کجریوال کا فیصلہ بڑھا سکتا ہے مودی کی پریشانی

نئی دہلی(نامہ نگار): دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال کے تازہ فیصلے سے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ہی ملک کی بیشتر ریاستی حکومتوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اصل میں کجریوال نے حکومت دہلی کے سبھی محکموں میں ملازمین کو ٹھیکہ پر رکھنے کا سلسلہ ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اب حکومت دہلی کے محکموں میں سبھی ملازمین کی براہ راست تقرری ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے حکومت دہلی کے ملازمین کی کم سے کم تنخواہ ۹۵۰۰؍ سے بڑھا کر ۱۴؍ ہزار روپے کرنے کی بات کہی ہے۔ اس سے ریاستی حکومت کے خزانہ پر اضافی بوجھ آئے گا، تاہم کجریوال نے کہا ہے کہ ٹھیکہ پر ملازمین رکھنے کے لیے نجی ایجنسیوں کو جو ۱۰؍ فیصد کمیشن دیے جاتے تھے ، وہ بچ جائیں گے۔ اس کے علاوہ ۱۰؍ فیصد جو جی ایس ٹی کی رقم جاتی تھی ، اس میں میں بھی کمی آئے گی۔ عام آدمی پارٹی کی حکومت نے گزشتہ سال نومبر میں ایڈوائزری لیبر بورڈ کی تشکیل کی تھی۔ اس ۱۳؍ رکنی بورڈ میں دو اراکین اسمبلی بھی شامل ہیں۔ بورڈ نے حکومت سے ملازمین کو ٹھیکیداروں کے ذریعے رکھنے کی بجائے براہ راست ان کی تقرری کرنے کی سفارش کی تھی۔ اسی کی بنیاد پر یہ فیصلہ لیا گیا ہے۔
اروند کجریوال کے اس فیصلے کے بعد وزیر اعظم مودی پر بھی مرکزی حکومت کے مختلف محکموں میں ملازموں کی براہ راست تقرری کے لیے دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اسی طرح ملک کی دیگر ریاستوں بالخصوص بی جے پی اور این ڈی اے کی حکومتوں کو بھی ٹھیکیداری سسٹم ختم کرنے کے لیے کہا جاسکتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ مرکزاور ریاستی حکومتوں کے بیشتر محکموں میں بڑی تعداد میں ملازمین ٹھیکیداروں کے ذریعے بحال ہوئے ہیں اور وہ بہت ساری سرکاری سہولتوں سے محروم بھی ہیں۔ ایسے میں لوک سبھا کے اگلے الیکشن کے پیش نظر مودی حکومت کے علاوہ بی جے پی اور این ڈی اے کی ریاستی حکومتوں کو بھی کجریوال کے نقش قدم پر چلنے کے لیے مجبور ہونا پڑے تو کوئی تعجب کی بات نہیں ہوگی۔

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *