کرناٹک میں میڈیکل داخلہ امتحان بنا طلبا کے لیے درد سر

ریاست میں نیٹ کے صرف پانچ مراکز، غریب طلبا کو پریشانیوں کا سامنا، دور دراز کے سفر کے ساتھ ہی رہائش کے انتظام پر ہوگا غیرضروری خرچ

محمد امین نواز
بیدر :
ملک کے میڈیکل اور ڈینٹل کورس میں داخلہ کے لیے سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق لازمی طور پر این ای ای ٹی کا امتحان پاس کرنا ضروری ہے۔ اس کے لیے ملک بھر میں قومی داخلہ اہلیتی امتحان یعنی نیٹ لیا جاتا ہے۔ اس ٹسٹ کے لیے کرناٹک میں صرف پانچ مراکز قائم کیے گئے ہیں جس سے غریب طلباء کو شدید پریشانیوں کا سامنا ہے۔ یہ ان کے لیے اقتصادی نقصان کا سبب بنے گا۔ہزاروں طلباء کو امتحان کے لیے سیکڑوں کلو میٹر کی دوری طے کرنی ہوگی۔ اوپر سے لاج میں رہنے کا خرچہ الگ سے۔ اس کی وجہ سے طلباء اور محکمہ تعلیم میں غم و غصہ ہے ۔دراصل امتحان کا انعقاد کررہے مرکزی ثانوی تعلیمی بورڈ (سی بی ایس ای) نے ریاست میں صرف پانچ امتحانی مراکز کی فہرست جاری کی ہے۔ بنگلور، منگلور، داونگیرے، بیلگاوی اور گُلبرگہ میں امتحان منعقد ہوگا۔اس امتحان کے لیے ۷؍ مئیکی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔

کرناٹک اگزامنیشن اتھارٹی کے اندازے کے مطابق کم از کم۵۰؍ہزار طلباء امتحان میں شامل ہوں گے۔ایسے میں ایک امتحان مرکز پر اوسطاََ۱۰؍ہزار طلباء کا بوجھ ہوگا۔میسور، بیدر اور شیموگہ وغیرہ اضلاع کے طلباء کو امتحانی مراکز پہنچنے کیلئیکم وبیش ۴۰۰؍ کلو میٹر کا سفر طے کرنا ہوگا۔ بعض کے لیے امتحان کے دن ہی گھر لوٹنا ممکن نہیں ہوگااور لاج میں پناہ لینا ہوگا۔محکمۂ تعلیمات کے حکام کا کہنا ہے کہ غریب طلباء کے لیے یہ ایک بڑی مصیبت ہوگی۔ انہیں دوردراز کا سفرکرنے کے علاوہ خوراک اور رہائش گاہ کے لیے الگ سے پیسے خرچ کرنے ہوں گے۔

اتھارٹی کی جانب سے سی ای ٹی کے لیے دیہی علاقوں میں بھی امتحان مرکز ہوتے تھے ۔سی بی ایس ای کو طلباء کی پریشانیوں کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ ہر سال۵۰؍ہزار سے زیادہ طلبا سی ای ٹی کے امتحان میں شامل ہوتے تھے ۔ایسے میں سی بی ایس ای کی جانب سے محض پانچ امتحانی مراکزکا اعلان زیادہ تر طلباء کے لیے پریشانی کا سبب بنے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *