اعزازی کے طور پر دنیائے علم و ادب سے وابستہ متعدد مقتدر شخصیات کی شرکت نے اس ادبی اجلاس کو بارونق اور باوقار بنایا۔ ایک طرف نئی دہلی میں واقع جامعہ ملیہ اسلامیہ کے صدر شعبۂ اردو پروفیسر شہپر رسول جلوہ افروز ہوئے، وہیں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے پروفیسر قاضی افضال حسین اور پروفیسر قاضی جمال حسین نے بطور خاص اس تقریب میں شرکت کے لیے صحت کی ناسازگاری کے باجود سفر کی صعوبت برداشت کی۔

پروگرام کی ابتدا میں تمام مہمانان کو شال اور گلدستہ پیش کرکے ان کا استقبال کیا گیا ۔ کتاب کی رونمائی کا عمل پروفیسر افضال حسین کے دست مبارک سے انجام پایا۔ رسم اجرا کے بعد پروفیسر قاضی جمال حسین نے کبیر اجمل کی شخصیت پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شخصیت اور ان کی شاعری دونوں ہی حد درجہ باترتیب اورحسن نظم کی آئینہ دار ہیں۔ وہ الفاظ کی بندش ہو یا معنوی ربط یا پھر مصرعوں کے درمیان مفہوم کا تعلق، کبیر اجمل نے کمال فن کا مظاہرہ کیا ہے اور یہ ان کی شاعری کا نمایاں وصف ہے۔

مہمان اعزازی پروفیسر قاضی افضال حسین نے اجمل کی شاعری کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شاعری جدیدیت اور ما بعد جدیدیت سے آگے کی شاعری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جس طرح جدیدیت کو ترسیل کی ناکامی سے پہچانتے تھے، اسی طرح جدیدیت کے بعد کی شاعری کو ترتیب کے حسن سے پہچانتے ہیں۔ کبیر اجمل کے یہاں ترتیب کا یہ حسن ان کی شخصیت سے لے کر ان کی پوری شاعری تک پھیلا ہواہے۔ اس ترتیب کا اندازہ آپ کو تضادات کے استعمال کی کثرت سے بھی ہو سکتا ہے۔ خاک، خون، زمین آسمان جیسے بے شمار الفاظ اپنے دامن میں ایک پوری کائنات لیے ہوئے ہیں۔ تضادات کا یہ اجتماع کبیر اجمل کو ترسیل کی نا کامی نہیں بلکہ اس سے باہر نکلنے کا ہنر سکھاتا ہے۔ یہی خوبی ان کی شاعری کی بنیادی پہچان ہے۔ اچھا ہو کہ ان کی یہ شاعری دور تک پھیلے اور لوگوں تک پہنچے اور لوگ اس کے حسن کو محسوس کرسکیں۔

کبیر اجمل کے شعری مجموعہ ’منتشر لمحوں کا نور‘ کے چوتھے ایڈیشن کی اشاعت پر ان کے احباب انور جمال، مولانا ابولقاسم فاروقی، ڈاکٹراختر، غفران امجد، سلمان فیصل اور شاہنواز احمد وغیرہ نے انہیں مبارک باد پیش کی۔ تقریب رسم اجرا کے بعد مشاعرہ جشن آزادی کا اہتمام ہوا۔

اس پروگرام کی میڈیا کوریج کے لیے فرنچ ٹی وی کے پرسون مجمدار اور اولیور لے ہیلارڈ، نیوز ایم ایکس کے چیف ایڈیٹر شکیل احمد، نموکار چینل کے پون بگھیل، یوٹیوب چینل ہاٹ کیک کے ایڈیٹر جنید احمد اور تیور نیوز سے وابستہ میڈیا شخصیات کی موجودگی نے تقریب کو کامیاب بنانے میں بڑااہم کردار اداکیا۔

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *