کرناٹک اردو اکادمی کے چیئرمین نے کیے اہم اعلانات

بہت سے ادبا، شعرا مالی اعتبار سے کمزور ہیں جن کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ان کے لیے ماہانہ وظائف جاری کیے جائیں گے۔ جو قلمکار ضعیف و بیمار ہیں اُنہیں علاج معالجہ کے لیے مالی امداد دی جائے گی۔ تقریباً 9 لاکھ روپے کی کتابیں 30 لائبریریوں کو مفت روانہ کی جا رہی ہیں۔  مبین منور

محمد امین نواز

کرناٹک اردو اکادمی کے چیئرمین مبین منور نے اکادمی کے دفتر میں منعقد پریس کانفرنس میں بتایا کہ ابھی کمیٹی کی تشکیل نہیں ہونے کے سبب ادبی سر گرمیاں شروع نہیں ہو پائی ہیں۔ اس کے باوجود بھی ہم نے کئی کام جو پچھلی کمیٹیوں کے نہیں ہوئے تھے، وہ شروع کردیے ہیں۔ کرناٹک ارد و اکادمی کے زیر اہتمام جو کتابیں بر وقت طبع ہو نہیں پائی تھیں ان کی طباعت کا کام شروع ہو گیا ہے۔ تمام کتابیں بہت جلد منظر عام پر آجائیں گی۔ گذشتہ کئی مہینوں سے اردو سیکھو اور سکھاؤ کے مراکز کو مالی اعانت نہیں دی گئی ہے اس پر بھی کام شروع ہو چکا ہے اور چیکس روانہ کیے جا رہے ہیں۔ اکادمی کی لائبریری جو کنڑا بھون میں ہے اس کی حالت بہت ہی خستہ تھی اس کا جائزہ لینے کے بعد اس میں نئی روح پھونکی گئی ہے۔ تقریباً 9 لاکھ روپیوں کی کتابیں 30 لائبریریوں کو مفت روانہ کی جا رہی ہیں اور لائبریری کیلئے عملہ ( اسٹاف) کو بڑھایا جا رہا ہے تاکہ لائبریری کی دیکھ بھال بحسن وخوبی ہو سکے۔ لائبریری کے احاطہ میں ایک اسٹوڈیو بنایا جائے گا اور ویب سائٹ پر تمام تفصیلات کے ساتھ ساتھ شعراء، ادباء وغیرہ کی کتابوں کو ڈیجیٹائز کرنے کا کام شروع کیا جائے گا۔ اس کی ذمہ داری کسی ماہر پیشہ ور کو سونپی جائے گی اور اکادمی کی ایک کمیٹی اس کی سر پرستی کرے گی۔

انہوں نے بتایا کہ کرناٹک اردو اکادمی ماہانہ خبرنامہ، ادیب، صدائے اطفال، سہ ماہی دختران کرناٹک اور اذکار شائع کرتی تھی جس کا سلسلہ کسی سبب سے منقطع ہو گیا تھا، اب اس کی اشاعت از سر نو شروع ہوگی جس کے لیے مجلس ادارات، سرپرست اور معاون مدیر کا انتخاب ہو رہا ہے۔ طباعت کے لیے ٹنڈرس مطلوب ہیں اور قلمکاروں سے ان کی نثری و شعری تخلیقات کے متعلق اخباری اعلان کیا جا چکا ہے جیسے ہی چار کو آپٹ ممبران کا اعلان ہوگا فوراً یہ کام بھی شروع ہو جائے گا۔ سال 2017 کے انعامات کے لیے کتابیں درکار ہیں جس کا اعلان اخبارات کے ذریعہ کر دیا گیا ہے۔سال2017 کے انعامات برائے شاعری، نثر نگاری، قوالی، ڈرامہ، جرنلزم، تصویر کشی اور مجموعی خدمات کا بھی کام شروع ہو گیا ہے۔ مبین منور نے بتایا کہ اردو زبان و ادب کی ترویج کے لیے خطاطی اور کمپیوٹر ٹریننگ میں ڈیزائنینگ، کورل ڈرا، فوٹو شاپ وغیرہ کی ٹریننگ مفت دی جائے گی۔ اسٹائپنڈ دیا جائے گا جس کا پہلا سینٹر اکادمی کی لائبریری بنگلور میں شروع ہو گا۔ کرناٹک میں اردو ادب کی تاریخ پر ہر ضلع سے علیحدہ کتابیں شائع کر نے کے لیے مصنفین کے نام تجویز کیے جا رہے ہیں۔ نئے صحافیوں، ادبا،  شعرا کے لیے علاقائی و ضلعی کارگاہیں کرنے کا منصوبہ بھی بنایا گیا ہے۔ پرائمری اور ثانوی اساتذہ کے لیے تعلقہ جات میں کار گاہیں منعقد ہوں گی۔ اس ضمن میں تمام اضلاع کے ڈی ڈی پی آئی کو خطوط لکھے گئے ہیں اور ان سے او او ڈی اور اساتذہ کی شرکت کے لیے حکم نامے جاری کیے جاچکے ہیں۔ تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنر، ایس پی وغیرہ کو اطلاع دی جاچکی ہے کہ وقتاً فوقتاً جب بھی اردو اکادمی اپنے پروگرام کرے اکادمی کا تعاون کرنا ہوگا۔ کرناٹک بھر کی یونیورسٹیوں کو خطوط لکھ کر جانکاری حاصل کی جا رہی ہے کہ اردو شعبوں کا کیا حال ہے، کتنے افراد اس سے جڑے ہوئے ہیں۔ پوسٹ گریجویٹ کے لیے سمینار اور توسیعی لکچر منعقد ہوں گے۔ ہر اسکول اور ہر کالج سے الگ الگ طلبا و طالبات کو چن کر تمام اضلاع میں ثقافتی پروگرام منعقد کرائے جائیں گے۔ چیئرمین نے بتایا کہ تمام اضلاع میں برائے فروغ اردو شعر و ادب مشاعرے، سمینار، قوالی، بیت بازی، مرثیہ خوانی، نعت خوانی، غزل سرائی اور ڈرامے وغیرہ جیسے پروگرام منعقد ہوں گے جن میں کرناٹک کے فنکاروں کو ترجیح دی جائے گی۔ اردو زبان کی ترویج و ترقی کے لیے انگریزی اسکولوں میں اردو سیکھو اور سکھاؤ سنٹرس کھولے جائیں گے۔ طلباء و طالبات کے لیے اُردو کتابیں فراہم کی جائینگی۔ اس ضمن میں 8 سے10 کا نوینٹ آگے بھی آچکے ہیں۔ اردو مدارس میں لائبریریوں کی صورت حال میں سدھار لانے کے لیے منصوبے بنائے گئے ہیں اور ہر تعلقہ، ضلع میں اُردو لائبریری قائم کی جائے گی۔ دہلی، لکھنو، حیدر آباد وغیرہ کے نامور کتب فروشوں سے اُردو لکھنے پڑھنے سے متعلق فہرست کتب منگوائی جائے گی۔ ابتدائی تعلیم کے اہتمام کے ساتھ بچوں کے ادب سے جُڑی لائبریریز بھی قائم ہوں گی۔ گشتی لائبریری کے ذریعہ تمام اضلاع کے مدارس (اُردو، عربی ) وغیرہ کے لیے رعایتی قیمتوں پرکتابیں دی جائیں گی۔ عربی مدارس کے اساتذہ کے تعاون سے تمام عربی مدارس مساجد کی کمیٹیوں کے ماتحت صبح و شام چلنے والے مدرسوں میں بھی اُردو کی ترویج و ترقی کے لئے متعلقہ احباب سے اپیل کرکے اُردو کے نصاب کو بھی پڑھانے کا اہتمام کیا جائے گا۔دکنی زبان و ادب کی اشاعت و ترویج کی طرف توجہ دی جائے گی جس کی آج ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بہت سے ادبا، شعرا، مالی اعتبار سے کمزور ہیں جن کا ذریعہ آمدنی کوئی نہیں اُن کے لیے ماہانہ وظائف جاری کیے جائیں گے۔ جو قلمکار ضعیف و بیمار ہیں اُنہیں علاج معالجہ کے لیے مالی امداد دی جائے گی۔ اُردو زبان و ادب کے فروغ اور اس کے تحفظ و بقا کی فکر لیے جو انجمنیں ریاست کے مختلف شہروں میں اپنے صرف خاص سے ما ہانہ مشاعرے، سمینار وغیرہ کرتی آرہی ہیں انہیں اُردو سیکھو اور سکھاؤ کی طرز پر 5,000 روپے کی ماہانہ مالی اعانت دی جائے گی۔ (ایسی انجمنوں کو ضروری ہے کہ وہ اپنی سال بھر کی ادبی سر گر میوں سے متعلق اخباری تراشے اکادمی کو پیش کریں)۔ اکادمی کے دفترکے نظام میں بہتری لانے کے لیے وزیر موصوف سے مشورہ ہو رہا ہے اور دفتر میں عنقریب سی۔سی۔ٹی۔وی کمیرہ اور بائیومیٹرک وغیرہ لگائے جائینگے۔ ضلعی سطح پر اساتذہ کو انعامات دیے جائینگے جنہوں نے قابل قدر خدمات انجام دی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں کئی افراد آنڈرائیڈ فون رکھتے ہیں مگر اس کا استعمال نہیں جانتے ایسے حضرات و خواتین کے لیے اردو زبان کے استعمال کے لیے کار گاہ کی جائے گی۔ گذشتہ دو تین دہائیوں سے یہ بات شدّت سے محسوس کی جا رہی ہے کہ ہماری نئی نسل میں شعرا، ادبا، صحافی اور اردو کے دوسرے شعبہ جات سے جڑے ہوئے حضرات کا فقدان ہو گیا ہے۔ اس کمی کو پوری کرنے کے لیے نوجوانوں، بچوں اور خواہش مند حضرات و خواتین کی تربیت کے لیے ضلعی سطح پر کار گاہوں کا اہتمام ہو گا۔ کرناٹک کے قلمکاروں کی ڈائرکٹری پر کام شروع ہو گیا ہے۔ ریاست کرناٹک کے تمام اضلاع کے تاریخی پس منظر میں ماحولیات و ادبیات پر کتابیں تصنیف کی جائیں گی جس کے لیے مصنفین کا انتخاب ہو چکا ہے۔ کرناٹک کی اُردو ادبی تاریخ بھی ترتیب دی جائے گی۔ کنڑا زبان کے ادب کو اردو زبان میں منتقل کیا جا رہا ہے اس ضمن میں کنڑا کے گیان پیٹھ ایوارڈ یافتہ چندر شیکھر کمبار ، کے ایس نثار احمد، ماہر منصور، خلیل مامون وغیرہ سے ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ آج تک اکادمی کا عملہ سرکار سے منظور شدہ نہیں ہے۔ ضروری ہے کہ اس طرف خاص توجہ دی جائے اور اس عملہ کو مستقل طور پر ملازمت دلائی جا ئے۔ ضرورت پڑنے پر عملہ کو بڑھایا جائے گا۔ اس ضمن میں ضروری اقدام کیے جائینگے۔ انہوں نے بتایا کہ آج تک اُردو اکادمی کا کوئی منظم دستورالعمل نہیں ہے جس کو اب تک بن جانا چاہیے تھا۔ ہماری ضرورت کے مطابق وکلا کی منظوری سے ہم نے اکادمی کا ایک چارٹر تیار کر لیا ہے اور اس کو وزیر موصوف کے ذریعہ حکومت کو پیش کیا جائیگا۔ ان سب منصوبہ جات پر عمل پیرائی کے لیے اکادمی کا منظور شدہ بجٹ کم لگتا ہے۔ دہلی جیسی ایک چھوٹی سی ریاست کا بجٹ 12 کروڑ ہے اس کی بہ نسبت کرناٹک ایک بڑی ریاست ہے اس اعتبار سے ہمیں کم از کم 5 کروڑ روپے کی ضرورت ہوگی۔ اس بات سے اقلیتی فلاح کے وزیر کو آگاہ کرایا جائیگا۔ دسمبر کے اواخر یا جنوری کے اول ہفتے میں کرناٹک اُردو اکادمی عالمی اُردو میلہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جو کہ دُنیا بھر میں اپنی مثال آپ ہو گا۔ قومی سطح کے فنکاران اُردو، قلمکاران اُردو کو مدعو کیا جائے گا اور یہ رنگا رنگ پروگرام کرناٹک کے چار زونس میں ہوگا جس میں ہندوستان کی 22 اکادمیوں کے ساتھ بر صغیر کے نامور ادبا، شعرا، صحافی، خواتین و حضرات بھی شامل رہیں گے جسے اردو دنیا فخر کی نگاہوں سے دیکھے گی اور تاریخ میں یہ باب سنہری الفاظ میں لکھا جائے گا۔

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *